سرکاری سکیموں کا غریب عوام کو کوئی فائدہ نہیں

کشتواڑ//سرکاری سکیموں کا کتنا فائدہ غریب عوام کو ملتا ہے یہ بات کشتواڑ ضلع کے دیہات میں عیاں ہو جاتی ہے۔ اس بات کا اندازہ ضلع کشتواڑ کے تقریباً سبھی دورافتادہ علاقہ جات میں غریبی سطح سے نیچے رہ رہے لوگوں بخوبی ہے جنھیں ان سکیموں کا کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوتا۔اگرچہ پردھان منتری اواس یوجنا کے زریعے ملک بھر میں غریب لوگوں کو رہائشی مکان دیے گئے اور اثر رسوخ والے لوگوں کو ضلع میں  بھی مکانات فراہم کئے گئے لیکن نہ جانے کن وجوہات کی بناپر ان مستحق لوگوں کو اس سکیم سے محروم رکھا گیا ہے۔ سب ڈویژن چھاترو کے ذیوگ علاقہ کا رام کرشن گزشتہ کی سالوں سے ایک انتہائی خستہ حال ٹوٹے چند کمروں میں اپنی اہل و عیال کے ساتھ زندگی گزار رہا ہے جو کسی بھی وقت گر سکتاہے۔لیکن اج تک اسکی مدد کیلے نہ کوئی انتظامیہ ائی اور نہ ہی کسی سیاستدان نے قدم بٹھایا۔ رام کرشن نے بتایا کہ اگرچہ گزشتہ سال انھیں یہ بتایا گیا کہ اگلے سال انکا نام لسٹ میں رکھا جاے گا اور انھیں مکان فراہم کیا جاے گالیکن ایسا ممکن نہ ہوا۔ وہ اپنی اہلیہ و دو بچئوں کے ساتھ اس ٹوٹے گھر میں رینے پر مجبور ہے۔ اسکی اہلیہ بھی معزور ہے جبکہ  وہ مزدروں کرکے  مشکل  سے گھر کا گزارا کرتا ہے۔ جہاں اگرچہ چار ماہ کا مفت راشن بی پی ایل زمرے کے لوگوں کو دیا گیا ہے وہیں رام کرشن کو اس سے بھی محروم رکھا گیا ہے۔اگرچہ پہلے بی پی ایل راشن کارڈ دیا گیا تھا لیکن دو سال قبل  اسے بھی اے اے پی ایل کارڑ تھما دیا گیا۔ رام کرشن نے بتایا کہ اگرچہ وہ اپنے بچوں کو تعلیم دلانا چاہتا ہے لیکن اسکے پاس اتنی رقم نہیں کہ وہ انکی اچھی طرح پرورش کرسکے۔ بچیوں کی بڑھتی عمر کے ساتھ ہی اسے انکی شادیوں کا ڈر بھی ستارہا ہے کہ وہ انکا خرچ کہا سے پورا کرے گا جبکہ اسکے پاس بیٹھنے کے لئے مکان تک دستیاب نہیں ہے۔ اگرچہ انھوں نے انتظامیہ کے ہر افراد کو اپنی مشکلات سے آگاہ کیا لیکن کسی نہ اسکی نہ سنی۔انھوں نے ضلع انتظامیہ و لیفٹیننٹ گورنر سے اپیل کی کہ انھیں مکان فراہم کیا جائے اور انکی ہرممکنہ مدد کی جاے تاکہ وہ اپنے بچوں کو پڑھاسکے۔