سرینگر شہر یونیسکو کے تخلیقی شہروں کے زمرے میں شمار

سرینگر//ایک اہم پیش رفت میں سرینگرشہرکو یونیسکو کے تخلیقی شہروں کی فہرست میں دستکاریوں اورآرٹ کے زمرے میں منتخب کیا گیا ہے۔تخلیقی شہروں کی فہرست میں سرینگر کے شامل کئے جانے کے بعدشہرکے دستکاروں کیلئے اپنی مصنوعات کو عالمی سطح پر یونیسکو کے ذریعے پیش کرنے کی راہ ہموار ہوگئی۔ یونیسکو کے تخلیقی شہروں کی فہرست میں تخلیقی میدان کے سات زمرے ہیں جن میں لوک آرٹ، میڈیا،فلم، ادب، ڈئزاین، فن غذائیت اور میڈیا آرٹ شامل ہیں۔ سرینگرکو تخلیقی شہروں کی فہرست میں نامزد کرنے کا ڈوزئرسال2019میں داخل کیا گیاتھا تاہم اُس سال صرف دوشہروں ممبی اور حیدرآباد کو فلموں کیلئے تخلیقی شہروں کی فہرست میں شامل کیا گیا ۔2019سے قبل صرف تین بھارتی شہروں کو ہی یونیسکو کے تخلیقی شہروں میں نامزد کیا گیاتھاجن میں جے پور(دستکاری اور لوک آرٹ)،وارانسی(موسیقی کا تخلیقی شہر) اورچنئی (موسیقی کاتخلیقی شہر) شامل ہیں۔ سال 2020 میں یونیسکو نے اس کیلئے درخواستیں طلب نہیں کی تھیں۔ جہلم توی فلڈریکوری پروجیکٹ کے چیف ایگزیکیٹو افسر ڈاکٹر عابد رشید شاہ نے کہا کہ کہ سرینگر شہرکو یونیسکو کے تخلیقی شہروں کی فہرست میں نامزد کرنے کا عمل اوراس کیلئے رقم عالمی بینک کی مالی معاونت کے پروجیکٹ جہلم توی ریکوری پروجیکٹ نے شروع کیا۔انہوں نے کہا کہ یہ شہر کے تاریخی دستکاری اور آرٹ کاتسلیم کیا جاناہے۔ڈاکٹر عابد نے کہا کہ یہ ہم سب کیلئے فخر کا لمحہ ہے۔انہوں نے کہا کہ عالمی بینک،جہلم توی فلڈریکوری پروجیکٹ اورمحکمہ صنعت کی کاوشوں کا نتیجہ ہے جنہوں نے اس کیلئے قابل سراہنا کام کیا۔