سرینگر میں سرکاری دفاتر بند

 
سرینگر// سرینگر سے جموں دربار مو کے سلسلے میں سول سیکرٹریٹ اوراس سے منسلک دوسرے سرکاری دفاتر سرینگر میں بند ہو گئے اور اب سرمائی راجدھانی جموںمیں اگلے 6مہینوں کیلئے دفاتر دوبارہ 7نومبر کو کھلیں گے۔ جموں شہر میں دربار مو کے حوالے سے حفاظتی انتظامات سخت کردئے گئے ہیں۔ ہفتے کے پانچ دِن کام کرنے والے دفاتر کو کل 27 اکتوبر بند کیا گیا اورہفتے کے 6دن کام کرنے والے دفاتر کو 29 اکتوبر 2016کو سرینگر میں بند کر دیاجائے گا اور تمام دفاتر 7 نومبر 2016ء کو جموں میں اپنا کام کاج شروع کریں گے ۔ دفتری ریکارڈ اور ملازمین کو 28،29اور 30اکتوبر سے 5اور 6نومبر تک کو جموں لے جانے کے لئے ٹرکوں اوربسوں کی معقول تعداد دستیاب رکھی گئی ہے۔ اِن پانچ دِنوں کے دوران سرینگر سے جموں کے لئے صرف یکطرفہ ٹریفک کی اجازت ہوگی۔ چیف سیکرٹری نے دربار موگاڑیوں کو بحفاظت اپنے منازل تک پہنچانے کے لئے معقول حفاظتی اقدامات کرنے کی ہدایت دی ہیں ۔انہوں نے دربار مو ایام کے دوران اضافی بسوں اور ٹرکوں کو دستیاب رکھنے کے علاوہ کرینوں ،موبائیل ورکشاپوں ، ریکوری وینوں ، میڈیکل موبائیل ٹیمو ں اور ایمبولنس گاڑیوں کو لازمی آلات اور معقول عملے کے ساتھ سڑک پر تعینات کرنے کی بھی ہدایت دی تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال بخوبی نمٹا جاسکے ۔اس دوران سیول سکریٹریٹ کے باہر بسوں اور ٹرک گاڑیوں کو بھی سامان بھرتے ہوئے دیکھا گیا  ۔معلوم رہے کہ دربارمو کی منتقلی کے عمل کو145برس مکمل ہو گئے ہیں۔ منتقلی کے اس عمل کے دوران ہر برس سیکرٹریٹ سرگرمیاں 16سے20دن تک بند ہوجاتی ہیں۔ ریاست میں دارالحکومت کی منتقلی کی روایت ڈوگرہ مہاراجہ رنبیر سنگھ نے 1872 میں شروع کی اور اس کیلئے ایک خصوصی شاہی فرمان جاری کیا ، جسکے تحت سکریٹریٹ کو چھ چھ ماہ کیلئے جموں اور سرینگر میں کام کرنے کی ہدایت دی گئی۔ منتقلی کے اس عمل نے ریاست میں نہ صرف صوبائی سیاست کو فروغ دیا بلکہ دربارمو کے آنے جانے پر سرکار کا غیرمعمولی سرمایہ خرچ ہوتا ہے۔مبصرین کا کہنا ہے کہ " 1947 میں جب ہندستان آزاد ہوا تو کشمیر میں بھی شخصی راج کا خاتمہ ہوا لیکن سیکر یٹر یٹ کی منتقلی اپنی تمام تر روایات کیساتھ جاری رہی ہے ۔بتایا جاتا ہے کہ شیخ محمد عبداللہ نے جب 1947 کے بعد کشمیر کے وزارت عظمیٰ کا چارج سنبھالاتو دربارکی منتقلی کو وہ بھی منسوخ نہ کر پائے حالانکہ اس وقت مرکز میں برسراقتدار پنڈت نہرو کی کانگریسی حکومت شیخ محمد عبداللہ کی حمایت پر موجود تھی۔