سر زمین ہند میں دریائے ہنر مندی رواں دواں : ڈاکٹر فرید الدین فرید عصر مدارس میں فن خطاطی کے ادارے قائم کرنا وقت کی اہم ضرورت:مفتی افروز عالم قاسمی

ٹی این بھارتی

نئی دہلی// روز ازل سے ہی بنی نوع انسان میں ہنر مندی کا رحجان قائم و دائم ہے۔ ہندوستان کے عوام کی فنی صلاحیتوں کے مد نظر کلچرل ہاوس سفارت اسلامی جمہوریہ ایران نء دہلی اور انجمن خطاطا ن ہند کے اشتراک سے ایران کلچرل ہاوس میں دو روزہ قرآنی خطاطی مقابلہ اور ثقافتی نمائش کے دوران کلچرل ہاوس کے کا ونسلر ڈاکٹر فرید الدین فرید عصر نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ سر زمین ہند میں دریائے ہنر مندی کا سر چشمہ رواں دواں ہے۔نسل نو اور بزرگ اسا تزہ اس ملک کا بیش قیمتی سر مایہ ہیں۔ فن خطاطی ہندو ایران کے تجارتی تعلقات کو مستحکم کرنے میں کار گر قدم ہے۔ ہنر مندی کے بعوض معاشی و معاشر ٹی اقدار میں بھی اضافہ ممکن ہے۔ انھوں نے انجمن خطاطان ہند اور طلباء و طالبات کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پہلا کل ہند کتابت قرآن کریم مقابلہ اور قرآنی خطاطی کی نمائش سے ایران و ہند کے درمیان فائدہ بخش نتائج مرتب کیے جا سکتے ہیں۔ اس موقع پر الہند تعلیم جدید فاونڈیشن کے بانی اور دہلی کے قاضی نکاح مرکز سارالقضا کے مفتی افروز عالم قاسمی نے تجویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کے تمام بڑے مدارس میں فن خطاطی کے ادارے قائم کرنا چاہئے۔ تاکہ قرآن کریم کی خطاطی کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا جا سکے۔ ڈاکٹر فرید نے اس بابت اپنی مثبت رائے ظاہر کی۔پہلا کل ہند کتابت قرآن کریم مقابلہ کے اول روز ہندوستان کی سات ریاستوں کے اسا تزہ اور طلباء و طالبات نے شرکت کی۔ فن خطاطی مقابلہ میں بحیثیت جج مدرسہ کتابت قرآن کریم ایران کے ڈاکٹر احسان پور نعمان اور انسٹی ٹیوٹ آف انڈ و اسلامک آرٹ اینڈ کلچر بنگلور کے پرنسپل مختار احمد کی تقرری عمل میں لائی گئی۔ علاوہ ازیں کشمیر کے نو جوان خطاط میثم علی نے اپنے خطاطی کے نمونے کے ساتھ شرکت کی۔