سعودی عرب و مصر کو جوہری توانائی سے بجلی تیاری میں مدد دے رہے ہیں:عالمی ادارہ

نیویارک //اقوام متحدہ کے تحت جوہری توانائی کے عالمی ادارے (آئی اے ای اے) کے سربراہ رافیل گروسی نے سعودی عرب میں ایک کانفرنس میں بتایا ہے کہ ان کی ایجنسی مصر اور سعودی عرب کو جوہری توانائی سے بجلی کی تیاری میں مدد دینے کے لیے اقدامات کررہی ہے۔سعودی عرب کے وزیرتوانائی شہزادہ عبدالعزیزبن سلمان نے اس سے قبل 12جنوری کو الریاض میں منعقدہ مستقبل معدنیات کانفرنس کو بتایا تھا کہ ہمارے پاس یورینیم کے وسیع ذخائرموجود ہیں،انھیں ہم جوہری توانائی سے بجلی کی تیاری کے پروگرام میں استعمال کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔سعودی عرب نے ایک دہائی سے زیادہ عرصہ قبل یہ عندیہ دیا تھا کہ وہ جوہری توانائی سے بجلی پیدا کرنے کے پروگرام پرغورکررہا ہے لیکن اس نے ابھی تک کوئی جوہری پلانٹ تعمیرنہیں کیا ہے۔ شہزادہ عبدالعزیز نے کانفرنس میں کہا کہ سعودی عرب یورینیم کو جوہری توانائی کی تیاری اور ترقی میں استعمال کرے گا۔انھوں نے کہا تھا کہ ہمارے پاس یورینیم کی بھاری مقدار موجود ہے۔ہم اس سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں،ہم اسے انتہائی شفاف طریقے سے استعمال کریں گے اوراپنے شراکت داروں کو سامنے لاتے رہیں گے۔انھوں نے کہا کہ سعودی عرب جلد ہی اپنی توانائی کی حکمت عملی شائع کرے گا اور وہ گرین ہائیڈروجن کا سب سے سستا پروڈیوسر بننے کے لیے اچھی طرح تیار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارا کاروباری ماڈل ہمیں ایسا کرنے کے قابل بنائے گا۔ہم ہرموقع اور ہرٹیکنالوجی کو اختیار کرنے کے لیے بہت کھلے ہیں۔خلیج میں سب سے بڑی کان کنی کرنے والی کمپنی سعودی عرب مائننگ کمپنی (معدن) بھی بیرون ملک سرمایہ کاری کے لیے ایک ذیلی ادارہ تشکیل دے گی۔انھوں نے کہا کہ ہم دوراندیشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے معدنیات میں اپنے چیمپئن ’معدن‘ کے ذریعے مل کرکام کریں گے۔