سرینگر میں’’ترقی ہُنر اور انٹر پرنیور شپ‘‘ پر ورکشاپ شروع

سرینگر//’ترقی ہنر و کارجوئی‘‘ پر قومی ورکشاپ کل یہاں سرینگر میںشروع ہوا ۔ ورکشاپ میں پارچہ جات کی رنگائی اور پشمینہ بنکری پر خصوصی توجہ مرکوز رہے گی ۔ ایک ہفتہ طویل ورکشاپ کا انعقاد انسٹی چیوٹ ایڈوانسڈ سٹیڈیز اینڈ ایجوکیشن ایم اے روڈ کلسٹر یونیورسٹی سرینگر کی معاونت سے کیا گیا ہے ۔ ورکشاپ میں جموں اور کشمیر صوبوں کی مختلف یونیورسٹیوں کے 40 شرکاء شرکت کر رہے ہیں ۔ ورکشاپ 21  اکتوبر کو اختتام پذیر ہو گا ۔ وزیر تعلیم سید محمد الطاف بخاری جو اس موقعہ پر مہمانِ خصوصی تھے ، نے یونیورسٹی حکام کی اس نوعیت کے ورکشاپ کے انعقاد اور مضمون کے انتخاب کیلئے کافی سراہا ۔ تعلیمی شعبے میں بہتری لانے کیلئے حکومت کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے وزیر نے کہا کہ جموں کشمیر کے مختلف علاقوں میں مزید 15 کالج قایم کئے جائیں گے تا کہ اُن اس سہولیت سے محروم علاقوں کے طلاب کی تعلیمی ضروریات کو پورا کیا جا سکے ۔ انسٹی چیوٹ آف ایڈوانسڈ سٹڈی ان ایجوکیشن کی طویل خدمات کو یاد کرتے ہوئے وزیر نے کہا کہ ادارے نے گذشتہ 7 دہائیوں سے تعلیمی شعبے میں اپنا کردار ادا کر رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ادارہ نہ صرف سکولی تعلیم کے تدریسی ضروریات کو پورا کرتا ہے بلکہ غیر تدریسی اور پیشہ وارانہ پہلوؤں پر بھی نظر رکھتا ہے ۔ ورکشاپ کے منعقدین نے کہا کہ دورانِ ورکشاپ مختلف مضامین پر تبادلہ خیال کیا جائے گا جن میں کارجوئی کے ہُنر، مقامی ہُنر، قدرتی رنگائی کے مواقعے اور اس میں درپیش مشکلات، پشمینہ اون کی تیاری اور بنکری میں ہُنر کو ترقی دینے اور دیگر متعلقہ مضامین کے بارے میں جانکاری فراہم کی جائے گی ۔ اس موقعہ پر بخاری نے تصویری مقابلہ ’’ رائیٹ کلک ‘‘ میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والوں میں اسناد اور موومنٹوز تقسیم کئے جس کا انعقاد ماہ ستمبر میں کیا گیا تھا ۔ بین کالج مباحثے میں بہترین ڈبیٹر قرار دینے والے طلاب کو بھی وزیر نے مبارکباد دی ۔ بعد میں وزیر نے کالج میں منعقدہ فوٹو نمائش کا افتتاح کیا ۔ جو معاصرفنکار ارشد صالح کی نگرانی میں منعقد کی جا رہی ہے ۔ اس موقعہ پر انسٹی چیوٹ آف ایڈوانسڈ سٹڈیز ان ایجوکیشن کے سالانہ تحقیقی جریدے ’’ ریسرچ کم پینڈیم ‘‘ کو بھی وزیر نے اجراء کیا ۔