سرینگر اور بانڈی پورہ میں10مقامات پراین آئی اے کے چھاپے

 سرینگر// قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) نے بدھ کو سرینگر اور بانڈی پورہ میںدس مقامات  اور بنگلورو میں ایک مقام پر چھاپے ڈالے۔بیان میں کہا گیایہ چھاپے بعض’ نام نہاد‘ این جی اوز اور ٹرسٹوں کو ملک اور بیرون ملک خیراتی سرگرمیوں کے نام پر فنڈ جمع کر کے اس کو جموں و کشمیر میں علیحدگی پسند سرگرمیوں پر صرف کرنے کے بارے میں درج ایک کیس کے سلسلے میں ڈالے گئے'۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ این آئی اے نے یہ کیس ماہ رواں کی8 تاریخ کو زیر نمبر 8/2020زیر دفعات 120B,124A IPCاور سیکشن 17,18,22A,22C,38,39 اور 40UA(P)A,1967 درج کیا تھا جب یہ مصدقہ اطلاع موصول ہوئی تھی کہ بعض این جی اوز اور ٹرسٹوں کی طرف سے ملک و بیرون ملک عطیات، تجارتی کنٹریبیوشنز وغیرہ کے نام پر فنڈ جمع کیا جاتا ہے اور بعد میں اس فنڈ کو جموں وکشمیر میں علاحدگی پسند سرگرمیوں پر صرف کیا جاتا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ جن کی رہائش گاہوں میں تلاشیاں لی گئیں ان میں( جے اینڈ کے کولیشن آف سیول سوسائٹی )کے کوارڈینیٹر خرم پرویز،اسکے ساتھی پرویز احمد بخاری،پرویز احمد مٹا اور بنگلورو میں ساتھی سواتی شیشادری،لاپتہ ہونے والے والدین کی تنظیم ( اے پی ڈی پی) کی چیئر پرسن پروینہ آہنگر، اور این جی او آفس اتھروٹ اور جی کے ٹرسٹ شامل ہیں۔ بیان کے مطابق چھاپوں کے دوران کچھ قابل اعتراض دستاویزات کے علاوہ کئی الیکٹرانک آلات بھی ضبط کئے گئے ہیں۔
 

کارروائی اظہارِ آزادی دبانے کی مثال: محبوبہ

یو این آئی
 
سرینگر// پی ڈی پی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) کی طرف سے معروف حقوق انسانی کارکن خرم پرویز اور روزنامہ گریٹر کشمیر کے دفتر پر چھاپوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ این آئی اے اختلاف رائے رکھنے والوں کو ڈرا دھمکا رہی ہے۔ انہوں نے ایک ٹویٹ میں کہا: 'حقوق انسانی کارکن خرم پرویز اور گریٹر کشمیر کے دفتر پر این آئی اے کے چھاپے حکومت ہند کی طرف سے آزادی اظہار و اختلاف رائے کا گلہ دبانے کی ایک اور مثال ہے۔ افسوس کی بات ہے کہ این آئی اے بھارتیہ جنتا پارٹی کی پالتو ایجنسی بن کر ان لوگوں کو ڈرا دھمکا رہی ہے جو بی جے پی کے ہاں میں ہاں نہیں ملاتے ہیں'۔محبوبہ مفتی نے اپنے ایک اور ٹویٹ میں کہا: 'ایسے وقت میں جب جموں و کشمیر میں زمین اور دیگر وسائل کو لوٹا جار ہا ہے حکومت ہند میڈیا سے زیباطیس اور یوگا پر ادارے لکھانا چاہتی ہے۔ بی جے پی کے "سب کچھ ٹھیک" کے نعرے کے تحت سچائی سب سے زیادہ نشانہ بنی ہوئی ہے۔ جو صحافی "گودی میڈیا" کا حصہ نہیں بننا چاہتا ہے اس کو ٹارگیٹ کیا جا رہا ہے'۔
 

کشمیرمیں ذرائع ابلاغ مسلسل نشانہ پر

ایڈیٹرس گلڈکا اظہارتشویش

سرینگر//کشمیرایڈیٹرس گلڈ نے پریس کالونی میں انگریزی روزنامہ گریٹر کشمیرکے دفتر پر قومی تحقیقاتی ایجنسی کے صبح سویرے چھاپے پرتشویش کااظہار کیا ہے۔اگر چہ قومی تحقیقاتی ایجنسی نے بتایا کہ یہ چھاپہ جی کے ٹرسٹ پرتھا،تاہم گریٹر کشمیرانتظامیہ نے بتایاکہ تحقیقاتی ایجنسی نے کمپیوٹروں کی جانچ کی اور ہارڈ ڈرائیوزکو ساتھ لیا۔ کافی عرصے سے کشمیرمیں ذرائع ابلاغ کومسلسل نشانہ بنا کر ذلیل کیاجارہا ہے اورسرکاری اورغیرسرکاری افراداس پرحملہ کرتے ہیں۔ایک بیان میں گلڈ نے کہا کہ کشمیرمیں ذرائع ابلاغ کایہ ثابت شدہ ریکارڈ ہے کہ نامساعد حالات اورمشکلات کے باوجود وہ پیشہ ورانہ اداروں کی طرح کام کرتا ہے اورصحافتی اقدار کوبرقرار رکھتے ہوئے معروضیت سے فرائض انجام دیتا ہے۔  کشمیرایڈیٹرس گلڈ نے کشمیرمیں صحافی ہونے کی قیمت چکانے پر تشویش کااظہار کرتے ہوئے اُمید ظاہر کی کہ کشمیرمیں ذرائع ابلاغ کو بغیر کسی رکاوٹ کے کام کرنے دیا جائے گا،جوجموں کشمیر اورجموں کشمیر سے باہر ہر کسی کے مفاد میں ہے۔