سرکار از خود رشوت کو جواز فراہم کرتی ہے :انجینئر رشید

کپوارہ//اے آئی پی سربراہ انجینئر رشید نے ریاستی گورنر ستپال ملک سے کہا ہے کہ اگر وہ واقعی چور دروازے سے کی گئی بھرتیوں کو ختم کرنے اور اقرباء پروری سے ریاست کو آزاد کرنے کے دعوئوں میں سنجیدہ ہیں تو انہیں چاہئے کہ وہ کچھ سنجیدہ اقدامات کریںاور کچھ تلخ حقائق کا اعتراف کریں ۔ اپنے ایک بیان میں انجینئر رشید نے کہا ــ’’جہاں چاروں طرف چور دروازے کے ذریعے بھرتیوں کے چرچے عام ہیں وہاں گورنر موصوف کو معلوم ہونا چاہئے کہ گذشتہ دس برسوں کے دوران لگ بھگ ہر محکمہ میں ہر وزیر نے قوائد و ضوابط کو بالائے طاق رکھ کر اپنے منظور نظر افراد اور رشتہ داروں کو نوکریاں دی ۔ خاص طور سے گذشتہ پی ڈی پی ، بی جے پی مخلوط سرکار نے جسطرح سیول سیکریٹریٹ اور دیگر اداروں میں عجیب و غریب راستے نکال کر اپنے منظور نظر افراد کو نوکریاں دی وہ ریاست کی تاریخ کا سیاہ باب بن چکا ہے ۔ پوچھا جا سکتا ہے کہ ریاست اسمبلی میں پچھلے دس برسوں کے دوران درجنوں افراد کو نوکریاں کن ضوابط کے تحت فراہم کی گئیں ۔ اگر گورنر واقعی سنجیدہ ہیں تو سب سے پہلا کام انہیں اُن تمام افراداور چمچوں کو فوراًنوکریوں سے بے دخل کر نے کا انجام دینا چاہئے جنہیں ریٹائرمنٹ کے بعد دوبارہ لوگوں کا لہو چوسنے کیلئے تعینات کیا گیا ہے ۔ ایک طرف جہاں بے روز گاری اپنے عروج پر ہے تو دوسری طرف مختلف سرکاروں نے اپنے رشتہ داروں اور منظور نظر ریٹائر افراد کو دوبارہ نوکریاں دی گئی ہیں جو کہ نوجوانوں کے مستقبل پر شب خون کے برابر ہے ‘‘۔ انجینئر رشید نے سوال کیا کہ کیا عسکریت مخالف آپریشنوں کے نام پر وردی پوش افراد کو مراعات ، ترقیاں اور بھاری رقومات دینا رشوت کو قانونی حیثیت دینے کے مترادف بات نہیں ۔ انہوں نے کہا ’’جس طرح قوائد و ضوابط کی دھجیاں اڑا کر ہزاروں ایس پی اوز کو ریاستی وزراء اور پولیس کے چند افسروں نے تعینات کیا اس سے زیادہ افسوسناک بات کچھ نہیں ہو سکتی بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ ایس پی اوز کی تقرری بذات خود ایک بہت بڑا اسکینڈل ہے ۔ جہاں گورنر موصوف رشوت سے پاک انتظامیہ کی بات کرتے ہیں وہاں پوچھا جا سکتا ہے کہ اُن ملازمین کو ایک ماہ کی اضافی تنخواہ دینا کس طرح جائز ہے جنہیں بلدیاتی انتخابات کیلئے مامور کیا گیا ہے ۔ کیا ایسا کرنا اخلاقی رشوت ستانی نہیں ہے؟‘‘۔انجینئر رشید نے کہا کہ وہ گورنر کے ہر اس قدم کا خلوص نیت سے ساتھ دینے کیلئے تیار ہیں جس کا مقصد رشوت ستانی سے پاک انتظامیہ فراہم کرنا ہو لیکن شرط یہ ہے کہ گورنر موصوف انتظامی بد نظمی کو کشمیر مسئلہ سے جوڑ کر دنیا کو گمراہ کرنا چھوڑ دیں۔