سرکاری امداد سے مدارس نہیں چلارہے ہیں:مولانا رحمت اللہ

سرینگر//رابطہ مدارس اسلامیہ عربیہ دارالعلوم دیوبند شاخ جموں و کشمیر کے صدرمولانا محمد رحمت اللہ نے ایک مقامی روزنامہ میںدارالعلوموں سے متعلق شائع خبر پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس اخباری رپورٹ میںہمدردی اور شفقت کے پیش نظر یہ بات کہی گئی ہے کہ لاک ڈائون کے دوران ان اداروں کی آمدنی متاثر ہوئی اور بچے بھی متاثر ہوئے جو صحیح ہے۔انہوں نے کہا ’’ اس سب کے باوجود دینی ادارے الحمد للہ اس عزم کا اعادہ کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ یہ احوال بھی اللہ کی جانب سے ایک امتحان ہے جس پر ثابت قدم رہنے کی ضرورت ہے۔ عام حالات میں ان اداروں میںدل و جان سے کام کرنے والے حضرات مروجہ اجرتوں سے بہت ہی قلیل ہدیہ پر بہت کم معیار زندگی کو اپنا کر گزر بسرکرتے ہیں لیکن سرکار کی امداد کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھتے بلکہ عوام کی امداد، صدقات اور زکوۃ سے اس سلسلہ کو جاری رکھے ہوئے ہیں‘‘۔انہوں نے مزید کہا کہ آئندہ بھی یہی عزم رکھتے ہیں کہ سرکار سے کوئی امداد حاصل کئے بغیر مسلمانوں کی طرف سے ملنے والی خون پسینے کی کمائی سے ہی ان اداروں کو چلائیں گے اور اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرکے دین و شریعت کی روشنی میں خدمت قرآن پاک و حدیث مبارک سے امت مسلمہ کے نونہالوں کو قیام وطعام کی سہولت کے ساتھ تعلیم و تربیت سے آراستہ کریں گے‘‘۔مولانا رحمت اللہ نے کہا’’ہمیں امید ہے کہ اہل خیر حضرات بدستور ان مدارس کو اپنے اور اپنے آباؤ و اجداد کیلئے صدقہ جاریہ سمجھ کر اور حفاظتِ دین و اشاعتِ دین کے مراکز جان کر دل و جان سے خدمت کرتے رہیں گے‘‘۔