سرکار نے پانچ علیحدگی پسند لیڈروں کی سیکورٹی واپس لی

سرینگر/حکام نے اتوار کو پانچ علیحدگی پسند لیڈروں کی سرکاری سیکورٹی واپس لینے کا فیصلہ لے لیا۔

سرکاری ذرائع کے مطابق جن علیحدگی پسند لیڈران کی سیکورٹی واپس لے لی گئی ہے اُن میں میر واعظ عمر فاروق، پروفیسر عبد الغنی بٹ، بلال لون، شبیر شاہ اور ہاشم قریشی شامل ہیں۔

فیصلے کے مطابق مذکورہ لیڈران کی حفاظت پر مامور فورسز اہلکار، گاڑیاں اور دیگر سہولیات واپس لے لی گئی ہیں۔

یہ فیصلہ مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ کے اُس اعلان کے کئی روز بعد لیا گیا ہے جس میں اُنہوں نے سرینگر میں کہا تھا ''اُن لوگوں کی سرکاری سیکورٹی کے بارے میں سر نو غور کیا جائے گا جو پاکستان سے روپے حاصل کرتے ہیں''۔

دریںا ثناء حریت کانفرنس (ع) نے سرکار کے اس فیصلے پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکام نے خود ہی حریت لیڈروں کو سیکورٹی فراہم کرنے کا فیصلہ کیا تھا اور اس سلسلے میں اُن کی طرف سے کبھی اصرار نہیں کیا گیا تھا۔ حریت کے ایک ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ اس فیصلے سے مسئلہ کشمیر کی متنازع حیثیت پر کوئی فرق نہیں پڑنے والا نہیں ہے۔

واضح رہے کہ حریت کانفرنس (گ) کے چیئر مین سید علی گیلانی اور لبریشن فرنٹ چیئر مین محمد یاسین ملک کو کوئی سرکاری سیکورٹی حاصل نہیں ہے۔