سرینگر۔جموں شاہراہ پر شدید ٹریفک جام

بانہال // پیر کی شام کو بیٹری چشمہ کے مقام پسیوں کے گر آنے کی وجہ سے گیارہ گھنٹوں تک بند رہنے کے بعد تین سو کلومیٹر لمبی جموں سرینگر شاہراہ پرگاڑیوں کی آمدورفت شام کو ہی دوبارہ بحال کی گئی تھی لیکن شاہراہ کے کھولنے کے فورا بعد ہی رام بن اور بانہال کے سیکٹر میںشدید ٹریفک جام کی وجہ سے سینکڑوں مسافروں کو پچھلے دو روز سے سخت ترین مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ شدید ٹریفک جام کو مدنظررکھ کر اگرچہ ٹریفک حکام نے جواہر ٹنل کے آر پار، ادہمپور اور دیگر مقامات پر مزید ٹریفک کو آگے بڑھنے پر روک لگا دی لیکن رام بن ضلع میں دو روز سے شاہراہ کے بند رہنے کی وجہ سے مختلف مقامات پر دو ہزار سے زائید مسافر اورمال برادر گاڑیاں جام کی وجہ سے سست رفتاری کے ساتھ کل دوپہر بعد ہی آگے بڑھ پائیں اور جموں سے سرینگر تک کا سفر 36 گھنٹوں میں طے ہو پایا۔ شاہراہ پر جاری ٹریفک جام کی وجہ سے عام مسافروں ، مرد وزن پر مشتمل غیر ریاستی سیاحوں کے ساتھ ساتھ ضلع رام بن کی ہزاروں کی آبادی بھی روز روز کے ٹریفک جام کی مصیبت سے تنگ آئی ہے اور ٹریفک نتظامیہ  کے خلاف لوگوں میں سخت غم وغصہ پایا جارہا ہے۔   ادھر ٹریفک زرائع نے بتایا کہ منگل کی شام تک ٹریفک جام پر قابو پایا گیا تھا اور درماندہ پڑی بیشتر مسافر گاڑیوں نے متاثرہ علاقے کو پار کیا تھا لیکن ابھی بھی سینکڑوں کی تعداد میں سیبوں سے لدے ٹرک  رام بن اور بانہال کے سیکٹر سے گذر کر جموں کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بدھ کے روز شاہراہ پر اپنا سفر شروع کرنے سے پہلے مسافر شاہراہ کی صورتحال کے بارے میں جانکاری لیں تاکہ بعد میں انہیں شاہراہ پر مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔