سر سیدِکشمیر میر واعظ رسول شاہ ؒ

میر واعظ رسول شاہ کے بارے میں تحریر ہوا ہے کہ ’’ایشاںسر سید ثانی در کشمیر بودند‘) (وہ کشمیر کے سر سیر ثانی تھے) ۔آپ  111؍سال پہلے ماہ رجب کی گیارہ تاریخ کو جہاں فانی کو وداع کہہ گئے ۔ اُنہیں سر سید کے خطاب سے نوازنا ظاہر ہے کسی اہل قلم کی گوہر افشانی ہی ہو سکتی ہے جس نے سمندر کو کوزے میں سمونے کی کوشش کی ہے ۔ظاہراََتو یہ ایک جملے سے زیادہ نہیں لیکن اِس ایک جملے میں ایک لمبی کہانی پوشیدہ ہے جو مسلمانوں کے دورانحطاط (زوال)سے وابستہ ہے۔اِس دور کی کہانی ایک طویل مدت پہ محیط ہے اور اِس دور کے مطالعے کے بغیر میر واعظ رسول شاہ کے دور حیات کا مطالعہ،اُن کے کام کی اہمیت و افادیت کو جانانہیں جا سکتا نہ ہی یہ بات سمجھ آ سکتی ہے کہ اُن کو کس پیرائے میں سر سیدثانی کہا گیا۔ثانیاََ ہم یہ بھی جاننے کی کوشش کریں گے کہ اُنکے کام کے محرکات کیا تھے بہ الفاظ دیگر اُنہوں جو کچھ کیا وہ سب کچھ کرنے کی شہ اُن کو کہاں سے ملی؟
میر واعظ رسول شاہ نے کشمیر میں اُس تحریک کی پیروی کی جو عالم اسلام میں  19ویں صدی میں شروع ہو گئی ۔اِس تحریک کی بنیاد میں کئی کلیدی کرداروں کا رول رہا ہے جن میں جمال الدین افغانی ایک قابل ذکر نام ہے۔جمال الدین افغانی نے اُس نظریہ کو چلینج کیا جس کی بنیاد یہ تھی کہ منطق اسلامی قوانین یا فقہ اسلامی کے منافی ہے۔ اِس نظریاتی اختلاف کا بنیادی سبب تلقین و ایمان کو منطق کی کسوٹی پہ پرکھنے کی سعی تھی۔ تلقین و ایمان کو منطق کی کسوٹی پہ پرکھنے کا آغاز خلافت عباسیہ کے دوران متزلی تحریک سے ہوا۔ متزلی آزادسوچ رکھنے والوں کی ایک جماعت تھی جو ہر نظریے کو منطق کی کسوٹی پہ پرکھنے کے عادی تھے حتّی کہ تلقین و ایمان کو بھی وہ منطق کی کسوٹی پہ پرکھنے لگے ۔در اصل یہ سوچ یونانی نظریات سے پروان چڑھی جہاں منطق کی کسوٹی ہر نظریے کو جانچنے کیلئے ضروری قرار دی گئی جس میں یہ بھی شامل تھا کہ ہر نظریے کو اپنانے کیلئے کوئی دلیل کوئی وجہ ہونی چاہیے۔
آزاد سوچ رکھنے والوں کو اعلی ترین سیاسی سطح کی پشت پناہی حاصل رہی ۔ایسا تب ہوا جب عباسی خلیفہ ماموں جو کہ ہارون رشید کے فرزند تھے متزلی سوچ کی پشت پناہی کرنے لگے۔بغداد میں یونانی فلسفے کو فروغ حاصل ہوا۔یہ نظریہ جہاں ارسطو سے وابستہ تھا وہی نو افلاطونی نظریات سے بھی اُسے شہ ملی ۔نو افلاطونی نظریات مسیح حکمرانوں کے دور میں اسکندریہ میں پنپنے لگے لہذا اِن نظریات کو مدرسہ اسکندریہ کے نظریات کا عنواں بھی ملا۔ حضرت عمر فاروقؓ کے دور خلافت میں جب اسکندریہ فتح ہوا تو یہ بے بنیاد الزام دیا جانے لگا کہ اسکندریہ کے وسیع کتب خانے کو مسلمانوں نے جلایا حالانکہ اِسے ثابت کرنے کیلئے کوئی واضح دلیل پیش نہیں کی گئی البتہ یہ الزام آج تک مغربی دنیا کی اسلام کے بارے کتابوں میں درج ہے اور اِسے بڑھا چڑھا کے پیش کیا گیا ہے۔ دیکھا جائے تو عالم اسلام میں مسلمین کے سنہری دور کے دوراں کسی بھی علمی نظریے کی نفی نہیں ہوئی اور ہر نظریہ بحث طلب رہا جس کا ثبوت متزلی جماعت کا وجود اور اُس کی حکو متی پشت پناہی ہے۔مسلمین پہ تنگ نظری کا الزام تاریخ حقائق کی روشنی میں بے بنیاد ہے۔
آزاد خیال متزلی سوچ جہاں تلقین و ایماں کو بھی منطق کی کسوٹی پہ پرکھا جانے لگا کو علمی سطح پہ نکارنے کیلئے امام غزالی ؒ (1058-1112)ء جیسے جید عالم سامنے آئے جن کا یہ نظریہ رہا کہ تلقین و ایماں کی اپنی ایک کسوٹی ہے اپنی منطق ہے اور اُسے کسی اور کسوٹی کسی منطق پہ پرکھنے کی ضرورت نہیں۔اللہ تبارک تعالے کی مقدس ذات پہ ایماں کامل دین اسلام کا بنیادی جز ہے اور اِس کے لئے کسی وجہ یا کسی دلیل کی کوئی گنجائش نہیں البتہ ایماں کا اپنا ایک پیش منظر ہے جس میں ہر عقدہ کھل جاتا ہے ہر سوال کا جواب مل جاتا ہے ہر پردہ اٹھ جاتا ہے جس کی شرط یہ ہے کہ ایماں کی اولین منزل بہ نحو احسن طے کی جائے۔ امام غزالی ؒ نے یونانی نظریات پہ کڑے وار کئے اور اسلامی نظریات کی بھر پور ترجمانی کی ۔جہاں عالم اسلامی میں غزالیؒ کا امام کا درجہ حاصل ہوا وہی عالم اسلام میں ابن رشد جیسے عالم بھی قابل قبول رہے جو یونانی نظریات کے دفاع میں ہسپانیہ میں سامنے آئے جبکہ ہسپانیہ میں مسلمین عروج پہ تھے اور بغداد کی مانند یہاں قرطبہ میں بھی تعلیم و تربیت و مدارس کا فروغ رہا۔ابن رشد کے نظریات کو مغرب میں پس از رستا خیز (تجدید نو۔Renaissance)کافی فروغ حاصل ہوا جبکہ  امام غزالی ؒ کا اسلامی فلسفے کا ترجمان مانا جاتا ہے۔
یورپ میں پس از رستا خیزجہاں بے مثال علمی ترقی پیش آئی وہی قدیم یونانی نظریات کو جو دور مسیح  ؑسے تقریباََ 500سال پہلے معرض وجود میں آئے یعنی آج گئے تقریباََ 2500سال پہلے اُنہیں کافی فروغ حاصل ہوا ثانیاََ سائنسی ترقی کے دور میں مذہبی نظریات کی نفی بھی ہونے لگی۔عالم اسلام میں جو عکس العمل اُبھر آیا وہ مسلمین کو عصر حاضر کی تعلیم سے دوری پہ منتج ہوا جس میں مسلمین یہ بھولنے لگے کہ یورپ میں سائنسی ترقی کا ارتقا بہت حد تک اُس بنیاد کا مرہون منت رہا جو مسلمین کے سنہری دور میں پڑی۔عربی علمی ذخیرے کا لاطینی ترجمہ راجر بیکن جیسے علما کا کارنامہ تھا جس سے یورپی علوم کی شروعات ہوئی ثانیاََ منطق کے حوالے سے قدیم بحث بھی آڑے آئی اور مسلمین عصر حاضر کی تعلیم سے بے بہرہ رہے۔  19ویں صدی میںجمال الدین افغانی جیسے علما نے مسلمین کی پسماندگی سے متاثر ہو کے ایک نئی بحث کا آغاز کیا جس میں یہی دلیل در پیش رہی کہ منطق اسلامی قوانین کے منافی نہیں اور عصر جدید کی تعلیم کو اپنا تے ہوئے بھی مسلمین اپنے دینی ورثے کو تحفظ فراہم کرسکتے ہیں۔ جمال الدین افغانی نے اپنی کاوش میں جنوبی ایشیا،مشرق وسطی، ترکی اور یورپ کے شہر شہر قریہ قریہ کو چھان مارا۔اُن پہ الزامات بھی عائد ہوتے رہے لیکن وہ اپنے مشن پہ ڈٹے رہے ۔ جہاں مصر میں اُنہیں ہاتھوں ہاتھ لیا گیا وہی ترکی کے عثمانی خلفا بھی اُن کے میزباں رہے۔ مصر میں اُن کے حلیف محمد عبدو نے انسانی تعلقات کے ضمن میں منطقی نظریات کا سہارا لیا اور ایسے میں ایک نظریاتی بنیاد فراہم ہوئی جو عصر حاضر کی تعلیم میں مسلمین کی شمولیت پہ منتج ہوئی۔
یہ وہ عالمی پس منظر رہا جس کے اثرات کو مناسب جہت فراہم کرنے کیلئے جنوبی ایشیا میں سر سید جیسے رہنما منظر عام پہ آئے اور کشمیر میں میر واعظ رسول شاہ نے اُس کی تقلید کی۔ ہندوستان میں 19 ویں صدی کے نصف دوم میں سر سید کی علیگڑھ تحریک ملی پیش رفت میں ایک قابل قدر، قابل ستائش کو شش تھی جس نے مسلمانوں کی صفوں میں جاگرتی لائی۔علیگڑھ کے تعلیم یافتہ بے علمی کی شرمساری و خجالت کے بجائے تعلیم سے لیس وجود مسلمین ہند میں نئے رنگ بھرنے لگے۔تیتر و بٹیر بازی میں اپنا وقت برباد کرنے کے بجائے جب مسلمان جوانوں نے علیگڑھ کا رخ کیا تو مسلمانوں کی بے حال و بے نظم صفوں میں ولولہ و نظم پیدا ہونے لگاگر چہ اُن کی تعداد کم تھی جو اپنے حال کی تغیر کے متلاشی رہے یا جنہوں نے اپنا حال بدلنے کی کوشش کی ۔کشمیر میں سر سید کے کام کی تقلید یہاں کے بلند ترین منبریعنی میر واعظ کی رہبری میں انجام پذیر ہوئی ،چناںچہ 1890ھ میں اسلامیہ سکول کشمیری رستا خیز (تجدید نو۔Renaissance) کی علامت کے طو پہ اُبھر آیا۔  
میر واعظ رسول شاہ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ محض 7 سال کی صغیر سنی میں اُنہیں حافظ کلام پاک ہونے کا شرف حاصل ہوا۔وہ میر واعظ محمد یحیی کے فرزند ارجمند تھے اور میر واعظ کشمیر کے خطاب کی تصدیق بادشاہ وقت کے دربار سے میر واعظ خاندان کو مولوی محمد یحیی کے زمانے میں ہی حاصل ہوئی گر چہ اِس خاندان کو کشمیری عوام نے اُس سے پہلے ہی بالا ترین منبر یعنی جامع مسجد سرینگر میں وعظ خوانی کا شرف بخشا تھا ۔ اِس بر گذیدہ خاندان کے پہلے جانے مانے بزرگ مولوی صدیق اللہ تھے جنہوں نے اپنے آبائی گاؤں ترال میں اسلامی اصولوں و مقررات کی تشہیر کے کام کے علاوہ دینی تعلیم کے فروغ کیلئے ایک مدرسہ بھی قائم کیا جس سے یہ عندیہ ملتا ہے کہ تعلیم کے فروغ کی کوشش و کاوش میر واعظ رسول شاہ کو ورثے میں ملی ۔
منشی محمد الدین فوق اپنی کئی تصا نیف میں سے ایک (تاریخ اقوام کشمیر:جلد دوم:صفحہ 430-440)میں میر واعظ خاندان کا رشتہ اُن سیدوں سے جو ڑتے ہیں جو حضرت میر سید علی ہمدانی کے ساتھ آئے اور جنہوں نے کشمیر کو اپنا وطن بنایا۔ترال کی وجہ تسمیہ کے بارے میں روایت ہے کہ جنوبی کشمیر کا یہ مقام سید السادات میر سید علی ہمدانی ؒنے تین لال کے عوض بادشاہ وقت سے حاصل کیا اور بنتے بگڑتے تین لال ترال بن گیا! مولوی صدیق اللہ جنہیں دینی معلم ہونے کی خاطر آخوند صدیق اللہ کہا جاتا تھا کے مرید اُن کے آبائی علاقے تک ہی محدودنہیں تھے بلکہ شہر سرینگر تک پھیلے ہوئے تھے چناچہ خانیار کے معروف رئیس سید غلام شاہ آزاد اُنہیں فرط محبت و عقیدت سے ’صدیق بائیو‘ کہتے تھے ۔سرینگر میں پھیلتی ہوئی محبوبیت کے پیش نظر میر واعظ خاندان افغانوں کے دور حکومت  [1750-1819 A.D]میںشہر سرینگر میں منتقل ہوا۔آخوند عبدالسلام نے اپنے والد آخوند صدیق اللہ کی روایات کو قائم رکھا اور اُن کے سب سے بڑے فرزند حافظ عبدا لْرسول عرف لسہ بابا جن کا جنم 1198 ھ میں ہوا عربی و فارسی کے اسکالر تھے اور ایک شاعر بھی جن کی فارسی شاعری میں دینداری و خدا پرستی نے ایک ایسا رنگ بھر دیا ہے جو جذبات پہ چھا جا تا ہے چناچہ ذات حق کی صفات کے بارے میں فرمایا ہے:
  چوں ورزیدہ نسیم تو شمیمے بہ خلیل
ناد نمرود گلستان شدہ سبحان اللہ! 
 آپ نسیم (صبح کی ہوا) کی مانند خلیل اللہ حضرت ابراہیم ؑ پہ شمیم (خوشبو سے بھری ہوئی مہک دار ہوا)بن کے چھا گئے اور نار نمرود کو گلستان بنا گئے جہاں مہک ہی مہک تھی۔ لسہ بابا میر واعظ رسول شاہ کے دادا تھے۔1261ھ میں لسہ بابا کی وفات کے بعد مولوی محمد یحییٰ صرف نو سال کی عمر میں میر واعظ بن گئے ۔سر پرستی کے فرائض شیخ احمد شاہ تارہ بلی نے انجام دئے۔48؍ سال تک اُنہوں نے فرائض منصبی نبھاتے ہوئے مسجد جامع میں وعظ خوانی کی اور اِس کے علاوہ عربی ،فارسی و کشمیری میں کئی کتابیں رقم فرمائیں۔آپ نے اپنے کے علاوہ گھر کے دیوان خانے میں طالبعلموں کو اپنے علم کی روشنی سے منور فرمایا جن میں کشمیر کے نامور شاعر امیر الدین اسیر بھی شامل تھے ۔1307 ھ میں حج بیت اللہ کی تکمیل کے بعد 1308  ھ میں اُنہوں نے جہاں فانی کو وداع کہااور مولوی رسول شاہ میر واعظ مقرر ہوئے جنہوں نے 7 سال میں حفظ قران کے بعد 16/17 سال کی عمر میں مروجہ تعلیم کو پا یہ تکمیل تک پہنچایا۔مولوی رسول شاہ نے اپنے وعظ کو سرینگر تک محدود نہیں رکھا بلکہ آپ اسلام آباد،شوپیاں، بارہمولہ و سوپور کے علاوہ ملحقہ دیہاتوں میں بھی وعظ فرماتے تھے۔آپ کی تبلیغ کی اساس امر بہ معروف و نہی عن المنکر تھی ۔آپ کے وعظ کو منشی محمد الدین فوق نے جادو بیانی سے تعبیر دی ہے۔آپ بہت جلد اِس نتیجے پہ پہنچے کہ جہالت و بے علمی قومی جمود کی اصلی وجہ ہے چناچہ اسلامیہ سکول کی بنیاد پڑی جو پہلے ایک پرائمری سکول تھا پھر مڈل سکول بن گیا اور اُس کی ادارتی شکل [Institutionalization] انجمن نصر ۃ الاسلام کے وسیلے طے پائی ۔ 1325ھ میں یہ اسلامیہ سکول ہائی سکول کے درجے تک پہنچاجس میں ایک مدرسہ عربیہَ دینیہ َ بھی شامل رہااور ایسے میں اپنے اسلاف کے ورثے کی نہ صرف نگہبانی کی بلکہ وقت کی اہم ترین ضرورت کو پوارا کرنے میں بھر پور کردار بھی نبھایا! کشمیر کے دست بدعا عوام سے سر سید ثانی کا خطاب پانے کے بعد آپ نے 1327ھ میں بروز جمعہ 19؍ سالہ دور میر واعظی کے بعد جہان ِفانی کو وداع کہا۔ راوی کا بیاں ہے کہ تیس چالیس ہزار کا مجمع جنازے میں شامل رہااور خود بخودسارے شہر میں تعزیتی ہڑتال ہوئی  ع
  خدا رحمت کند عاشقان پاک طنیت را!
یار زندہ صحبت باقی! Feedback on: [email protected]