سر سبز درختوں کے ساتھ لٹکتی موت کی تاریں

جموں وکشمیر بجلی کی پیدا وار میں ایک اہم مقام رکھتا ہے ۔یعنی یہاں سے بجلی پیداکرنے کے بعد بھی ہمارے دریاپاکستان کو بھی فیضیاب کرتے ہیں ۔جموں و کشمیر میں بالخصوص وادی چناب میں پن بجلی پروجیکٹ تعمیر کئے گئے ہیں اور اب جموں و کشمیر میں بجلی کی نجکاری بھی ہو چکی ہے ۔ہر مہینے متعلقہ انتظامیہ کافی محنت کے ساتھ عوام کی دہلیز تک بجلی کے بل پہنچاتی ہے ۔لیکن آج بھی کئی ایسے علاقہ جات ہیں جن میں بجلی سپلائی کے حالات بہتر کرنے کی ضرورت ہے ۔موسم سرما آتے ہی بجلی کئی کئی روز تک غائب ہو جاتی ہے اور مرمت کرنے والا بھی کوئی نہیں آتا۔وادی کشمیر کے ضلع پلوامہ کی تحصیل پامپور کے گائوں سامبورہ کی بات کی جائے تو اس کی علمدار کالونی اور اکرم ڈار محلہ میں بجلی کی ترسیلی لائنیں سر سبز درختوں اور لکڑی کے کھمبوں سے لٹکائی گئی ہیں جو سر عام موت کا پیغام دیتی نظر آ رہی ہیں یعنی کسی بھی وقت کوئی بڑا حادثہ پیش آ سکتا ہے ۔اس سے قبل بھی مقامی لوگوں نے متعلقہ محکمہ کو باور کروایا ہے کہ علاقہ میں بجلی کے کھمبے نصب کئے جائیں تاکہ بجلی کی سپلائی ہر موسم میں متواتر بحال رہ سکے اور کوئی حادثہ بھی پیش نہ آئے لیکن متعلقہ محکمہ کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی ۔
واضح رہے کہ سامبورہ گائوں دریائے جہلم کے کنارے پر جموں وکشمیر کی گرمائی راجدھانی سرینگر سے بائیس کلومیٹر اور ضلع ہیڈکوارٹر پلوامہ سے بارہ کلومیٹر پہلے ہی واقع ہے ۔اس گائوں کے بیچوں بیچ سے گزرنے والی شاہراہ مغل شاہراہ کے راستے وادی کشمیر کو جموں صوبہ سے ملانے والا ایک متبادل راستہ ہے ۔وہیں اس گائوں کی علمدار کالونی اور اکرم ڈار محلہ بجلی کے کھمبوں سے محروم ہیںجو اس ترقی یافتہ دور میں ترقی کے بلند و بانگ دعوئوں کی پول کھولتے ہیں ۔ اس سلسلے میں 80 سالہ بزرگ اوراس کالونی کے رہائشی عبد الرحمن کہتے ہیںکہ ’’محکمہ بجلی نے آج تک اس علاقہ میں بجلی کے کھمبے نصب کرنے کی زحمت نہیں کی اور بجلی کی تار بھی ہم نے ذاتی پیسوں سے خریدی ہے‘‘ ۔انہوں نے مزید کہا کہ بجلی کے کھمبے کافی پرانے اور بوسیدہ ہو چکے ہیں لیکن محکمہ نے مستقل کھمبے نہیں لگائے ۔ان کا کہناتھا کہ جب بھی تاریں ٹوٹتی ہیں تو مقامی لوگ خود ٹھیک کرتے ہیں اور ان تاروںکی حالت بھی کافی نازک ہو چکی ہے جو کسی خطرے سے کم نہیں ہے۔
اسی کالونی کے رہائشی بشیر احمد ڈار سے جب بات کی گئی تو انہوں نے کہا کہ ’’ہر ماہ ان کے گھر بجلی کے بل پہنچتے ہیں لیکن جب بھی آندھی چلتی ہے یا برف باری ہوتی ہے تو بجلی کی تاریں ٹوٹ جاتی ہیں لیکن انہیں کوئی ٹھیک کرنے والا نہیں ہوتا۔ مقامی لوگوں نے فروری 2020 کے آخر میں متعلقہ محکمہ کو ان کے دفتر اونتی پورہ میں ایک درخواست بھی دی کہ انہیں تاریں اور کھمبے دئے جائیں ۔ وہیں علاقہ میں ضرورت سے زیادہ کھمبے فراہم کرنے کی خاطر متعلقہ افسر نے بجٹ میںڈالا لیکن آج تک مقامی عوام کو بجلی کے کھمبے موصول نہیں ہوئے ،نہ جانے وہ یقین دہانی کہاں چلی گئی جس کا مقامی عوام کو آج تک انتظار ہے ‘‘۔ ایک اور مقامی نوجوان سہیل احمد ڈار نے بتایا کہ درختوں اور لکڑی کے کھمبوں سے بندھی بجلی کی تاریں لوگوں کی زندگیوں کے ساتھ ساتھ ان کے املاک کیلئے بھی خطرہ بن چکی ہیں ۔انہوں نے مزید کہاکہ پلوامہ ضلع کے سامبورہ گاؤں کی علمدار کالونی میں انفراسٹرکچر کی ناقص فراہمی سے اس گائوں کے لوگوں کی جان کو خطرہ لاحق ہو سکتاہے۔سہیل کا کہناتھاکہ نامعلوم وجوہات کی بناء پر محکمہ بجلی (PDD) کے عہدیدار پلوامہ ضلع کے سامبورہ گاؤں کی علمدار کالونی اور اکرم ڈار محلہ میں بجلی کے کھمبے لگانے میں ناکام رہے ہیں۔ سہیل نے کہا کہ مقامی لوگوں کو خدشہ ہے کہ کئی دہائیوں سے بجلی کی لائنیں بوسیدہ لکڑی کے کھمبوںسے بندھی ہیں جو کسی بھی وقت ایک تباہی کا سبب بن سکتی ہیں۔ پلوامہ کے سامبور گاؤں سے تعلق رکھنے والی ایک مقامی رہائشی نرگس جوزی نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ گاؤں میں بجلی کے کھمبے آج تک وہی پرانے اور بوسیدہ ہیں جن کو بدلانے کیلئے متعلقہ محکمہ نے نہیں سوچا اور نہ جانے متعلقہ محکمہ خواب غفلت سے کب بیدار ہوگا۔انہوں نے مزید کہاکہ چند انچ برف باری ہونے کی وجہ سے یہ کھمبے گر جاتے ہیں پھر بجلی جیسی بنیادی ضرورت کیلئے انتظار کرنا پڑتا ہے ۔
قابل ذکر ہے کہ جموں و کشمیر بیس ہزار میگا واٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے لیکن پھر بھی سامبورہ گائوں کی علمدار کالونی کے لوگ بجلی اور اس کے مستقل کھمبوں کیلئے ترساںہیں جو اس ترقی یافتہ دور میں بھی سر سبز درختوں اور لکڑی کے کھمبوں سے تاریں باندھ کر گزارا کر رہے ہیں ۔ موسم سرما میںبرف باری کے ہوتے ہوئے ہی لکڑی کے کھمبے اور درخت گر جاتے ہیں جس کی وجہ سے بجلی سپلائی منقطع ہو جاتی ہے اور یہاں سر سبز درختوں سے جھولے لیتی ترسیلی لائنیں سر عام موت کا پیغام دے رہی ہیں جو کسی بھی وقت کسی بڑے حادثے کا باعث بن سکتی ہیں۔ ہر بار لوگوں کو انتظامیہ نے یقین دہانی کروائی لیکن مقامی عوام کو ان کے مطالبات کے ازا لہ کا ہنوزبے صبری سے انتظار ہے ۔اس سے پہلے کہ کسی کی قیمتی جان ان ترسیلی لائنوں سے چلی جائے، متعلقہ محکمہ کو خواب غفلت سے بیدار ہونے کی ضرورت ہے ۔ (چرخہ فیچرس)
رابطہ۔سامبورہ پامپور ،پلوامہ کشمیر