سرینگر میں اہم ترقیاتی منصوبے اور فلائی اوور کی تعمیر تاخیر کے شکار

  سرینگر//شہر میں وادی کے سب سے بڑے فلائی اوور اور دیگر اہم ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل میں تاخیر ان پروجیکٹوں پر صرف ہونے والی رقومات میںبے تحاشااضافے اور سرکاری خزانے پر اضافی بوجھ کا موجب بن رہی ہے۔ دوسری جانب ان پروجیکٹوں کو مکمل کرنے کیلئے ہر سال یا چند ماہ کے بعد ایک نئی ڈیڈ لائن مقرر کرنے کے طریقہ کار نے اب بظاہر متعلقہ اداروں کی مستقل حکمت عملی کی شکل اختیار کر رکھی ہے۔جہانگیر چوک سے رام باغ تک نہ صرف سرینگر بلکہ وادی کے سب سے بڑے فلائی اوور جسے’ایکسپریس وے کاریڈور ‘کا نام دیا گیا ہے، کی تعمیر کا کام 2013میں شروع کیا گیا تھااور اس کی تکمیل کیلئے پہلے ستمبر2016، پھر مارچ2017اور پھرگزشتہ برس ہی اگست کا وقت مقرر کیا گیا۔بعد میں ستمبر2017میں فلائی اوور کے پہلے مرحلے کا افتتاح کرنے کی حکام کی پیشگوئی بھی سراب ثابت ہوئی۔ ڈیڈ لائن میں اضافے کا عمل کئی بار دہرانے کے باوجود قریب اڑھائی کلومیٹر لمبے اس فلائی اوور کی تکمیل ایک خواب نظر آرہی ہے۔اب جبکہ یہ معاملہ عدالت عالیہ میں بھی پہنچ گیا ہے ، اکنامک ری کنسٹرکشن ایجنسی یعنیERAکے حکام نے ہائی کورٹ کو اس بات سے آگاہ کیا ہے کہ یہ منصوبہ رواں برس جون میں مکمل کیا جائے گا۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ فلائی اوور کی تعمیر سے جہانگیر چوک سے رام باغ تک کا سفر تین منٹ سے بھی کم وقت میں مکمل ہوگا، تاہم اس کی تکمیل میںتاخیر سے اس روٹ پر روزانہ سفر کرنے والے ہزاروں مسافروں کو بدترین ٹریفک جام کی وجہ سے سخت مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔کے ایم این کے مطابق گزشتہ برس یکم فروری کے روزشہر کے جنوبی حصے میں فلڈ چینل پر تعمیر پرانے مہجور نگر پل کو اُس وقت گاڑیوں کی آمدورفت کیلئے بند کردیا گیا جبکہ پل کا ایک ستون ڈھ گیا۔اس کی تعمیر کا کام فوری طور شروع کرکے اسے جون کے مہینے تک مکمل کرنے کا نشانہ مقرر کیا گیا، لیکن مقامی لوگوں نے بتایا کہ پل کی تعمیر انتہائی سست رفتاری کے ساتھ جاری رہی جس کے باعث حکام اس اہم پل کو دسمبر2017کی نئی ڈیڈ لائن کے اندر بھی مکمل کرنے میں ناکام ہوگئے۔اب اسکی تکمیل کیلئے بھی امسال جون کا وقت مقرر ہے۔ادھردریائے جہلم پر زیر تعمیراتھواجن سعید آباد سوئیہ ٹینگ پل کا حال بھی اس سے مختلف نہیں ہے جسے مکمل کرنے کی دسمبر2017کی تازہ ڈیڈ لائن بھی چھوٹ گئی۔اس سے پہلے بھی اس پل کی تکمیل کیلئے کئی بار وقت مقرر کرنے کا عمل دہرایا گیا۔ تعمیر کا کام 2011میں شروع ہوا اور اسے 2013میں مکمل کرنے کا دعویٰ کیا گیا، تعمیر کے آغاز میںستون تو کھڑے کئے گئے لیکن اس کے بعد یہ کام نامعلوم وجوہات کی بناء پر سست رفتاری کا شکار ہوا اور پل کی تعمیرمکمل ہونے کا نام نہیں لے رہی۔شہر میںترقیاتی منصوبوں کی عمل آوری کے تئیں حکام کی غفلت اور غیر سنجیدگی کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ شمالی کشمیر سے شہر میں داخل ہونے والی بارہمولہ سرینگر شاہراہ کے پارمپورہ سے نارہ بل تک کے حصے کو چار گلیاروں والی شاہراہ میں تبدیل کرنے کا کام گزشتہ11برس سے جاری ہے۔ساڑھے7کلومیٹر لمبے اس حصے کو حال ہی میں ریاست کی10اہم شاہراہوں میں بھی شامل کیا گیا لیکن کبھی فنڈس کی عدم دستیابی اور کبھی متاثرین کے ساتھ قانونی جھمیلے اس کی تکمیل کے آڑے آئے۔نتیجے کے طور پر کئی بار ڈیڈ لائن مقرر ہوئی اور ہر بار چھوٹ گئی۔فی الوقت اس حصے کو گاڑیوں کی آمدورفت کے قابل بناتو لیا گیا لیکن اس کے بیچوں بیچ کئی تعمیرات اب بھی موجود ہیں اور اس پروجیکٹ کی تکمیل بھی ہنوز دلی دور است کے مصداق نظر آرہی ہے ۔ایسے دیگر چھوٹے بڑے پروجیکٹوں کی فہرست بھی بہت لمبی ہے۔اقتصادی ماہرین نے کشمیر میڈیا نیٹ ورک کو بتایا کہ مقررہ مدت میں مکمل نہ ہونے کے نتیجے میں ان پروجیکٹوں پر صرف ہونے والی رقومات میں ہر سال بھاری اضافہ ہوتا ہے جس کا براہ راست اثر سرکاری خزانے پر بھی پڑتا ہے۔ماہرین کے مطابق اس کی وجہ ہر سال تعمیراتی مواد کی قیمتوں میں متواتر اضافہ ہے اور ترقیاتی منصوبوں کے وقت پر مکمل نہ ہونے سے اب ان کی تکمیل پر کروڑوں روپے کی اضافی رقم خرچ ہوگی ۔کے ایم این کو دستیاب سرکاری دستاویزات بھی اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران ان پروجیکٹوں پر صرف ہونے والی رقومات میں مجموعی طور بھاری اضافہ درج کیا گیا ہے۔