سرینگر میونسپل کارپوریشن کامطلع صاف ہوگیا

 کانگریس کو سبقت حاصل: میر

 
سرینگر//سرینگر میونسپل کارپوریشن کیلئے میئر اور ڈپٹی میئر کے انتخاب کی جنگ اب واضح ہوگئی ہے۔ کانگریس نے اپنے کونسلرغلام رسول حجام کو میئر اور آزاد گروپ کے ایک کونسلر شیخ عمران کو ڈپٹی میئر کیلئے میدان میں اتارنے کا اعلان کیا ہے۔انکا مقابلہ پیپلز کانفرنس کے حمایت یافتہ جنید متو اور آزاد کونسلر محمد سلام لون کے ساتھ ہوگا۔ ان چاروں نے کل 6 نومبر کو خفیہ ووٹنگ کے ذریعے  ہونے والے انتخاب کیلئے میونسپل کارپوریشن سرینگر میں اپنے کاغذات نامزدگی داخل کرائے۔ سرینگر میونسپل کارپوریشن میں کل 74وارڈ ہیں ۔یہاں 73وارڈوں میں انتخاب ہوا تھا، جبکہ ایک امیدوار پہلے ہی بلا مقابلہ کامیاب ہوا تھا۔تاہم پولنگ کے روز صورہ وارڈ میں کوئی ووٹ نہیں ڈالا گیا، جبکہ جنید متو تین اور ایک امیدوار دو نشستوں پر کامیاب ہوئے تھے، اس طرح کی انکی نشستیں خالی ہوئیں۔ فی الوقت کارپوریشن میں صرف 69 کونسلر ہیں ،جنہیں ووٹ دینے کا حق ہے۔نتائج ظاہر ہونے کے بعد کانگریس کو16 وارڈوں میںفتح ہوئی،جن میں 6 امیدوار بلا مقابلہ بھی کامیاب ہوئے، وہی بھاجپا کے4 اور پیپلز کانفرنس کے ایک امیدوار نے جیت درج کی۔انتخابات میںمجموعی طور پر54آزاد یا درپردہ حمایت یافتہ امیدوار کامیاب ہوئے ہیں ، جن میں ایک درجن  سے زائد امیدواروں کو پی ڈی پی کی حمایت حاصل تھی۔دوسری طرف پی ڈی پی کے باغی رکن اسمبلی عمران انصاری اس بات کا دعویٰ کررہے ہیں کہ  انکی ایک درجن سے زائد امیدواروں کا حمایت حاصل رہی ہے۔کانگریس کے ریاستی صدر غلام احمد میر نے جمعہ کو پریس کانفرنس کے دوران اعلان کیا’’ غلام رسول شیخ کو سرینگر میو نسپل کارپوریشن کے مئیر کے عہدے کے لئے نامزد کیا گیاہے جنہوںنے 2000ووٹوں سے جیت درج کی جبکہ آزاد امیدوار شیخ عمران کو نائب مئیر کے عہدے کے لئے نامزد کیا گیا ہے‘‘۔کانگریس کے ریاستی صدر دعویٰ کیاہے کہ آزاد کونسلروں کی ایک بڑی تعداد کانگریس کو اپنی حمایت پیش کرنے کے لئے تیارہے ۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی نتایج کے بعد کانگریس پارٹی نے سرینگر میونسپل کارپوریشن میں سیکولر جماعت کی نمائندگی کو یقینی بنانے کیلئے اْن کونسلروں کیساتھ صلاح ومشورہ کیا ہے جنہوں نے بلدیاتی انتخابات میں غیر پارٹی بنیادوں پر حصہ لیا ،جن میں بعض آزاد کونسلر بھی شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ صلاح ومشورے کے بعد کانگریس کو اتنی حمایت حاصل ہوئی ہے جسکی بنیاد پر ہم یہ اعلان کررہے ہیں کہ سرینگر کا اگلا میئر اور ڈپٹی میئر کانگریس کے نامزد کردہ ہونگے۔سابق وزیر سجاد غنی لون نے امید ظاہر کی تھی کہ انکی جماعت کا میئر ہی سرینگر کی کمان سنبھالے گا۔پیپلز کانفرنس(س) کے سربراہ اور ممبر اسمبلی ہندوارہ نے سماجی رابطہ گاہ ٹیوٹر پر انتخابی نتایج برآمد ہونے سے قبل ہی پیغام درج کرتے ہوئے کہا تھا’’ انشاللہ پیپلز کانفرنس کا پہلا میئر ہوگا،اچھے نتائج کی امید ہے،یہ وقت سرینگر کو وہ دینے کا ہے،جس کا وہ حق دار ہے،محنت کش لوگ جو وہاں پر زمینی سطح پر کام کریں گے‘‘۔ 
پریس کانفرنس
کانگریس صدر غلام احمد میر نے دعویٰ کیا ہے کہ حالیہ بلدیاتی انتخابات میں کانگریس پارٹی سب سے بڑی جماعت بن کر اْبھری ہے۔ پارٹی ہیڈ کوارٹر پر طلب کی گئی ہنگامی پریس کا نفرنس سے خطاب کرتے ہوئے غلام احمد میر نے کہا کہ حالیہ بلدیاتی انتخابات میں کانگریس پارٹی جموں وکشمیر میں سب سے بڑی جماعت بن کر اْبھر ی ہے۔انہوں نے کہا کہ کانگریس کیلئے بلدیاتی انتخابات کافی چیلنج سے بھر پور تھے ،کیونکہ اس جماعت کا مقابلہ فرقہ پرست سوچ رکھنے والی جماعتوں بی جے پی اور آرایس ایس کے ساتھ تھا۔انہوں نے کہا کہ فرقہ پرست جماعتوں کو ریاست سے باہر رکھنے کیلئے کانگریس نے ان انتخابات میں کافی طاقت لگائی اور لوگوں کے تعاون سے کامیابی بھی ہاتھ آئی۔میونسپل اداروں کے ذمہ داروں بشمول میئر،ڈپٹی میئر،صدوراورنائب صدورکاانتخاب خفیہ ووٹنگ کے ذریعے عمل میں لائے جانے سے متعلق ترمیم اورنئے قوانین پر کانگریس صدر نے سخت ردعمل ظاہرکیاہے۔انہوںنے کہاکہ جموں اینڈ کشمیر میونسپل قوانین ( ترمیمی ) بِل 2018ء کو منظوری دیناہی تھی توایسامیونسپل انتخابات سے قبل ہوناچاہئے تھا۔ میر نے کہاکہ نئے میونسپل قوانین کوبلدیاتی انتخابات سے پہلے ہی لاگوکیاجاناچاہئے تھا۔تاہم انہوں نے کہاکہ گرچہ نئے میونسپل قوانین سے میئر،ڈپٹی میئریاصدورونائب صدورکے انتخاب پرکوئی اثرنہیں پڑے گالیکن گورنرانتظامیہ کااچانک یہ فیصلہ لیناکچھ شکوک وشبہات کوجنم دیتاہے۔انہوں نے کہاکہ ابھی ریاستی اسمبلی برقرارہے توبہترطریقہ یہی ہوتاکہ ترمیمی بل کواسمبلی میں پیش کیاجاتا تاکہ منتخب ممبران ترمیم کے مثبت ومنفی پہلوو ں کوسمجھ پاتے۔کانگریس صدر نے  کہاکہ ریاستی اسمبلی اورراجیہ سبھامیں بھی خفیہ ووٹنگ کاایک طریقہ رائج ہے تواْسی طریقے کواستعمال میں لایاجاسکتاتھا،اورترمیم کی ضرورت ہی نہیں تھی۔