سرکاری ملازمین کے معاملات

سرینگر//حکومت ہند مرکزی زیر انتظام والے علاقوں جموں کشمیر اور لداخ میں ملازمت سے متعلق تمام تنازعات مرکزی انتظامی ٹریبونل  چندی گڑھ منتقل کرنے جارہی ہے۔جموں کشمیر کی تقسیم اور آئین کے تنسیخ کے9ماہ بعد حکومت ہند نے جموں کشمیر تنظیم نو قانون مجریہ2019کی رئو سے جموں کشمیر اور لداخ میں ملازمت سے متعلق تمام مسائل اور تنازعات کو مرکزی انتظامی ٹریبونل چندی گڑھ کی شاخ میں منتقل کیا۔ حکومت ہند کی وزارت پرسنل،عوامی مسائل و پنشنس کے محکمہ پرسنل اینڈ ٹرینگس کی طرف سے29اپریل کو جاری نوٹیفکیشن کے مطابق انتظامی ٹریبونل قانون مجریہ1985 کے دفعہ18کی شق18کے تحت حاصل اختیارات کو بروئے کارلائے ہوتے ہوئے مرکزی حکومت نے وزارت ٹرینگس،انتظامی اصلاحات ،عوامی مسائل و پنشنس کی نوٹیفکیشن  زیر نمبر SR 610 (E) 26جولائی1985میں ترمیم کی ہے۔نوٹیفکیشن کے مطابق مرکزی انتظامی ٹریبونل کے چندی گڑھ شاخ کو جموں کشمیر کے علاوہ لداخ،چندی گڑھ،پنجاب،ہماچل پردیش اور ہریانہ تک دائرہ حدود ہوگا۔
جموں کشمیر کے ایڈوکیٹ جنرل ڈی سی رینہ کا کہنا ہے کہ مرکزی زیر انتظام والے اس خطے میں ملازمین سے متعلق تمام تنازعات کو ماسوائے فوجی معاملات کو سینٹرل ایڈمنسٹریٹوٹریبونل چندی گڑھ منتقل کیا جائے گا۔ رینہ کا مزید کہنا تھا کہ آئین ہند کے تحت پارلیمنٹ کو کسی بھی طرح کے ٹریبونل کے قیام کا حد اختیار ہے اور اس میں ملازمت سے متعلق مسائل کیلئے ٹریبونل کا قیام بھی شامل ہے۔ ریاستیں اس طرح کے ٹریبونلوں کا قیام دفعہ323کی شقB کے تحت عمل میں لاسکتی ہے۔ جموں کشمیر میں پہلے آئین ہند کی دفعہ323کی شقB کا اطلاق نہیں تھا،جس کے تحت ناہی مرکزی ٹریبونل کو  جموں کشمیر کے ملازمین اور افسران سے کے ملازمت سے متعلق تنازعات کی شنوائی کرنے کا اختیار تھا اور نہ ہی جموں کشمیر نے از خود سابق ریاست میں اس طرح کے ٹریبونل کا قیام عمل میں لانے کی کوشش کی۔ جموں کشمیر میں اس سے قبل جموں کشمیر ہائی کورٹ ہی ملازمین کے مسائل کا نپٹارہ کرتا آیا ہے۔
جموں کشمیر میں پہلے مرکزی ملازمین ہی اپنے مسائل یا تنازعات کیلئے مرکزی انتظامی ٹریبونل کا دروازہ کھٹکھٹاتے تھے اور اب جبکہ دفعہ323کی شقB کا اطلاق جموں کشمیر میں کیا گیا ہے،اور چندی گڑ ھ میں ٹریبونل بھی پہلے سے موجود ہے،اس لئے ملازمت کے تمام مسائل کو چندی گڑھ منتقل کیا گیاہے۔حکومت ہند کی طرف سے1985میں انتظامی ٹریبونل قانون کو لاگو کیا گیا تھا،تاہم جموں کشمیر میں دفعہ370کی وجہ سے یہ قانون جموں کشمیر میں لاگو نہیں کیا گیا تھا۔دفعہ370کی تنسیخ اور31اکتوبر کو اس کی عمل آواری کے بعد یکم نومبر سے یہ مرکزی قانون جموں کشمیر اور لداخ میں ،جموں کشمیر تشکیل نو قانون2019کی وساقت سے لاگو ہوگیا۔یہ قانون بھارت میں مرکزی،ریاستی یا مقامی و دیگر حکام کے خلاف انتظامی ٹریبونل میں بھرتیوں و پبلک سروس کی طرف سے تعینات کئے گئے کسی بھی ملازم کی ملازمت سے متعلق شرائط کے حوالے سے تنازعہ یا شکایات کی سماعت کا حق فرہم کرتا ہے۔ اس قانون کی شق 4کے مطابق’’ کسی بھی ریاستی حکومت کی درخواست پر مرکزی حکومت،اس ریاست کیلئے انتظامی ٹریبونل کا قیام ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے عمل میں لاکر اس قانون کے تحت انتظامی ٹریبونل کو حدود اور اختیارات تفویض کرسکتا ہے۔‘‘
اس قانون میں دو یا اس سے زیادہ ریاستوں کے درمیان اس سلسلے میں با ضابطہ معاہدے اور مرکزی حکومت کی منظوری کے بعد مشترکہ انتظامی ٹریبونل کی جگہ بھی موجود ہے۔  دونوں وفاقی زیر انتظام اکائیوں میں انتظامی ٹریبونل میں ملازمت سے متعلق بڑی تعداد میں کیسوں کو منتقل کرنے کے بعد ان کو وہی پر نپٹایائے گا،جن کی تعداد قریب26 ہزار552ہے،جو کہ فی الوقت طویل عرصے سے ریاستی ہائی کورٹ کی دونوں ونگوں میں کافی عرصے سے التواء میں ہے۔انتظامی ٹریبونل کے شق29میں کہا گیا ہے’’عدالت یا حکام کے پاس زیر التواء ملازمت سے متعلق سماعت،انتظامی ٹریبونل کے قیام کی تاریخ سے ہی انتظامی ٹریبونل کو منتقل کیا جائے گا۔‘‘ انتظامی ٹریبونل کا حد اختیار،بھرتیوں سے متعلق تنازعات،یا ریاست میں سیول سروس کی بھرتیوں یا ریاست کے ماتحت کسی بھی عہدے اور منسلک تناعات سے ہوگا۔ انتظامی ٹریبونل قانون کی شق3میں کہا گیا ہے’’ ٹریبونل کے پاس تمام سماعت،کو تعزیرات ہند کی شق193,219اور228کے تحت جوڈیشل سماعت تصور کی جائے گی۔ جسٹس(ر) ایم کے ہانجورہ کی سربراہی والے ریاستی قانون(لاء) کمیشن نے پہلے ہی ریاستی چیف سیکریٹری کو ریاست میں انتظامی ٹریبونل قائم کرنے کی سفارش کی تھی۔
 
 
 
 

ملازمین کے 29ہزار781 معاملات چندی گڑھ منتقل ہونگے

سید امجد شاہ 
 
جموں //جموں وکشمیر کے ملازمین کے 29ہزار781مختلف عدالتوں میں زیر التوا ہیں جنہیں اب چندی گڑھ ٹریبونل منتقل کردیاگیاہے ۔سرکاری ذرائع نے بتایاکہ اب تک جموں وکشمیر ملازمین کے 29ہزار781معاملات زیر التوا ہیں جنہیں چندی گڑھ منتقل کیاجائے گا۔ قانونی ماہرین کاکہناہے کہ یہ معاملات بغیر کسی تاخیر کے چندی گڑھ ٹریبونل کے پاس منتقل ہوجائیں گے ۔ماہرین کاکہناہے کہ اس ٹریبونل کے پاس ماسوائے سپریم کورٹ کے معاملات کے سبھی معاملوں کو سننے کا اختیار ہے۔ عدلیہ کے ایک سینئر افسر نے بتایاکہ کشمیر کے 14ہزار781جبکہ جموں صوبہ کے 14سے15ہزار معاملات سنگل بنچ کے پاس زیر التوا ہیں۔انہوں نے بتایا’’ہم ان معاملات کی تفصیلات جمع کررہے ہیں اور انہیں چندی گڑھ منتقل کیاجائے گا‘‘۔ اسی طرح سے چندی گڑھ میں 1600سے 1700معاملات زیر التوا ہیں۔ چندی گڑھ ٹریبونل کے ایک افسر نے بتایا’’ہمارے پاس 1600سے 1700سروسز معاملات زیر التوا ہیں ‘‘۔چندی گڑھ ٹریبونل بار کے صدر روہت سیٹھ نے بتایاکہ ملک میں دیگر 16بنچوں کے مقابلے میں ان کا بنچ فاسٹ ٹریک بنیاد پر معاملات کا نمٹاراکرتاہے ۔
 
 

جموں وکشمیر ویجی لینس کمیشن کاخاتمہ 

سید امجد شاہ 
 
جموں //حکومت نے جموں وکشمیر ویجی لینس کمیشن کو تحلیل کردیاہے ۔جموں وکشمیر تنظیم نو ایکٹ کے تحت محکمہ عمومی انتظامی نے ویجی لینس کمیشن ایکٹ 2011کو ختم کرتے ہوئے مختلف محکمہ جات سے تعینات کئے گئے 27سٹاف ممبران کو انتظامی محکمہ جات کے پاس واپس رپورٹ کرنے کو ہدایت جاری کی ہے ۔دریں اثناء فائنانشل ایڈوائزر، سی اے اوو انڈر سیکریٹری پر مشتمل جموں وکشمیر ویجی لینس کمیٹی سارا ریکارڈ ،الیکٹرانک اشیاء، کتابیں اور دیگر چیزیں ڈائریکٹر اینٹی کرپشن بیورو جموں وکشمیر کو سونپے گی جسے بیورو کی طرف سے محفوظ رکھنے کو یقینی بنایاجائے گا۔کمیٹی کمیشن کی عمارت اور اس میں رکھے گئے سازو سامان کو محکمہ ایسٹیٹ کے حوالے کرے گی جبکہ دو گاڑیاں ڈائریکٹر موٹر گیریجز جموں وکشمیر کو واپس دی جائیں گی۔واضح رہے کہ جموں وکشمیر میں کرپشن کے خلاف اس کمیشن کے قیام کا قانون 2011میں منظور کیاگیااوراس نے 2013میں کام کاج شروع کردیا، جس کا پہلا سربراہ سابق پولیس سربراہ کلدیپ کھڈا کو تعینات کیاگیا جبکہ آر کے جیرتھ اور غوث النساء جیلانی کا بطور ویجی لینس کمشنرز تقرر کیاگیاتھا۔