سرینگراورجموں میں جینوم ٹیسٹنگ لیبارٹریاں

جموں//جموں اور سرینگرکے میڈیکل کالجوں میں کووِڈ- 19کی نئے اقسام کی جانچ کرنے کیلئے جرمنی کی ایک کمپنی کی مدد سے دوجینوم ٹیسٹنگ  لیبارٹریوں کاقیام عمل میں لایاجائے گا۔یہ لیبارٹریاں جموں اور سرینگرکے میڈیکل کالجوں میں آئندہ ڈیڑھ ماہ کے دوران نصب کی جائیں گی جس کیلئے ضروری لوازمات پوراکئے جارہے ہیں۔حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پربتایا کہ جرمنی کی ایک کمپنی نے سرینگراورجموں کے میڈیکل کالجوں میں جینوم سیکیونسنگ لیبارٹریاں قائم کرنے سے اتفاق کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس کیلئے لوازمات مکمل کرنے کا عمل آخری مرحلے میں ہے۔حکام نے کہاکہ مہلک وائرس تیزی سے اپنی ہیت بدل رہا ہے اوراب تک اس کی’’ڈیلٹا‘‘ہیت ،اومیکرون کے مقابلے میںسب سے مہلک ثابت ہوئی ہے،جو زیادہ تیزی سے پھیلتا ہے۔حکام نے مزیدکہا کہ دونوں خطوں میں یہ لیبارٹریاں قائم کرنالازمی بن گیاتھا کیوں کہ نمونوں کا جانچ میں وقت لگتا تھا۔ہمارامْقصدلوگوں کی جانیں بچاناہے۔مناسب طبی نگرانی اسی وقت ممکن ہے جب ہمیں معلوم ہو کہ مریض کس انفیکشن میں مبتلا ہے ۔حکام کے مطابق معاہدے کے تحت جرمنی کی کمپنی لیبارٹریوں کی تیکنیکی ہینڈلنگ میں چھ ماہ تک مدددے گی اور ہمارے تیکنیکی عملہ کو بھی تربیت دے گی۔حکام نے کہا کہ چھ ماہ تک وہ ہمیں تعاون دیں گے اوراس کے بعد ہماراتربیت یافتہ عملہ لیبارٹریوں کابندوبست خودسنبھالے گا۔ افسر نے کہا کہ اگرچہ کووِڈ کا علاج ایک ہی ہے تاہم کووِڈ- 19اپنی ہیتیں تیزی کے ساتھ بدلتا رہتا ہے،جو باعث تشویش ہے۔فی الوقت جینوم ٹیسٹنگ کیلئے جموں کشمیر کے نمونے دہلی بھیجے جاتے ہیں۔
 
 

لداخ میں کووِڈ-  19 کے133نئے کیس

لیہہ//لداخ میں کووِڈ- 19کے مزید133نئے معاملے سامنے آئے ہیں اوراس طرح خطے میںوباء پھوٹ پڑنے سے اب تک اس بیماری میں مبتلاء ہونے والوں کی تعداد25,348,ہوگئی ہے جبکہ فی الوقت مرکزی زیرانتظام علاقہ میںکووڈکے1,250فعال معاملات ہیں۔لداخ میں ابھی تک اس بیماری نے223لوگوں کی جان لی ہیں جن میں164لیہہ میں اور59کرگل میں شامل ہیں۔تاہم جمعرات کو خطے میں کورونا سے کسی کے فوت ہونے کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔خطے میں ابھی تک اس وباء سے22765لوگ شفاپاچکے ہیں۔نئے159معاملوں میں148کاتعلق لیہہ سے ہے جبکہ11کاتعلق کرگل سے ہے۔