سرینگر پارلیمانی نشست کا انتخاب ! جمہوری حق کے استعمال سے کترانا نہیں

سرینگر پارلیمانی انتخابی نشست کے لئے آج ووٹ ڈالے جارہے ہیں۔ووٹ ڈالنے کا سلسلہ صبح سات بجے سے شروع ہو کر شام چھ بجے تک جاری رہے گا۔انتخابات کے شفاف انعقاد کے لئے فعال اقدامات کئے گئے ہیںاور ضابطہ فوجداری کے تحت دوران ِ ووٹنگ پورے ضلع میں دفعہ144نافذ رہے گا۔انتظامیہ کی طرف سے تمام سٹیک ہولڈرزپر زور دیا گیا ہے کہ وہ انتخابی عمل کے دوران ہم آہنگی اور نظم و ضبط برقرار رکھنے کی کوشش کریں جبکہ سبھی پولنگ سٹیشنوں کو نو اسموکنگ زون قرار دیا گیا ہے۔

بے شک ووٹ ایک امانت ہے جس کا صحیح استعمال کرنا ہر ووٹر پر لازم ہے۔چنانچہ ملک کی طرح جموں و کشمیر میں بھی اکثر انتخابات میں ووٹ کےاستعمال کو خالص دنیاوی معاملہ سمجھا جاتا ہے اور اس کا استعمال محض اپنے ذاتی مفادات کو مدنظر رکھ کیا جاتا ہے،جونہ صرف دینی اور دنیاوی دونوں صورتوں میں غلط ہے بلکہ قوم و معاشروں کے لئے نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔ اس لئے جہاں الیکشن کمیشن کی یہ اہم ذمہ داری ہے کہ وہ انتخابی عمل کو صاف شفاف رکھنے کی ہر ممکن کوشش کرے،وہیںاُمیدواروں پر بھی لازم ہےکہ اپنی ذمہ داری ادا کرنے کا احساس رکھیں۔جبکہ ان دونوں سے زیادہ ذمہ داری ووٹروں کی ہے کہ وہ اپنے ووٹ کا عقل و شعور اور ذمہ داری کے ساتھ استعمال کریں اور اس بات کو ذہن نشین رکھیں کہ ووٹ استعمال کرنے کا مقصد ایسے با صلاحیت و باکردار لوگوں کو منتخب کرنا ہوتا ہے جو ملک وقوم اور معاشرے کے خیر خواہ ہوں اور ان کی بقاء اور استحکام کا درد رکھنے والے ہوں۔نہ کہ ایسے آدمی کو منتخب کریں کہ جن کا نظریہ اور مشن صرف اور صرف اپنے ذاتی مقاصد و مفادات ہوں۔یاد رکھیں کہ ہر ووٹر کی طرف سےووٹ دینا ایک ایسی گواہی ہوتی ہے ،جس کے ذریعے وہ اپنے لئے کوئی نمائندہ چنتے ہیںاور بحیثیت گواہ اقرار کرتے ہیں کہ اُن کا چنیدہ نمائندہ اس قابل ہے ،جو اُن کی ہر جائز آواز کواعلیٰ ایوانوں تک پہنچانے اور اُنہیں درپیش مسائل کو دور کرانے میں کوئی فروگذاشت نہیں کرے گا۔ اس لئے کسی صورت میں یہ جائز نہیں کہ ووٹر کوئی عہدہ کسی ایسے شخص کے سپرد کر دےجو اپنی عملی یا علمی قابلیت کے اعتبار سے اس کا اہل ہی نہ ہو ، بلکہ ووٹر پر لازم ہے کہ ہر کام اور ہر عہدہ کیلئے اپنے دائرۂ حکومت میں اُس شخص کو مستحق سمجھیں،جس میں اس کی صلاحیت ہو، جو دیانت داری کے ساتھ اس کام کو انجام دینے کی قابلیت،ہمت اور جرأت رکھتا ہو اور ملت و معاشرے کی خدمت کے جذبے سے اس میدان میں آیا ہو۔بصورت دیگر اس کی ممبری میں کامیاب ہونا اُس معاشرے کی خرابی کا سبب ہے جس نے اُس کے حق میں بطورِگواہی اپنا ووٹ دیا ہےبلکہ اگر یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ ووٹروں نے اُس شخص کے حق میں جھوٹی گواہی دے دی ہے،جس کا خمیازہ انہیں برسوں تک اٹھانا پڑتا ہے۔اب اگرحلقے میں چند امیدوار کھڑے ہوں اور ووٹر کو یہ معلوم ہے کہ قابلیت اور دیانت کے اعتبار سے کون آدمی قابل ترجیح ہے تو اُس کو چھوڑ کر کسی دوسرے کو ووٹ دینا اپنے آپ کو گناہ میں مبتلا کرنے کے مترادف ہے۔ اچھی سفارش یہی ہے کہ قابل اور دیانت دار آدمی کی سفارش کرے جو خلق ِخدا کے حقوق صحیح طور پر ادا کر لے۔ورنہ ہمارے ووٹوں سے کامیاب ہونے والا امیدوار اپنے پانچ سالہ دور میں جو نیک یا بد عمل کرے گا ، ہم اس کے شریک سمجھے جائیں گے۔ آج جو خرابیاں انتخابات میں پیش آ رہی ہیں ، ان کی بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ نیک ، صالح حضرات عموماً ووٹ دینے ہی سے گریز کرنے لگے ، جس کا لازمی نتیجہ یہ ہوا جو مشاہدہ میں آ رہا ہے کہ ووٹ عموماً اُن لوگوں کے کھاتے میں جاتے ہیں جو چند ٹکوں میں خرید لئے جاتے ہیں اور اُن لوگوں کے ووٹوں سے جو نمائندے معاشرے پر مسلط ہوتے ہیں ، وہ ظاہر ہے کہ کس کماش اور کس کردار کے لوگ ہوں گے؟ اس لئے لوگوںکو چاہئے کہ وہ جمہوری عمل میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں اور اپنے قیمتی ووٹ کا استعمال کریں اور ووٹ دینے کے اس عمل میںکوئی بھی امیدوار قابل اور نیک معلوم ہو ، اُسے ووٹ دینے سے قطعی گریزنہ کریں کیونکہ ایسا کرنا قوم و ملت پر ظلم کے مترادف ہے ۔اس لئے امید کی جانی چاہئے کہ لوگ ووٹنگ عمل میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں گے اور اپنے ووٹ کا صحیح استعمال کرتے ہوئے صرف خدمت خلق کے جذبہ سے سرشار امیدوار کو ہی اپنی نمائندگی کا شرف بخشیں گے۔