سرکاری اعدادوشمار میں انکشاف

سرینگر// جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے بٹنگو میں گذشتہ رات جنگجوؤں کے حملے میں سات یاتریوں کی ہلاکت اور کم از کم19 دیگر کے زخمی ہونے کے بعد یہ بات ایک بار پھر سامنے آگئی ہے کہ بیشتر یاتری جموں سے کشمیر میں بال تل اور ننون پہل گام یاترا بیس کیمپوں تک کا سفر بغیر کسی سیکورٹی کور کے طے کرتے ہیں۔ سرکاری ذرائع نے یو این آئی کو بتایا کہ اگرچہ یاتریوں کو جموں وکشمیر کے داخلی پوائنٹ لکھن پور سے لیکر امرناتھ گھپا اور واپسی پر اسی طرح لکھن پور تک معقول سیکورٹی کور فراہم کرنے کے انتظامات کئے جاچکے ہیں، لیکن حیرانی کی بات یہ ہے کہ امرناتھ گھپا کی درشن کے لئے آنے والے بیشتر یاتری بال تل اور ننون پہل گام بیس کیمپوں تک بغیر کسی سیکورٹی کے سفر کرنے کو ہی ترجیح دیتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اگرچہ امرناتھ یاتریوں کو سیکورٹی سے متعلق رہنما خطوط کے مطابق پہلے جموں کے بھگوتی نگر بیس کیمپ پہنچنا اور پھر وہاں سے قافلے کی صورت میں کشمیر کی طرف بڑھنا ہوتا ہے، لیکن قریب 80 فیصد یاتری جموں بیس کیمپ میں ٹھہرنے کے بجائے براہ راست اور بغیر کسی سیکورٹی کور کے بال تل اور ننون پہل گام پہنچ جاتے ہیں۔ بوٹنگو میں حملے کی زد میں آنے والی بس بھی بغیر کسی سیکورٹی کور کے جموں کی طرف روانہ ہورہی تھی۔ گذشتہ 13 دنوں کے سرکاری اعداد وشمار سے بھی انکشاف ہوا ہے کہ قریب 80 فیصد یاتریوں نے بغیر کسی سیکورٹی کے سفر کیا۔ اِن اعداد وشمار کے مطابق گذشتہ 13 دنوں کے دوران 11 قافلوں پر مشتمل محض32 ہزار یاتریوں نے حفاظتی حصار میں جموں کے بیس کیمپ سے کشمیرتک کا سفر کیا لیکن اسے عرصے کے دوران قریب ایک لاکھ 46 ہزاریاتریوں نے پوتر گھپا میں حاضری دی۔ 30 جون کو سری نگر جموں شاہراہ کے بند رہنے اور 8 جولائی کو حزب المجاہدین کمانڈر برہان مظفر وانی کی پہلی برسی کے پیش نظر جموں سے یاترا معطل رہی۔ سرکاری ذرائع کی جانب سے فراہم کئے گئے اعداد وشمار کے مطابق 28 جون کو 2280 یاتریوں نے حفاظتی حصار میں جموں سے کشمیر تک کا سفر کیالیکن 29 جون کو قریب 6 ہزار یاتریوں نے پوتر گھپا میں حاضری دی۔ 29 جون کو 2481 یاتریوں نے قافلے میں شامل ہوکر جموں سے کشمیر تک کا سفر کیا لیکن 30 جون کو قریب 8ہزار یاتریوں نے پوتر گھپا میں حاضری دی۔ یاتریوں کے ایک گروپ جس نے بغیر کسی سیکورٹی کور کے جموں سے کشمیر تک سفر کیا ہے ، نے بتایا ’ہم اس سے پہلے بھی پوتر گھپا کی درشن کرچکے ہیں، امرناتھ جی کے یاتریوں پر حملے کا کبھی کوئی واقعہ سننے میں نہیں آیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ہم بغیر کسی ڈو وخوف کے پہلگام بیس کیمپ پہنچ گئے‘۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ امرناتھ گھپا کی درشن کے لئے فضائی راستے سے آنے والے یاتریوں کی تعداد بہت کم ہوتی ہے اور بیشتر یاتری زمینی راستے کو ہی ترجیح دیتے ہیں۔ یہ بات یہاں قابل ذکر ہے کہ وادی میں سالانہ امرناتھ یاترا 29 جون کو روایتی پہل گام اور مختصر بال تل راستوں سے بہ یک وقت شروع ہوئی۔ سیکورٹی ایجنسیوں نے امسال یاتریوں کو تحفظ اور سلامتی کا احساس دلانے کے لئے جدید ٹیکنالوجی کا بھرپور استعمال کیا ہے اور کشمیر شاہراہ پر یاتریوں کے قافلوں کی مصنوعی سیاروں اور ڈرون کیمروں کے ذریعے مانیٹرنگ کی جارہی ہے۔ مبینہ خطرے کے پیش نظر تمام رجسٹرڈ یاتریوں کا انشورنس کور پہلے ہی ایک لاکھ روپے سے بڑھاکر 3 لاکھ روپے کردیا گیا تھا۔ امرناتھ یاترا کے پرامن اور خوشگوار ماحول میں انعقاد کو یقینی بنانے کے لئے یاترا روٹوں اور شاہراہ پر 29 جون سے قبل ہی 30 ہزار فوجیوں کی تعیناتی عمل میں لائی گئی تھی۔اس کے علاوہ مشکوک نقل وحرکت پر نگاہ رکھنے کے لئے شاہراہ کے کچھ مشہور اور مخصوص مقامات پر سی سی ٹی وی کیمرے نصب کئے گئے تھے۔ سیکورٹی ذرائع نے بتایا کہ یاتریوں کو جموں وکشمیر کے داخلی پوائنٹ لکھن پور سے لیکر امرناتھ گھپا اور واپسی پر اسی طرح لکھن پور تک معقول سیکورٹی کور فراہم کیا جارہا ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ گذشتہ برس کے مقابلے میں سیکورٹی فورس اہلکاروں کی تعیناتی میں اب کی بار تین گنا اضافہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بیس کیمپ جموں سے لیکر امرناتھ گھپا تک پیرا ملٹری فورسز بشمول سی آر پی ایف اور سشستر سیما بل (ایس ایس بی) کی 200 اضافی کمپنیاں تعینات ہیں۔ سی آر پی ایف اور ایس ایس بی کی نئی کمپنیوں کی تعیناتی وادی میں پہلے سے موجود پیرا ملٹری اور ریاستی پولیس کے اضافی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ امرناتھ گھپا کی درشن کے لئے آنے والے بیشتر یاتری بال تل اور ننون پہل گام بیس کیمپوں تک بغیر کسی سیکورٹی کے سفر کرتے ہیں۔ بیشتر یاتری امرناتھ گھپا کی درشن کرنے کے بعد وادی کشمیر میں مختلف سیاحتی مقامات خاص طور پر گلمرگ، پہل گام اور سونہ مرگ کی سیر بھی کرتے ہیں۔ وادی میں گذشتہ برس بھی جنگجویانہ واقعات میں تیزی کے درمیان سالانہ امرناتھ یاترا شروع ہوئی تھی اور بعدازں بغیر کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آئے اپنے مقررہ وقت پر اختتام کو پہنچی تھی۔ یو این آئی