سری لنکامیں مظاہرین کے خلاف فوجی کارروائی صدارتی محل کے قریب خاتون سمیت 14 افراد زخمی

کولمبو// مسٹر رانیل وکرما سنگھے کے سری لنکا کے آٹھویں قائم مقام صدر کا عہدہ سنبھالنے کے دو دن بعد سیکورٹی فورسز اور پولیس نے جمعہ کو عوام سے حکومت کے خلاف صدارتی محل کے قریب مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے کہا۔ کارروائی میں ایک خاتون سمیت زخمی ہوئے ۔گیلی فیس گرین سے مظاہرین کو ہٹانے کے لیے سیکیورٹی فورسز کی کارروائی میں نو مظاہرین کو گرفتار بھی کیا گیا۔حکومت کے خلاف احتجاج کرنے والے لوگوں کے خلاف فوجی دستوں کی کارروائی پر عالمی برادری اور ایجنسیوں نے اعتراض کیا ہے ۔ حکومت کی طرف سے سیکورٹی فورسز کو انتظامی ضلع میں امن و امان برقرار رکھنے کی ہدایت دی گئی تھی جس کے تحت فوج اور پولیس فورسز نے مظاہرین کے خلاف سخت کارروائی کی۔اس پورے معاملے پر بین الاقوامی ایجنسیوں اور کمیونٹی نے ٹوئٹر پر امریکی سفیر کے نام ایک پیغام میں کہا کہ گالے فیس میں آدھی رات کو مظاہرین کے خلاف کی گئی کارروائی انتہائی تشویشناک ہے ۔

 

ہم انتظامیہ سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور اس کارروائی میں زخمی ہونے والوں کو جلد از جلد طبی امداد فراہم کریں۔اقوام متحدہ کی ریذیڈنٹ کوآرڈینیٹر حنا سنگر ہمڈی نے ایک پیغام میں کہاکہ ‘‘مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے سیکورٹی فورسز کا استعمال انتہائی تشویشناک ہے ۔ انسانی حقوق کے کارکنوں اور صحافیوں کو احتجاج پر نظر رکھنے کا حق ہے اور ان کے کام میں رکاوٹ نہیں ہونی چاہیے ۔ حکومت کی طرف سے مظاہرے کو دبانے کے لیے یا احتجاج کے لیے کسی مقام پر مظاہرین کے پرامن اجتماع کے خلاف کوئی بھی اقدام سری لنکا میں سیاسی استحکام اور معاشی صورتحال کو مزید دھچکا دے سکتا ہے ۔سری لنکا کی بار ایسوسی ایشن نے بھی آدھی رات کو مظاہرین کے خلاف فوجی کارروائی پر کڑی تنقید کی ہے ۔ سری لنکا کے انسانی حقوق کمیشن نے بھی اس کارروائی پر کڑی تنقید کرتے ہوئے اسے لوگوں کے انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔ کمیشن نے کہا کہ وہ خود اس معاملے کی جانچ کرے گا تاکہ امن و امان قائم کیا جاسکے ۔ملک کے نئے صدر کے عہدہ سنبھالنے کے بعد بھی حکومت مخالف مظاہرے جاری ہیں کیونکہ نئے صدر وکرما سنگھے کو بھی ملک میں راجا پاکسے کے اتحادی کے طور پر دیکھا جاتا ہے ۔