سرگرمیوں پر قدغن صحیح قدم:انجینئر

سرینگر//عوامی اتحاد پارٹی کے سربراہ اور ایم ایل اے لنگیٹ انجینئر رشید نے ریاستی سرکار کی طرف سے بڈگام اور سرینگر اضلاع میں بھیک مانگنے پر پابندی عائدکرنے کیفیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے ا سے ناکافی بتایا ہے ۔ اپنے ایک بیان میں انجینئر رشید نے کہا کہ غیر ریاستی بھکاریوں کی باقی ماندہ ریاست میں بھی بھیک مانگنے پر پابندی لگانی جانی چاہئے ساتھ ہی انہوں نے اپنے اس مطالبے کو دہرایا کہ ان ہزاروں غیر ریاستی خاندانوں کو جنہوں نے کشمیر کے چپے چپے میں سرکاری اراضی پر قبضہ کیا ہے کشمیر بدر کیا جائے ۔ انہوں نے کہا ’’سرکار کا بھکاریوں پر پابندی لگانے کا قدم حوصلہ افزاء ہے تاہم سرکار کو چاہئے کہ مسئلہ کی اصل جڑ کی طرف توجہ دے جس کیلئے لازمی ہے کہ ان ہزاروں غیر ریاستی لوگوں کو بغیر کسی تاخیر کے ریاست بدر کیا جائے جو نہ کہ پیشہ ورانہ مزدور یا کاریگر ہیں اور نہ ہی کوئی سیاح۔ حیرانگی کی بات تو یہ ہے کہ ان ہزاروں خاندانوں کا نہ کہیں سرکار کے پاس کوئی ریکارڈ ہے اور نہ ہی ان سے کوئی پوچھ تاچھ کرنے والا ہے ۔ یہ بات ہر کسی کے مشاہدے میں ہے کہ یہ لوگ دن بھر بے کار بیٹھتے ہیں لیکن بظاہر ٹینٹوں میں بسنے والے یہ مشتبہ افراد خوب رنگ رلیاں مناتے ہیں اور کوئی یہ نہیں پوچھتا کہ آخر ان کے پاس اتنا پیسہ کہاں سے آتا ہے ۔ صاف ظاہر ہے کہ یہ لوگ ریاست کی شناخت اور امن کیلئے زبردست خطرہ ہیں اور ان کی ہر سرگرمی بے حد مشکوک ہے جس کا خمیازہ آج نہیں تو کل یہاں کے لوگوں کو اٹھانا پڑ سکتا ہے ‘‘۔ انجینئر رشید نے سرکار سے مطالبہ کیا کہ وہ بغیر کسی عذر ان بن بلائے مہمانوں کو ریاست بدر کرے ورنہ کشمیری لوگ اپنی شناخت اور تشخص کی خاطر ان مجرمانہ ذہنیت رکھنے والے مشتبہ خاندانوں کو از خود کشمیر سے باہر کریں گے۔