سرکار کو شریعت محمدی میں مداخلت کا حق نہیں:مولانا سعیدحبیب

پونچھ//جامعہ ضیاء العلوم پونچھ کے مہتمم مولانا حبیب سعید احمد بانڈے نے دوٹوک الفاظ میں کہاہے کہ کسی بھی حکومت کویہ حق حاصل نہیں کہ وہ شریعت محمدی میں مداخلت کرے ۔آل انڈیا مسلم پرسنل لابورڈ کے بینر تلے بورڈ ممبر مولانا غلام قادرکی ہدایت پرایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا حبیب سعید احمد بانڈے نے  مرکزی حکومت سے اپیل کی کہ وہ مسلمانوں کے مذہبی معاملات میں مداخلت نہ کرے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت طلاق ثلاثہ کو توڑ مڑوڑ کر پیش کر کے اس کے خلاف مہم شروع کی گئی ہے جس کی وہ مذمت کرتے ہیں۔مولانا کاکہناتھاکہ طلاق کا ایک واضح طریقہ ہے جس کے لئے تین مہینے کی شرط رکھی گئی ہے ، ان تین ماہ میں اگر شادی شدہ جوڑا دوبارہ ایک دوسرے سے رجوع کرنا چاہے تو وہ رجوع کر سکتاہے۔انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں مختلف مذاہب ہیں جو ایک گلدستے کی طرح یہاں بھائی چارگی کے ساتھ رہتے آرہے ہیں اور یہ ملک پوری دنیا کے لئے ایک مثال بن چکا ہے۔تاہم ان کاکہناتھاکہ اب اس بھائی چارے کو نقصان پہنچانے کی سازشیں رچی جارہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ملک کی تمام ملی تنظیمیں حکومت سے یہ اپیل کرچکی ہیںکہ وہ شریعت محمدی کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہ کرے ۔انہوںنے کہاکہ وہ پونچھ کے علماء کی جانب سے حکومت سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ شرعی مسائل کو نہ چھیڑے ۔ان کاکہناتھاکہ شریعت میں مرد و زن دونوں کو ایک جیسے حقوق دیئے گئے ہیں لیکن اس معاملے کو غلط طریقہ سے اچھالا جا رہا ہے۔ انہوں نے موجودہ مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ تمام مسالک و مذاہب کے جذبات و احساسات کی قدر کرے جو ہندوستانی حکومت کی روایت رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس وقت کا وزیر اعظم سبھی مذاہب کا وزیر اعظم ہے اس لئے ان کو تمام مذاہب کو ساتھ لیکر چلنا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت مسلمانوں کے شرعی قوانین سے چھیڑ چھاڑ کے بجائے مسلمانوں کی ترقی کے راستے ہموار کرے۔مولانا سعیدنے کہا کہ مسلمانوں کے لئے حکومت کو تعلیمی ادارے قائم کرنے چاہئیںتاکہ اس پسماندہ قوم کا بھلا ہوسکے ، مسلمانوں کے بچے اس وقت گلی کوچوں میں پڑے ہوئے کچرے کے ڈھیروں میں کھانا تلاش کر رہے ہیںجن کو روزی روٹی مہیا کرنے کے بجائے اسلامی قوانین پر انگلیاں اٹھانا کہا ںکاانصاف ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ بات کہنا غلط ہے کہ مسلمان خواتین سے زبردستی پردہ کرایاجارہاہے بلکہ باغیور مسلم خواتین خود کو پردے میںہی محفوظ سمجھتی ہیں اس لئے وہ خود پردہ کرتی ہیں جنہیں اس کیلئے مجبور نہیں کیاجاتا۔انہوں نے کہا کہ اگرمسلمانوں کو کسی کے پردہ نہ کرنے پر اعتراض نہیں کہ وہ ننگے گھومتے رہیں یا زیادہ کپڑے پہن کر چلتے رہیں تو دوسری قوموں کا بھی فرض بنتاہے کہ وہ مسلمانوں کے مذہبی قوانین کیساتھ چھیڑ چھاڑ نہ کریں۔پریس کانفرنس کے دووران انہوں نے تمام مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ مسلم پرسنل لاء بورڈ کی جانب سے پورے ملک میں اس حوالے سے چلائی جارہی دستخطی مہم میں حصہ لیں۔انہوں نے کہا کہ 24اکتوبر بروز سوموار سے پونچھ میں بھی یہ مہم شروع کی جا ئے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے وہ سیول سوسائٹی کے ممبران اور نجی تنظیموں کا تعاون حاصل کر کے ان کو ساتھ لے کہ جگہ جگہ پہنچ کر یہ مہم شروع کریں گے ۔انہوںنے عوام سے اپیل کی کہ وہ مہم میں بڑھ چڑھ کر شریک ہوںتاکہ حکومت کو یہ پتہ چلے کہ مسلمان زبردستی شریعت پر عمل نہیں کرتے بلکہ مسلمان شریعت کو پسند کرتے ہیں اور اس کے دائرے میں رہ کر خود کو محفوظ سمجھتے ہیں۔