سرینگر کی بیشتر سڑکوں کی حالت قابلِ رحم

 سرینگر// شہر میں بیشتر سڑکوں کی ناگفتہ بہہ حالت پر عوام میں سخت غم و غصہ پایاجارہا ہے۔لوگوںکاکہنا ہے کہ کھنڈرات میں تبدیل سڑکوں پراگر موجودہ موسم گرما میں میگڈم نہیں بچھایاجاتا توکیا حکومت سردیوں کا انتظار کررہی ہے؟ سڑکوں کی تجدید و مرمت کے حوالے سے چیف انجینئر آر اینڈ بی نے دو ماہ قبل کشمیر عظمیٰ سے بات کرتے ہوئے یہ دعویٰ کیا تھا کہ موسم خوشگوار ہوتے ہی سڑکوں کی مرمت کا کام شروع ہوگا،موسم تو بدل گیا لیکن شہر کی سڑکیں ابھی تک نہیں بدلیں اور اکثر وبیشتر سڑکیں ایسی ہیں جن پر بڑے بڑے کھڈآج بھی موجود ہیں ۔شہر سرینگر کی حالت ایسی ہے کہ معمولی بارش بھی پڑے تو سڑکیں تالاب کی شکل اختیار کر لیتی ہیں اورسب دیکھتے ہوئے بھی اس کی طرف کوئی دھیان نہیں دیا جارہا ہے۔عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ سرکار کے قیام میں آنے کے بعد شہر کو سمارٹ سٹی بنانے کا دعویٰ کیا گیا، کاغذی گھوڑے دوڑائے گئے، منصوبے بنائے گئے لیکن تین سال کا عرصہ گزر گیااور سڑکوں کی مرمت کا مسئلہ جوں کا توں ہے۔پائین شہر ہو یا سول لائنزیا مضافات ،سڑکیں ہر طرف کھنڈرات بن کر آبادی کیلئے وبال جان بنی ہوئی ہیںاور ان سڑکوں سے اٹھنے والے گردغبار سے لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے ۔لوگوں کا کہنا ہے کہ سرکار نے پچھلے دنوں ایک بیان جاری کیا تھا کہ ریاست میں تعمیر و ترقی کا سنہری دور آیا ہے لیکن اس دور کا اندازہ آپ کو شہر کی خستہ حال سڑکوں سے لگا سکتے ہیں ۔لوگوں نے محکمہ آر اینڈ بی اور سرکار سے مطالبہ کیا ہے کہ شہر کی سڑکوں کی مرمت کیلئے اقدامات کئے جائیں تاکہ لوگوں کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔