سرکاری عہدہ داروں کا بیرون جموں کشمیرحصول تعلیم | حکام سے بغیر پیشگی اجازت رخصتی نہیں لے سکتے

جموں // جموں وکشمیر حکام نے سختی سے ہدایت جاری کی ہے کہ کسی بھی سرکاری عہدیدار کو پیشگی اجازت کے بغیر جموں و کشمیر سے باہر تعلیم کے حصول  کیلئے رخصتی پرجانے کی اجازت نہیں ہو گی ۔ یہ ہدایات متعدد کیسوں کے سامنے آنے کے بعد جاری کی گئی ہے کہ سرکاری افسر نہ صرف بیرون ریاست بلکہ بیرون ممالک بغیر اجازت کے گئے ہیں ۔اس معاملے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ (جی اے ڈی) نے تمام انتظامی سیکریٹریوں کو ہدایت دی ہے کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ اسٹڈی کے معاملات پہلے سے ہی جی اے ڈی کو بھیج دیئے جائیں تاکہ ان کا فیصلہ مجاز اتھارٹی کے ذریعہ مقررہ مدت کے اندر کیا جائے۔قوانین کے حوالے سے کمشنر سکریٹری جی اے ڈی منوج کمار دوویدی نے ایک سرکلر میں کہا ہے کہ ’’جموں و کشمیر سول سروسز (رخصت) کے قواعد 1979 کے تحت چھٹی اس وقت تک نہیں دی جا ئے گی جب تک کہ ، چھٹی دینے کے مجاز اتھارٹی کے ذریعہ اس کی تصدیق ہو کہ اس تربیت کا عوامی مفاد کے نقطہ نظر سے کوئی فائدہ ہوگا۔حکام نے اس سے قبل بھی ایسے ہی سرکولر جاری کئے ہیں ۔اسی طرح کے ایک سرکلر کے ذریعے 2017 میں جی اے ڈی نے تمام انتظامی سیکریٹریوں کو بھی ہدایت کی تھی کہ اسٹڈی کے معاملات کو محکمہ خزانہ اور جی اے ڈی کو پیشگی بھیج دیا جائے تاکہ اس بات کا یقین کیا جاسکے کہ عہدیدار صرف منظوری کے ساتھ ہی جموں و کشمیر کے باہر مطالعاتی چھٹی پر گئے ہیں یا نہیں جبکہ سال2018میں بھی اس طرح کی یاددہانی کرائی گئی تھی۔