سرینگر لداخ شاہراہ یکطرفہ

غلام نبی رینہ
کنگن//434کلو میٹر سرینگر لداخ شاہراہ کو آج یکطرفہ مال بردار گاڈیوں کے لئے کھول دیا گیا ہے اور سونہ مرگ سے لداخ کی طرف 100مال بردار گاڈیوں جن میں اشیائے ضروریہ بھرا ہوا تھا کو روانہ کیا گیا ۔معلوم ہوا ہے کہ 78روز تک بند رہنے کے بعد سرینگر لداخ شاہراہ کو یکطرفہ طور پر 25مارچ کو آمدورفت کے لئے کھول دیا گیا تھا لیکن سرکاری حکمنامے کی ہدایت پر لداخ شاہراہ پر مال بردار گاڈیوں کو چلنے کی اجازت نہیں تھی تاہم موسم میں بہتری اور سڑک کی بہتر حالت کے بعد سونہ مرگ میں سینکڑوں مال بردار گاڈیاں پہنچ چکی تھیں اور آج صبح چھ بجے سے صبح ساڑھے آٹھ بجے تک سونہ مرگ سے لداخ کی طرف 100 مال بردار گاڈیوں کو روانہ کیا گیا ۔ٹریفک پولیس کے ایک اہلکار نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ کل ملاکر سونہ مرگ سے لداخ کی طرف مال ومسافر اور ٹاٹا موبائل سمیت ایک ہزار کے قریب گاڈیوں کو روانہ کیا گیا ۔ادھر سونہ مرگ میں درماندہ مال بردار گاڈیوں کے ڈرائیوروں نے بتایا کہ کچھ گاڈیاں شتکڑی سے ہوکر نئے روڈ سے آکر بغیر وے برج پر وزن کئے بغیر نکل جاتی ہیں اور ہم یہاں پر گذشتہ دس دنوں سے درماندہ ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اگر محکمہ ٹرانسپوٹ نے سونہ مرگ میں قائم وے برج پر لاکھوں روپے کی لاگت سے سی سی ٹی وی کیمرے نصب کئے ہیں تاکہ کوئی بھی گاڈی بغیر وے برج پر وزن کئے بغیرنہ نکل سکے۔ان ڈرائیوروں نے ٹرانسپوٹ کمشنر سے مطالبہ کیا کہ ٹرک یارڈ کے باہر بھی محکمہ موٹر وہیکل کے ملازمین کو تعینات رکھا جائے تاکہ کوئی بھی گاڈی وے برج پر وزن کئے بغیر باہر سے نہ نکل سکیں ۔