سعودی حکمران۔۔۔۔ قسط 2

1932ء میں شاہ عبدالعزیز نے سعودی عرب کی بنیاد ڈالی اوراس وقت سے اب تک ملک میں خاندانی بادشاہت قائم ہے اورملک میں اختلاف رائے کے اظہارکوبرداشت نہیں کیاجاتا۔شہزادہ ترکی بن بندرسعودی پولیس میں اہم مقام رکھتے تھے اورسعودی خاندان پرنظررکھناان کی ذمہ داری تھی لیکن وراثت کے معاملے پرجھگڑے کی وجہ سے ان کوجیل جاناپڑاجہاں سے انھیں 2012 میں رہائی ملی۔ رہائی کے فوراً بعد وہ پیرس چلے گئے جہاں سے انھوں نے انٹرنیٹ پریوٹیوب کی ویب سائٹ پر سعودی عرب میں تبدیلیوں کی مطالبے کی ویڈیوزشائع کرنا شروع کردیں۔سعودی حکومت نے ان کے خلاف بھی ویساہی کرنے کی کوشش کی جیساشہزادہ سلطان بن ترکی کے ساتھ کیاتھا۔وزارتِ داخلہ کے نائب وزیراحمدال سالم نے جب شہزادہ ترکی بن بندرکوواپس بلانے کیلئے فون کیاتوشہزادے نے وہ گفتگوریکارڈکرلی اوراسے انٹرنیٹ پرجاری کردیا۔اس گفتگومیں احمد ال سالم کہتے ہیں’’ہم سب آپ کی واپسی کاانتظارکررہے ہیں،خداآپ کابھلاکرے‘‘۔جواب میں شہزادہ ترکی بن بندرنے کہا:میری واپسی کاانتظار؟ تو ان سب خطوط کے بارے میں کیاکہو گے جومجھے بھیجے اورجن میں لکھا ہواتھاکہ میں فاحشہ کی اولادہوں اورتم لوگ مجھے بھی ویسے ہی گھسیٹ کر لے جاؤگے جیسے شہزادہ سلطان بن ترکی کولے گئے تھے۔اس پرنائب وزیر نے جواب دیا:’’آپ کوکوئی ہاتھ نہیں لگائے گا۔میں آپ کابھائی ہوں‘‘۔شہزادہ ترکی بن بندرنے جواب دیا: نہیں، یہ خط تمہاری طرف سے ہیں۔ وزارت داخلہ نے یہ خط بھیجے ہیں۔شہزادہ ترکی بن بندرجولائی 2015 تک ویڈیوزشائع کرتے رہے لیکن اسی سال وہ غائب ہوگئے۔اُن کے دوست اوربلاگروائیل الخلف نے بتایا’’وہ مجھے ہرایک یادوماہ بعدفون کیاکرتے تھےلیکن پھروہ کوئی چارپانچ مہینے کیلئے غائب ہوگئے جس سے مجھے شک پڑا۔پھرمیں نے سعودی عرب میں ایک اعلیٰ افسرسے سناکہ شہزادہ ترکی ان کے پاس ہیں۔جس سے یہ ثابت ہوتاہے کہ انھیں اغوا کرکے وہاں لے جایاگیاہے‘‘۔ شہزادہ ترکی کے بارے میں خبروں کی تلاش میں مجھے مراکش کے ایک اخبارمیں خبرملی جس میں لکھاتھاکہ وہ مراکش کے دورے کے بعد واپس فرانس جانے والے تھے جب انھیں گرفتار کرلیاگیااوروہاں سے سعودی عرب بھیج دیاگیا۔ابھی تک یقین سے نہیں کہاجا سکتاکہ شہزادہ ترکی بن بندرکے ساتھ ہواکیاہے لیکن اپنی گمشدگی سے پہلے انہوں نے اپنے دوست بلاگروائیل الخلف کواپنی کتاب دی تھی اوراس میں ایک نوٹ درج کیا تھا۔’’میرے عزیزوائیل!یہ بیان تم صرف اس صورت میں شائع کرنااگرمیں اغواہوجاؤں یاقتل کردیاجاؤں۔ مجھے یقین ہے کہ یاتو مجھے اغواکرلیاجائے گایاماردیاجائے گااورمجھے یہ بھی معلوم ہے کہ وہ لوگ کس طرح میرے اورسعودی عوام کے حقوق غضب کرتے ہیں‘‘۔اسی اثناءمیں جب شہزادہ ترکی کواغواکیاگیاتھا،ایک اورسعودی شہزادے سعودبن سیف کوبھی اٹھا لیاگیا۔شہزادہ سعودبن سیف جنہیں یورپ کے کسینواورپرتعیش ہوٹلوں سے رغبت تھی،انہوں نے 2014 میں سعودی شاہی خاندان کے خلاف تنقیدی ٹویٹس کرناشروع کیں۔انہوں نے ان سعودی افسران کے خلاف کاروائی کرنے کامطالبہ کیا جنہوں نے مصرکے صدرمحمد مرسی کاتختہ الٹنے میں مدد کی تھی۔اس کے بعدستمبر2015میں معاملات مزید سرگرم ہوگئے جب شہزادہ سعودبن سیف نے ایک نامعلوم سعودی شہزادے کے اس خط کی برملاحمایت کی جس میں سعودی شاہ سلمان کی حکومت گرانے کامطالبہ کیاگیاتھا۔شہزادہ سعودشاہی خاندان کے واحدفردتھے جنہوں نے اس مطالبے کی حمایت کی تھی جسے غداری تصور کیاجاتا ہے۔میں اپنی قوم مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ اس خط کے موادکو لےکرحکومت پردباؤڈالیں۔اس ٹویٹ کے بعدان کااکاؤنٹ خاموش ہوگیا۔
2013میں جرمنی بھاگ جانے والے سعودی حکومت کے ایک اور مخالف شہزادے خالد بن فرحان کاخیال ہے کہ شہزادہ سعود بن سیف کودھوکے سے اٹلی کے شہر میلان سے روم بلایاگیا۔ میلان میں ان کوایک پرائیوٹ جہازمیں سوارکرایاگیاجس کی منزل روم تھی لیکن وہ روم کے بجائے ریاض میں جاکراُترا۔ سعودی خفیہ اداروں نے یہ اس پورے پلان کی منصوبہ بندی کی تھی۔اب شہزادہ سعودکاوہی مقدر ہے جو شہزادہ ترکی بن بندرکاہے یعنی باقی ساری عمرجیل میں قید۔شہزادہ سلطان بن ترکی بن عبدالعزیزکیونکہ شاہی خاندان میں اونچے درجے پرہیں،اس لیے انہیں جیل سے نکال کرگھرمیں نظربندکیاجاتارہا کیونکہ ان کی طبیعت مسلسل خراب ہوتی جارہی تھی تو2010 میں شاہی خاندان نے انھیں امریکی شہربوسٹن میں علاج کی غرض سے جانے کی اجازت دے دی ۔ وہاں پہنچتے ہی انہوں نے جوکام کیااس سے سعودی حکمرانوں میں سنسنی کی لہردوڑ گئی ہوگی۔امریکاپہنچتے ہی شہزادہ سلطان نے وہاں کی عدالت میں فوجداری مقدمہ درج کرایا جس میں انہوں نے شہزادہ عبدالعزیزاورشیخ صالح ال شیخ پر2003میں انہیں اغواکیلئے موردالزام ٹھہرایا۔شہزادہ سلطان بن ترکی بن عبدالعزیزکے امریکی وکیل کلائیڈ برگ سٹریسر نے ریاض کے کنگ فہد ہسپتال سے شہزادہ سلطان کے طبی ریکارڈ حاصل کیے جن سے یہ ظاہرہوتاتھاکہ ان کے منہ میں سانس لینے کیلئے ٹیوب ڈالی گئی تھی اوران کے اندرونی اعضا کے معائنے سے یہ ظاہر ہوتاتھاکہ ان پرحملہ کیاگیاجس سے وہ زخمی ہوئے تھے۔یہ پہلاموقع تھا جب سعودی شاہی خاندان کے کسی فردنے شاہی خاندان کے ایک اورفردپرمغربی ملک میں مقدمہ درج کیاہو لیکن وکیل کلائیڈ برگ سٹریسر کے مطابق سوئس حکام نے اس مقدمے پرکاروائی کرنے میں کوئی دلچسپی ظاہر نہیں کی۔اس کیس میں اب تک کچھ بھی نہیں ہواہے۔کسی نے یہ معلوم نہیں کیاکہ ائرپورٹ پرکیاہوا تھا؟جہازکے پائلٹ کون تھے؟جہازکافلائٹ پلان کیاتھا؟یہ کاروائی سوئس سرزمین پرہوئی تھی لیکن ان کی جانب سے کوئی سوالات نہیں کیے گئے ہیں۔اس سے یہ پتہ نہیں چلتاہے کہ یہ سعودی بادشاہ کااثرورسوخ ہے یاپھران قوتوں کاجوان کی حفاظت کےمنہ مانگے دام موصول کرتے ہیں۔ جنوری 2016 میں شہزادہ سلطان پیرس کے ایک ہوٹل میں مقیم تھے جب انھیں شہزادہ سعود بن سیف کی طرح جھانسے میں لایاگیا۔وہ اپنے والد سے ملنے کیلئے مصرجاناچاہتے تھے اورپیرس میں سعودی سفارت خانے نے انہیں اوران کے ساتھ کام کرنے والے افراد،بشمول ان کے ڈاکٹر اور سیکورٹی اہل کارکوجہازکی پیش کش کی۔2003میں ہونے والے واقعہ کے باوجود حیران کن طور پر شہزادہ سلطان نے یہ پیش کش قبول کرلی۔ان کے ساتھ جانے والے افرادنے اس واقعہ کی یوں منظر کشی کی ہے کہ ہم جہازکے قریب پہنچے تواس پرسعودی عرب درج تھا۔ہمیں کچھ عجیب سا لگا کیونکہ جہازکاتمام عملہ مردوں پرمشتمل تھا۔جہازجب محو پروازہواتواس کی منزل قاہرہ تھی لیکن دوگھنٹے بعدجہازمیں لگی سکرین بندہوگئیں۔ شہزادہ سلطان کے سٹاف کے مطابق وہ جہازمیں اپنے کیبن میں سورہے تھے لیکن لینڈنگ سے ایک گھنٹہ پہلے وہ جاگ گئے اورجب کھڑکی سے نیچے دیکھاتوپریشان ہوگئے۔جیسے ہی ان کواوران کے سٹاف کواندازہ ہوا کہ وہ مصر کے بجائے سعودی عرب لینڈ کرنے والے ہیں ،انھوں نے شورمچاناشروع کردیا۔ہم نے کھڑ کی سے نیچے دیکھاتوہمیں رائفلیں اٹھائے ہوئے کچھ لوگ نظر آئے جنھوں نے جہازکو گھیرے میں لیاہواتھا۔جہاز کے اُترتے ہی ان مسلح افرادنے شہزادہ سلطان کوقبضے میں لے لیااورانہیں لے گئے۔شہزادہ سلطان چلاچلا کر اپنے سٹاف کوکہاکہ وہ امریکی سفارت خانے سے رابطہ کریں۔شہزادے کوان کے ڈاکٹرسمیت ایک بنگلے میں لے جایاگیا جہاں ان کی نگرانی کیلئے مسلح گارڈزکوتعینات کیاگیا۔جہاز میں سوارباقی افرادکوتین دن کے بعد ان کی مرضی کی منزل پربھیج دیاگیا۔شہزادہ سلطان کے سٹاف میں سے ایک نے بتایاکہ سعودی حکام کے ایک افسرنے کہاکہ ہم غلط وقت میں غلط جگہ پرتھے اوراس کی وجہ سے ہونے والی مشکلات پرمعذرت کی۔ سٹاف کے ایک اورفردنے کہا:مجھے صرف مشکل میں نہیں ڈالاگیاتھا بلکہ مجھے اغواکیاگیاتھااورمجھے ایسے ملک میں رکھاگیاجہاں میں اپنی مرضی سے گیابھی نہیں تھا۔یہ ایک انتہائی غیرمعمولی واقعہ تھا۔ شہزادہ سلطان کے علاوہ 18غیرملکی باشندوں کواغواکرکے ان کی مرضی کے خلاف سعودی عرب لے جایاگیااورسعودی فوج نے انھیں وہاں خلاف مرضی رکھا۔اس واقعے کے بعدسے شہزادہ سلطان بن ترکی بن عبدالعزیزکی آج تک کوئی خبرنہیں ملی ہے۔جب بھی سعودی حکومت سے ان واقعات اورالزامات کے بارے میں سوالات کئے جائیں تواس کاجواب دینے سے انکارکردیاجاتاہے۔
اسی طرح جرمنی میں پناہ لینے والے شہزادہ خالد کو ڈر ہے کہ ان کو بھی زبردستی سعودی عرب لے جایاجائے گا۔شہزادہ خالد کاکہناہے کہ ہمارے خاندان کے چارلوگ یورپ میں تھے۔ ہم نے خاندان پراوران کی حکومت پرتنقیدکی اوران چارمیں سے تین کواغواکرلیاگیاہے،صرف میں باقی بچا ہوں۔جب شہزادہ خالد سے پوچھاگیاکہ کیاآپ بھی اغواہونے والوں کی فہرست میں شامل ہو جائیں گے؟توانہوں نےخوف زدہ آوازمیں جواب دیاکہ مجھے یقین ہے۔مجھے بہت عرصے سے پورایقین ہے کہ ایساہی ہوگا۔اگروہ ایساکرسکتے ہوتے تووہ کرچکے ہوتے لیکن میں بے حد احتیاط برتتا ہوں۔ یہ میری آزادی کی قیمت ہے۔ اب نئے حالات دیکھنایہ ہے کہ صحافی جمال خاشفجی کے لرزہ خیزقتل کواستعمال کرتے ہوئےامریکااپنے کون سے اہداف حاصل کرنے کی کوشش کررہاہے؟کیا سعودی اورایران کےتیل پر قبضہ کرنااس کامقصود ہے؟کیا روس اورچین کے ردِّعمل کی آزمائش مقصودہے؟کیاپاکستان کی جوہری قوت ،سی پیک اورکشمیر کونئے چیلنجزسے گزرناہوگا؟کیااب سعودی عرب کوسبق سکھانے کے ساتھ ساتھ ایک ہی وقت میں پاکستان،ایران اورترکی کوبھی ایک نئی سخت اورجاں گسل آزمائش کاسامناکرناہوگا؟ آنےو لا وقت ہی ان سر بستہ رازوں سے پردہ ہٹائے گا۔ 