سرینگر میں ملی ٹینٹوں کا نیٹ ورک بے نقاب

سرینگر// پولیس نے کہا ہے کہ انہوں نے شہر سرینگر میں مختلف کارروائیوں کے دوران 2ملی ٹینٹ اور انکے 2معاونین کو گرفتار کرکے ان سے بھاری مقدار میں اسلحہ بر آمد کیا جو شہر میںایک تاجر کی ہلاکت میں ملوث تھے۔پولیس کا کہنا ہے کہ صفا کدل علاقے میں22دسمبر کو رؤف احمدنامی ایک پراپرٹی ڈیلر کو ر قتل کر دیا گیا جس کے بعد واقعہ سے متعلق تفتیش شروع کی گئی۔پولیس نے بتایا کہ اس دوران قابل اعتماد انسانی ذہانت کی بنیاد پر باغات برزلہ علاقے میں ملی ٹینٹوں کی مشتبہ نقل و حرکت کا پتہ لگایا گیا جس کے بعد خصوصی ناکے لگائے گئے اور جیش اور لشکر سے وابستہ  برزلہ پل کے قریب سہیل قادر کھانڈے ولد غلام قادر کھانڈے ترال پلوامہ اورسہیل مشتاق وازہ ولد مشتاق احمد وازہ نکلورہ پلوامہ کو حراست میں لیا گیا جو سرگرم جنگجوئوں ہیں۔پولیس نے بتایا گرفتار شدہ افراد سے دوران تلاشی 2 پستول، دو پستول میگزین اور 30 گولیا ںبرآمد ہوئیں۔جبکہ مزید پوچھ گچھ پر مجرمانہ مواد، اسلحہاورگولہ بارود سمیت2 پستول 6پستول میگزین،69 راؤنڈ گولیاں اور 2 پستول سائلنسر برآمد کئے گئے۔انہوں نے بتایااب تک 4 پستول، 8 پستول میگزین، 99 لائیو راؤنڈز، 2 پستول کے سائلنسر ملے ہیں۔ پولیس نے بتایا گرفتار جنگجوئوں نے مزید دو ساتھیوں کی شناخت باسط بلال مکایاولد بلال احمد مکایا ساکن قمر آباد قمرواری اورنائیکو عماد نثار ولدفاروق احمد کلورہ شوپیاں، جو ان کے ساتھ OGWs کے طور پر کام کر رہے تھے، جنہیں بعد میں گرفتار کر لیا گیا۔ اس سلسلے میں ایف آئی آر 08/2021  تھانہ صدر میں آرمز ایکٹ کی دفعہ 7/25 اور یو اے پی ایکٹ کی دفعہ 18/33کے تحت رجسٹر کیا گیا۔۔پولیس  کے مطابق گرفتار ملی ٹینٹوںنے بتایا کہ وہ شہر میں آصف مقبول ڈار ساکن ایم آئی جی کالونی بمنہ حال دھمام سعودی عرب اور سجاد گل پارمپورہ حال پاکستان کی ہدایت پر کام کر رہے تھے۔ سعودی عرب اور پاکستان کے دونوں ہینڈلرز ہتھیار اور رقوم  فراہم کر رہے تھے۔اعانت کاروں کے نیٹ ورک کے ذریعے ہتھیاروں اور رقم کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ اس گروہ نے این آئی اے کے دفتر، دہلی پولیس ہیڈ کوارٹر وغیرہ جیسی سیکورٹی تنصیبات کا بھی جائزہ لیا۔اور پاکستان میں ہینڈلرز کے ساتھ اس کا اشتراک کیا۔ تحقیقات کے مطابق شہر میں اہداف قتل کے لیے بھی ڈاکٹر آصف اور سجاد گل نے ہی انتخاب کیا ۔ سہیل قادر کھانڈے ،ڈاکٹر آصف ڈار کے ساتھ سعودی عرب میں کام کر رہے تھے اور اگست 2021میںڈاکٹر آصف کی ہدایت پر وہ واپس آئے اور TRF/MGH/ کے آپریٹو کے طور پر کام کرنا شروع کیا۔