سرکاری نرخنامے بالائے طاق،اشیائے ضروریہ کی من مانی قیمتیں وصول

سرینگر// سرکار کی جانب سے اشیائے ضروریہ کی مقرر ہ قیمتوںکو بالائے طاق رکھتے ہوئے قصابوں اور مرغ فروشوں نے لوٹ مچا رکھی ہے، جبکہ نان، شیر، سبزی و میوہ فروش بھی من مانے قیمتوں پر خریداروں کی گردنوں پر سوار ہو ئے ہیں۔ انتظامیہ کا تاہم کہنا ہے کہ گزشتہ ایک برس میں گراں فروشوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈائون کیا گیا اور اب تک جہاں647ایف آئی آر درج کئے گئے وہی90لاکھ روپے کے قریب جرمانہ بھی ناجائز منافع خوروں سے وصول کیا گیا۔ بازاروں میں لگی مہنگائی کی آگ اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافے کے  نتیجے میں میوہ،سبزیاں،مرغ،گوشت،نان اور شیر کے علاوہ دیگر اشیاء  ضروریہ عام لوگوں کی قوت خرید سے باہر ہوگئے ہیں،کیونکہ ان چیزوں میں دکانداروں کی جانب سے روز افزوں اضافے سے لوگ پریشان ہے۔ شہر کے علاوہ قصبہ جات اور دیہی علاقوں میں  بیشتر دکانداروں نے سرکاری نرخ نامے کو بالائے طاق رکھا ہوا،اور اپنی مرضی کی چلن عام ہوگئی ہے۔ عام لوگوں کی شکایت ہے کہ مرغ فروشوں نے کھلے عام170روپے فی کلو مرغ فروخت کرنا شروع کیا ہے،جبکہ شیر فروش اور نان فروش بھی سرکاری ریٹ لسٹ کو خاطر میں نہیں لا رہے ہیں۔ سرکار نے اگرچہ بغیر اجڑی گوشت کی قیمت535روپے مقرر کی تھی اور3ماہ کے اندر ہی فی کلو گوشت میں55روپے کا اضافہ کیا گیا تھا،تاہم قصاب 600روپے گوشت فروخت کرنے میں کوئی بھی عار محسوس نہیں کر رہے ہیں۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ دودھ میں پانی کی مقدار میں جہاں اضافہ کیا گیا ہے وہیں دودھ کے معیار کی جانچ اب قصہ پارینہ بن چکا ہے۔ پائین شہر سے تعلق رکھنے والے ہلال احمد کا کہنا ہے کہ جنوبی کشمیر کے بیشتر علاقوں سے شہر میں دودھ سپلائی کیا جاتا ہے،تاہم اس کے معیار کی جانچ نہیں ہو رہی ہے،اور دودھ کے نام پر پانی اور’’ دودھ کی پائوڈر‘‘ لوگوں کو سپلائی کی جاتی ہے،جبکہ لفافہ بند دودھ کی جانچ بھی متعلقہ محکمہ کیلئے اب کار درد بن گیا ہے۔ ایک اور شہری ظہور احمد نے بتایا کہ سبزیوں اور میوہ کا تو خد ہی حافظ ہے اور منڈی سے بازاروں تک قیمتوں میں دو گناہ اضافہ کیا جاتا ہے۔ محکمہ امور صارفین و عوامی تقسیم کاری کا تاہم کہنا ہے کہ امسال گراں فروشوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈائون کیا گیا۔محکمہ کا کہنا ہے کہ لیفٹنٹ گورنر کے مشیر کی ہدایت پر امسال محکمہ شہری رسدات ،امور صارفین و عوامی تقسیم کاری نے وادی بھر میں قانون کی خلاف ورزی کرنے کی پاداش میں573 ایف آئی آر درج کئے۔محکمہ کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر انفورسمنٹ مشتاق احمد وانی نے ا س سلسلے میں تفصیلات فراہم کرتے ہوئے کہا کہ اشیائے ضروریہ قانون کی خلاف ورزی کی پاداش میںمارچ2020سے اپریل2021تک قصابوں،مرغ فروشوں،بیکری دکانوں،میوہ فروشوں  کے خلاف499ایف آئی آر درج کئے گئے،جبکہ ا18ہزار905 ایسے دکانداروںسے63لاکھ90ہزار328روپے کا جرمانہ بھی وصول کیا گیا۔
انہوں نے  مزید کہا کہ اس دوران160دکانوں کو سیل بھی کیا گیا۔ وانی کا کہنا تھا کہ یہ اعداد شمار اس بات کی عکاسی کرتے ہیں ہے کہ محکمہ نے قانون کی خلاف ورزی کے مرتکبین کے خلاف کس قدر کاروائی عمل میں لائی۔ انفورسمنٹ افسر نے کہا کہ اپریل سے جولائی تک6311 مرتکبین سے25لاکھ93ہزار320روپے کا جرمانہ وصول کیا گیا جبکہ74کیس درج کرنے کے علاوہ265دکانوں کو سربمہر بھی کیا گیا۔  ان کا کہنا تھا کہ  محکمہ نے اس سلسلے میں کئی ایک ٹیموں کو تشکیل دیا ہے جو بازاروں کا معائنہ کرتی ہیں اور  قانون کی خالف ورزی کرنے والے دکانداروں کو جہاں جرمانہ عائد کرتی ہے وہ سڑی گلی،زاد المعیاد و غیر معیاری سبزی ،میوہ،بیکری اور دیگر اشیاء کو ضائع کرتی ہے۔ مشتاق احمد وانی نے کہا کہ حالیہ دنوں میں ہی لالچوک کی لیمبرٹ لائن اور بنڈ پر اضافی قیمتیں وصول کرنے کی پاداش میں2’’ بوٹیک‘‘ سیل کئے گئے،جبکہ صرافہ دکانوں کو بھی ہدایت دی گئی ہے کہ وہ سونے کا خالص معیار اور ہال مارک والے زیورات ہی فروخت کریں۔انہوں نے عوام سے بھی اپیل کی کہ وہ بازاروں میں ان کے ساتھ ہو رہی نا انصافی کے حولے سے محکمہ میں شکایات درج کریں۔