سرکاری ملازمین کی شکایات کا معاملہ

سرینگر // حکومت نے سرکاری ملازمین سے کہا کہ وہ کسی بھی شکایت کو مقررہ وقت کے اندر پیش کریں ، ایسا نہ ہو کہ وقت کی پابندی ہو اور اس پر کوئی توجہ نہ دی جائے۔ سرکار کی جانب سے بدھ کو جاری سرکیولرمیں ، حکومت نے تمام انتظامی محکموں سے بھی کہا ہے کہ وہ ایسے کسی بھی دعوے کو قبول نہ کریں جو وقت کی پابندی سے مشروط نہ ہواور ایسے تمام پرانے کیسوں کو بند کردیں جنہیں زیادہ تاخیر کی وجہ سے حل نہیں کیا جاسکتا۔ سرکیولر میں کہا گیا ہے’’اس بات کا مشاہدہ کیا گیا ہے کہ ملازمت کے معاملات میں ، ایک سرکاری ملازم کی طرف سے درخواستیںودعوے کافی وقت کی تاخیر کے بعد با اختیار حکام کو غور کے لیے پیش کیے جاتے ہیں۔ اس طرح کے دعوے قانونی طور پر قابل قبول نہیں ہیں ، کیونکہ اس طرح متعلقہ محکمے کی طرف سے قبول کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘ سرکیولر میں اس حوالے سے سپریم کورٹ آف انڈیا کے متعدد فیصلوں میں وضع کردہ اصولوں کا حوالہ بھی دیا گیا ہے۔ سرکیولر میں مزید کہا گیا ہے’’ یہ واضح کیا گیا ہے کہ جب بھی ، ملازمت کے حقوق یا شرائط سے جڑے کسی معاملے میں ، کوئی سرکاری ملازم دعویٰ کرنا چاہتا ہے یا کسی مبینہ شکایت کا ازالہ کرنا چاہتا ہے ، تو مبینہ شکایت کی تاریخ سے 6ماہ کی مدت ، یا خاص طور پر کسی بھی قاعدے ، ضابطے یا قانون میں جو بھی  مدت درج کی گئی ہو دی گئی ہو ، اسے متعلقہ اتھارٹی کو بھیجا جانا چاہیے،جس کے بعد اس کو معیاد بند تصور کیا جائے گا‘‘۔سرکیولر میں انتظامی سیکریٹریوں  پر زور دیا گیا ہے کہ وہ وہ ایسے کسی بھی دعوے کو قبول نہیں کریں گے جو وقت کی پابندی سے مشروط ہو اور ایسے تمام پرانے کیسوں کو بند کردیں جنہیں زیادہ تاخیر کی وجہ سے حل نہیں کیا جاسکتا۔