سرکاری ملازمین کیخلاف جھوٹی شکایات کا معاملہ انتظامی سیکریڑیوں کو نمٹنے کیلئے ہدایات جاری

بلال فرقانی

سرینگر// حکومت نے سرکاری ملازمین کے خلاف شکایات کے تحقیقاتی نظام کو مزید سخت کیا تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ ایماندار سرکاری ملازمین کو غیر منصفانہ طور پر ہراساں نہ کیا جائے اور سرکاری امور متاثر نہ ہوں۔ حکومت نے کہا ہے کہ سرکاری ملازمین کے خلاف شکایات کے ازالے کیلئے ایک مضبوط اور موثر طریقہ کار سے متعلق تفصیلی ہدایات کو وقت وقت پر سامنے لایا گیا ہے جس کا مقصد بدعنوانی سے پاک، شفاف اور جوابدہ انتظامی نظام کے قیام کیلئے بہتر انتظامیہ کے مقاصد میں توازن پیدا کیا جاسکے۔ عمومی انتظامی محکمہ کے ویجی لنس شعبے نے کہاہے کہ سرکاری ملازمین کو جھوٹی،غیر ضروری،گمنام اورفرضی شکایات سے بچانے کیلئے مناسب تحفظات کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔ان کا کہنا ہے کہ یہ ہدایات دیگر باتوں کے ساتھ ساتھ شکایات کو نمٹانے اور ان کی تصدیق کے ساتھ ساتھ ایسے جھوٹے وغیر سنجیدہ شکایت کنندگان کے خلاف کارروائی کیلئے تفصیلی دفعات پر ہدایات مشتمل ہیں۔ عمومی انتظامی محکمہ کے کمشنر سیکریٹری سنجیو ورما نے بتایا کہ ان وسیع ہدایات کے باوجود جھوٹی، غیر سنجیدہ، گمنام اور فرضی شکایات درج کروانے کے ذریعے بے جا ہراساں کیے جانے کے واقعات تیزی سے رپورٹ ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کئی بار یہ شکایات تصدیق کے بعد حقیقت سے خالی پائی گئی ہیں ۔

 

ان کا کہنا تھا کہ اس عمل میں سرکاری ملازمین جو اپنے حقیقی فرائض کو انجام دیتے ہیں، انہیں غیر ضروری طور پر ہراساں کرنے اور ذہنی اذیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس سے ان کی فیصلہ سازی متاثر ہوتی ہے۔ کمشنر سیکریٹری کا کہنا تھا کہ اس عمل سے انتظامی امور میںٹھہرائو آجاتا ہے اور سرکاری کام کاج اور عوامی خدمات کا عمل بری طرح متاثر ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا’’اس سلسلے میں یہ محسوس کیا گیا ہے کہ ایسی جھوٹی،غیر سنجیدہ، گمنام اورفرضی شکایات سے نمٹنے کے طریقہ کار کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ ایماندار سرکاری ملازمین کو غیر منصفانہ طور پر ہراساں نہ کیا جائے اور سرکاری کام کاج متاثر نہ ہوں‘‘۔انہوں نے تمام انتظامی محکموں،محکموں کے سربراہ اورعملے کو کنٹرول کرنے والے حکام سے تاکید کی گئی ہے کہ ایسے شکایت کنندگان سے نمٹنے کیلئے جھوٹی شکایت کرنے پر تعزیرات ہند کی دفعہ 182 کے تحت کارروائی کی جانی چاہئے جبکہ متعلقہ سرکاری ملازم یا کسی اعلیٰ سرکاری افسر کی طرف سے ضابطہ فوجداری 1973 کے دفعہ 195 شق(l) کی ذیلی شق(a) کے تحت قانونی چارہ جوئی کا آغاز عدالت میں دائر شکایت کی بنیاد پر کرنا چاہئے۔انہوں نے اعلیٰ افسروں سے تاکید کی کہ وہ استغاثہ کے متبادل کے طور پر جھوٹی شکایات کرنے والے سرکاری ملازمین کے خلاف محکمانہ کارروائی پر غور کریں جبکہ جھوٹی شکایات سے متاثرہ سرکاری ملازمین کو ادارہ جاتی مدد فراہم کریں۔ حکام سے کہا گیا ہے کہ وہ متاثرہ ملازم کو کرائم برانچ، جموں و کشمیر سے رجوع کرنے میں مدد کرنے کے علاوہ سرکاری ملازم کی طرف سے رپورٹ یا درخواست موصول ہونے پر مجرمانہ کارروائی کا آغاز کریں۔کمشنر سیکریٹری نے سرکیولر جاری کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری ملازمین کوجھوٹی شکایات کے نتیجے میں نقصان پہنچا ہے، ذمہ دار افراد کے خلاف ہرجانے کیلئے دیوانی مقدمے دائر کرنے کیلئے سہولت فراہم کرنے کی ضرورت ہے جبکہ اس میں مالی نقصانات، ذہنی پریشانی یا ساکھ کو پہنچنے والے نقصان کا معاوضہ شامل ہو سکتا ہے۔