سعودی ۔قطر مناقشہ

سعودی  عرب کی جانب سےقطر کا جغرافیہ بدلنے کی پلاننگ کا آخری مرحلہ شروع ہوا چاہتا ہے جس کے بعد خطے کی تاریخ کا سمت ِ سفرخود بخود بدل جائے گا ۔اس اکھاڑ پچھاڑ کی زد میں دوست دشمن سب آئیں گے۔ قطرکے ساتھ سرحد پر 60 ؍کلو میٹر طویل اور 20 میٹر چوڑی اورگہری نہر کھودی جائے گی اور جس دیئے میں جان ہوگی وہ دیا رہ جائے گا۔ مسلم دنیا کے اتحاد کی کیا اُمید جب بھائی کو دوسرے غرق کرنے پر تُل جائیں۔قطر کو سزا دینے کے لئے اس تازہ اقدام کو دیکھ کر کیا کہا جائے؟مشرق وسطیٰ کے ان دو اہم ہمسایہ برادرممالک سعودی عرب اور قطر میں تنازعہ مزید شدت اختیار کرگیا ہے۔ سعودی حکام نے عزم ظاہر کیا ہے کہ وہ قطر کو جزیرہ بنادیں گے۔ اس مقصد کے لئے نہر کھودی جائے گی۔ جغرافیائی لحاظ سے سعودی عرب سے ارضی جوڑ ہی قطر کو خشکی سے منسلک کرتا ہے، ورنہ دیگر تین اطراف سمندر ہیں۔ اب جب نہر کھودی جائے گی تو قطر جزیرہ بن جائے گا جس کے چاروں اطراف صرف سمندر ہوگا۔سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے سینئر مشیر سعود القحطانی نے ایک ٹوئٹ میں اس منصوبے کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ’’ میں بے صبری سے جزیرہ سلویٰ منصوبے پر عملدرآمد سے متعلق تفیصلات کا انتظار کر رہا ہوں، جو ایک بڑا، تاریخی منصوبہ ہوگا اور جس سے خطے کا جغرافیہ تبدیل ہو جائے گا‘‘۔شاید اس ’’دانشور ِاعظم شاہی مشیر‘‘ کو علم نہیں ہے کہ اگر قطر کو دیوار سے لگانے کا عمل جاری رہا تو خطے کے جغرافیہ کے ساتھ ساتھ کہیں اس کی تاریخ بھی نہ بدل جائے جس کی پیش گوئی مستند احادیث میں سینکڑوں کی تعداد میں دستیاب ہے۔
خلیج کونسل میں شامل قطر کو سعودی عرب، متحدہ عرب اَمارات، مصر اور دیگر حامیان اور شہزادگان نے قطر کے خلاف سخت محاذ کھول رکھا ہے۔ ایک طرف یمن میں مسافر بس تک سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کے لوہے اور بارود سے خاکستر بنادی جاتی ہے جس میں تیس معصوم بچوں کا بھی لحاظ نہیں کیا جاتا ، دوسری جانب دشمنی ورقابت کی رو میں قطر کا ناطقہ بند کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا جارہا ہے۔ قطر کو سعودی سرزمین سے الگ کرنا دونوں ممالک کے درمیان 14 ؍ماہ سے چلنے والے تنازعےمیں کشیدگی میں شدت کا تازہ باب ہے۔قطر کے خلاف فوجی کارروائی کی دھمکیاں بھی ماضی میں ہم دیکھ چکے ہیں۔نفرت کی اس نہر کے بارے میں قبل ازیں اپریل میں سعودی حکومت کی حمایتی ’’سبق نیوز ‘‘نے رپورٹ دی تھی جس میں قطرکے ساتھ سرحد پر 60 ؍کلو میٹر طویل اور 20 میٹر چوڑی گہری نہر کھودنے کے منصوبے کی خبر دی گئی تھی۔اپنے انتقام کی آگ بجھانے کا اندازہ اس امر سے کریئے کہ اس نہر کی کھدائی پر 2 ؍ارب 8 ؍کروڑ ریال ( 75 ؍کروڑ ڈالر) لاگت کا تخمینہ ہے۔ منصوبے میں ایک حصے کو جوہری فضلہ محفوظ کرنے کےلئے بھی رکھا جائے گا۔سعودی عرب اخبار ’’روزنامہ مکہ ‘‘نے جون میں رپورٹ کیا تھا کہ اس منصوبے کی بولی کے لیے نہر کی کھدائی میں مہارت رکھنے والی 5 نامعلوم کمپنیوں کو دعوت دی گئی۔ بولی جیتنے والی کمپنی کا اعلان ستمبر میں متوقع ہے۔
یہ بھی دباؤ ایک اور طریقہ ہے کیونکہ نوجوان امیر ِقطر نے سعودی شاہوں کے سامنےجھکنے سے انکار کردیا تھا ۔ان کی معیشت اور امور مملکت خوش اسلوبی سے بدستور جاری رہے۔ مجوزہ نہر کھودنے کے منصوبہ پر فی الحال سعودی انتظامیہ کی جانب سے خاموشی چھائی ہے، کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا، قطر نے بھی فوری طور پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔قطر کے ساتھ تعلقات کی خرابی کا آغاز جون 2017 میں ہوا۔ اس پر’’ دہشت گردوں کی حمایت‘‘ اور دوحہ کے ایران کے ساتھ ’’قریبی تعلقات‘‘ کا الزام دھرا گیا۔ اسی بات پر سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور مصر نے قطر سے اپنے سفارتی اور تجارتی تعلقات یک قلم ختم کر دئے، یہاں تک کہ بے چارے اونٹ بھی چراگاہ بدر کردئے گئے تھے۔ قطر اپنے ملک میں جگہ نہ ہونے کی بناءپر ہمسائے سعودی عرب کی سرزمین اپنے اونٹ چرانے کے لئے استعمال کرتا تھا۔گزشتہ برس شروع ہونے والے تنازعہ کے بعد سعودی عرب نے زمینی سرحد بند کرنے کے علاوہ سرکاری فضائی کمپنی کو اپنے پڑوسی ممالک کی فضائی حدود استعمال کرنے سے بھی روک دیا تھا۔قطر کا بائیکاٹ کرنے والے ممالک نے اپنے ملکوں سے قطری شہریوں کو نکال باہر کیا تھا۔اجنبیت اور عداوت کی اس گھمبیرصورت حال میںکویت اور امریکہ نے اگرچہ ثالت کا کردار ادا کرتے ہوئے سعودی قطرتنازعے کو سلجھانے کی کوششیں کیں مگر یہ اب تک ناکام رہیں۔آل ِسعود آئینی بادشاہت کا درمیانی راستہ تلاش کرنے کی بجائے اکیسویں صدی میں غیرجانبداری کا نہیں بلکہ مل وفاداری یا سرنڈر پر اصرار کررہے ہیں۔ یہ جب ہمسایہ برادر ملک قطر کو تنہا کر کے اپنا حساب چکانے کے لئے میدان میں نکلے تو بحرین اور متحدہ عرب امارات کے بعد خانہ جنگی کے شکار یمن اور لیبیا کے دو دھڑے ہی ان کے ہم سفر بن سکے۔اردن،اومان، کویت جیسی خالص عرب ریاستیں اس تنازعہ میں مکمل طور پر غیر جانبدار ہیں۔ یہ امر باعث اطمینان ہے کہ امیر کویت اس بحران کو حل کرانے کے لئے ثالث کاکردار ادا کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔ 
قطر کی پچاسی فیصد درآمدات اور خوراک کا انحصار سعودی عرب کے ذریعے ہونے والی تجارت پر تھا۔اسی طرح قطر ائیرویز قطر کی معاشیات میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ متحدہ عرب اَمارات اورسعودی عرب کے فضائی راستے بند کردینے کے بعد قطر ائیرویز کا دنیا کے ساتھ رابطہ ایران کے ذریعے رہ گیا ہے جو خاصا طویل ہے۔ متحدہ عرب اَمارات ،بحرین اور سعودی فضائی حدود بند کرکے قطر کا فضائی محاصرہ بھی مکمل کر چکے تھے ،جس کی وجہ سے قطر میں قحط پڑ سکتا تھا لیکن ایرانی وزارت خوراک نے قطری ریاست کے باشندوں کو امکانی قحط سے بچانے کے لئے جنگی بنیادوں پر منصوبہ بندی شروع کرکے اس بائیکاٹ کو ناکام بنادیا۔قطر قدیم بدوانہ روایات واقدار کے شانہ بشانہ جدت اور ترقی کا شاہ کار ملک ہے، آج یہ عالم ہے کہ قطر کی جائیدادیں دنیا کے امیر اور طاقت ور ترین ممالک میں جابجا ہیں جو بر ہنہ پا چرواہوں کے شان و شوکت کو بڑھارہی ہیں۔ جون میں امریکی 102منزلہ عمارت’ ’ایمپائر سٹیٹ بلڈنگ‘ ‘پر قطرکا جھنڈا لہراتا تھا۔ اس عمارت میں قطرکی شراکت داری بھی ہے۔
دولت وثروت کی فروانی سے قطر کا عالمی اثر و رسوخ بھی تیزی سے بڑھا جو ہمسایوں کیلئے گہری تکلیف کا باعث بنا۔ مشرق وسطیٰ میں سب سے بڑا امریکی فوجی اڈہ اس کی سرزمین پر قائم ہے‘سعودی عرب، اَمارات اور بائیکاٹ میں ان کے حامی مصراور بحرین کے نزدیک دولت کے خمارمیں مبتلا قطر کو اس کی اوقات یاد د لانا ضروری ہے۔ تین طاقت ور، امیر اور قوت رکھنے والے امراءمیں یہ تنازعہ وقت کے ساتھ گھمبیر ہوتا جا رہا ہے۔ ان تین متحارب کرداروں کا تعارف ملاحظہ ہو:
33 ؍سال کا سعودی ولی عہد شہزادہ محمد پہلے نمبر پر ہے ۔ اپنے معاشرے کی ’’اصلاح‘‘( مغربی نقطہ ٔ نگاہ سے) اور سعودی معیشت کی جدید خطوط پر ترقی کیلئے سرگرم ہے۔ پانچ سو ارب ڈالر کی لاگت سے بحر احمر پر نئے شہر کی تعمیر شروع ہوگئی ہے، جسے روبوٹس چلائیں گے۔ ابوظہبی کا عقاب صفت ولی عہد چھپن سالہ شیخ محمد بن زید النہیان ان کا بھرپور حامی ہے جو طاقت ور فوج تیار کر رہا ہے اور ایران کے خلاف سعودی عرب کی گہری رقابت میں ساجھے دار ہے۔ یہ دونوں شہزادے تمیم المجد کے مقابلے میں صف آرا ہیں۔ ہمسایہ شہزادوں کے برعکس تمیم المجدخلیج میں نمایاں باصلاحیت شخصیت تصور ہوتے ہیں۔ ان کی شخصیت میں سفارتی رنگ ڈھنگ جھلکتا ہے، اس کی وجہ سینڈھرسٹ کا اعلیٰ فوجی تعلیمی ادارہ ہے۔ان کے والد بھی اسی ادارہ سے فارغ التحصیل تھے۔ الثانی اور ان کے والد سعودی عرب کی ضعیف العمر قیادت سے دور کی بھی مماثلت نہیں رکھتے ۔ الثانی کا انداز کار اور مزاج ہمسایوں کی سخت گیریت کے قطعی برعکس ہے۔ تمیم المجدکی شخصیت کے یہی جوہر حریف اپنے لئے خطرہ تصور کرتے ہیں۔ تین شہزادوں کے بیچ مخاصمت کی کہانی کسی ’’عمران سیریز‘‘ سے کم نہیں جس میں سائبرجاسوسی، پراپیگنڈہ، محلاتی سازشیں اور صحرائی پرخطر مہم جوئی کے سب رنگ موجود ہیں۔سلطان عالی شان کے نام سے پکارے جانے والے تمیم المجد آج بھی پُرعزم ہیں۔ عام خیال یہ تھا کہ قطر چند دنوں میں سرنگوں ہو جائے گا مگر یہ آج تک تو نہیں ہو سکا، حالانکہ فضائی حدود بند ہوئیں تو وہمِ باطل تھا کہ قطر کا بین الاقوامی ہوائی اڈہ ویران ہو جائے گا۔ طیاروں کے راستے تبدیل ہوگئے۔یہ کالم نگار گزشتہ مہینوں میں سوئزرلینڈ جاتے اور آتے ہوئے دوبار دوحہ آیا گیا اور دیکھا کہ محاصرے اور فضائی حدود کی بندشوں کے باوجود قطر کی رونقیں عروج پر تھیں۔ سعودی عرب سے منسلک چالیس میل طویل صحرائی راستہ مسدود ہوگیا۔ انسان تو انسان اونٹ بھی ’’حجاز بدر‘‘ قرارپائے۔ قطرکو نشانۂ ملامت بنانے کے پیچھے صرف ایران کو نشانہ بنانے کی ایک وجہ نہیں، کئی اور کہانیاں بھی ہیں۔’’ دہشت گردی ‘‘کی معاونت، سرپرستی اور پشت بانی کا واویلا روایتی پراپیگنڈے کی ضروریات پوری کرنے کیلئے ضروری ہے لیکن اصل حقائق روایتی عرب رقابت میں چھپے ہیں۔ ذرائع ابلاغ میں مغربی معیار اور ساکھ میں ہم پلہ الجزیرہ ٹی وی کے ساتھ قطری اونٹوں سے بُرا سلوک روا رکھاگیا۔ عرب دنیا کے اس منفرد میڈیا ہاؤس پر 2011ءکی ’’عرب بہار‘‘ کی چنگاریاںسلگانے کا بھی الزام عائد کردیاگیا۔قطر ی سفیر سقربن مبارک المنصوری نے بہت دن پہلے اس کالم نگار سے گفتگو کرتے ہوئے ’’عرب بھائیوں‘‘کے جارحانہ رویوں پر اظہار تاسف کرتے ہوئے بتایا تھا کہ مشرق وسطیٰ صرف سیاسی اعتبار سے مختلف ریاستوں میں بٹا ہوا ہے جب کہ ہمارے قبائل قطر سے کویت تک پھیلے ہوئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان کا المنصوری قبیلہ سارے خطے میں آباد ہے جس کو ہزاروں سال کی تاریخ میں پہلی بار تقسیم کردیا گیا ہے ۔یہ غیر فطری تقسیم زیادہ دیر برقرار نہیں رہ سکتی۔انہوں نے بتایا کہ ہم تو سعودی عرب کے ساتھ معاشی یک جہتی کی طرف بڑھ رہے تھے کہ محاصرہ کردیا گیا۔قطر کو سزا دینے کے لئے جاری بائیکاٹ اور محاصرے کو ایک برس کب کا بیت چکا ہے۔ یہ صرف قطر کا مسئلہ نہیں بلکہ پورا مشرق وسطیٰ آگ میں جھلس رہا ہے۔ نت نئے بحرانوں سے دوچار مشرق وسطیٰ اپنے اتحاد واتفاق کی روایات سے گویاہاتھ دھو چکا ہے۔ رواں ماہ ستمبر میں متوقع امریکہ خلیج کانفرنس میں قطر ی بحران کے حل کی نئی امیدیں بندھ رہی ہیں لیکن جن ہاتھوں نے الاؤ بھڑکایا ہو، وہ پانی کی پھوار کیوں کر بنیں گے؟ خود فریبی کی بھی کوئی حد ہوتی ہے۔اصل قصہ’’ دہشت گردی‘‘ نہیں، نوجوان تمیم المجد کو اقتدار سے ہٹانا ہے جس کے لئے جاری محاصرے کی شدت کو بڑھانے کے لئے نفرت کی گہری نہر کھودی جارہی ہے ۔اس سے قطر ی ریاست جزیرے میں بدل جائے گی ،جغرافیہ بدلے گا تو تاریخ خود بخود نئے راستے پر چل پڑے گی اور نئے زمینی حقائق کا یہ منہ زور دھارا سب کچھ بدل کر رکھ دے گا اور سب اس کی لپیٹ میں آجائیں گے۔
