سرینگر ضلع کیلئے بجلی کٹوتی شیڈول کا آغاز | آج سے 23نومبر تک اطلاق رہے گا، بعد میں نظر ثانی کی جائیگی:حکام

سرینگر //محکمہ بجلی نے سرینگر کیلئے نئے کٹوٹی شیڈول کا علان کر دیا ہے جس کے تحت میٹر یافتہ علاقوں میں روزانہ ڈیڑھ گھنٹے جبکہ غیر میٹر علاقوں میں تین گھنٹے بجلی بند رہے گی اس سلسلے میں کشمیر پاور ڈیولیمنٹ کارپورشن کے شعبہ ترسیل کے چیف انجینئر کی جانب سے باضابطہ طور ہفتہ کو کٹوتی شیڈول جاری کیا گیا جس کے تحت بجلی فیڈروں کے حساب سے میٹر اور غیر میٹر علاقوں کو تین الگ الگ گروپوں میں تقسیم کیا گیا ہے جن میں کٹوتی شیڈول باری باری عمل میں لایا جائے گا ۔ شیڈول میں کہا گیا ہے کہ اس کی معیاد 7نومبر سے 23 نومبر تک ہو گی ۔محکمہ نے بتایا کہ میٹروالے علاقوں میں صبح 7بجے سے 10بجے کے بیچ مصروف ترین اوقات کے دوران 45منٹ کیلئے بجلی بند رہے گی ۔اسی طرح شام 6بجے سے 10بجے کے درمیان 45منٹ کیلئے بجلی سپلائی بند کی جائیگی۔اس طرح میٹر والے علاقوں میں ڈیڑھ گھنٹے کی کٹوتی ہوگی جسکا دورانیہ دن میں دو بار 45منٹ کا ہوگا ۔محکمہ کے مطابق نان میٹر علاقوں میں صبح ڈیڑھ گھنٹے اور شام ڈیڑھ گھنٹے بجلی بند رہے گی۔ اس طرح غیر میٹر علاقوں میں دن میں 3گھنٹے کی کٹوتی کی جائیگی جو  باری باری دن میں دو بار کی جائیگی۔ کٹوتی شیڈول پر عملدر آمد کرنے کیلئے سرینگر ضلع کے تمام علاقوں کو مختلف گروپوں میں تقسیم کیا گیا ہے جس میں A1،A2،A3کے علاوہ  B1، B2اورB3 گروپ شامل ہیں ۔محکمہ بجلی نے بتایا کہ سردیوں میں اضافہ کے ساتھ ہی صارفین نے گرمی فراہم کرنے والے الات کا بے تحاشہ استعمال کرنا شروع کر دیا ہے جس کے نتیجے میں پورا سسٹم اور لوڈ ہو گیا ہے ۔ذرائع کا مزید کہناہے کہ گذشتہ دو ہفتوں کے دوران بجلی کی سپلائی اور ڈیمانڈ میں ایک وسیع خلیج پیدا ہو گئی ہے جس کو پاٹنا ناگزیر بن چکا تھا ۔ انہوں نے بتایا کہ سپلائی اور ڈیمانڈ میں توازن پیدا کرنے کیلئے کٹوتی شیڈول مرتب کیا گیا ہے اور اب اسی شیڈول کے مطابق 23نومبر تک بجلی فراہم کی جائے گی ،تاہم اگر صارفین نے محکمہ کے ساتھ تعاون نہ یں کیا تو23نومبر کے بعد اس پر نظر ثانی کی جائیگی اورآنے والے دنوں میں  مزید کٹوتی کی جائیگی ۔محکمہ بجلی نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ اس وقت محکمہ 1680میگاواٹ بجلی فراہم کر رہا ہے جبکہ گذشتہ سال 1400میگاواٹ بجلی  اس موسم میں فراہم کی جارہی تھی ۔انہوں نے مزید کہا کہ سردیوں میں محکمہ کو صرف اڑھائی سو میگاواٹ بجلی مقامی پروجیکٹوںسے حاصل ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سردیوں میں  وادی میں بجلی کی طلب بڑھ جاتی ہے ا و ر2000سے 2200میگاواٹ کی ضرورت پڑتی ہے لیکن محکمہ صرف 1680میگاواٹ بجلی کی فراہمی کو ممکن بنا سکتا ہے۔