سرکاری اسپتالوں میں پچھلے 2ماہ سےہپاٹائٹس سی ادویات نہیں

سرینگر //وادی میں Hepatitis C بیماری سے جوج رہے ہزاروں مریضوں کو پچھلے 2ماہ سے کوئی ادویات نہیں مل رہی ہیں۔ قومی پروگرام کے تحت Hepatitis مریضوں کو مفت ادویات فراہم کی جاتی ہیں لیکن پچھلے 2ماہ سے مریضوں کو بازار سے ادویات خریدنی پڑ رہی ہیں۔  بڈگام سے تعلق رکھنے والے ایک مریض کے بھائی ریاض احمد نے بتایا ’’ غریب مریضوں کو ہر ماہ  بازار سے دوائی خریدنے کیلئے 17ہزار 500روپے صرف کرنے پڑ تے ہیں ‘‘۔ ریاض نے بتایا ’’اس مرض میں مبتلا مریض کسی بھی صورت میں ادویات بند نہیں کرسکتے ،اس لئے وہ بازاروں سے ادویات خریدنے کیلئے مجبور ہیں‘‘۔ریاض نے بتایا کہ ادویات بازاروں میں بھی متواتر طور پر دستیاب نہیں ہورہی ہیں، کیونکہ میڈیکل سپلائی کارپوریشن اسپتالوں کو متواتر طور پر ادویات فراہم نہیں کررہی ہے۔ کارپوریشن کے جنرل منیجر ڈاکٹر مجید میراب نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا ’’ اسپتالوں کی طرف سے دی جارہی تفصیلات کے مطابق ہی انہیں ادویات فراہم کی جاتی ہیں‘‘۔انہوں نے کہا کہ تمام اسپتالوں نے پہلے ہی طلب کی گئی مقدار کے مطابق ادویات لی ہیں اور ابھی کسی بھی اسپتال کی کوئی بھی دوائی سپلائی کرنے سے نہیں رہ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میڈیکل سپلائی کارپوریشن 15دسمبر سے دوبارہ سرکاری اسپتالوں سے ادویات کے آرڈر جمع کرنے کا عمل شروع کرے گی۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ جموں و کشمیر سرکار نے جی ایم سی سرینگر، جی ایم سی بارہمولہ اور جی ایم سی اننت ناگ کو Hepatits Cمریضوں کو ادویات فراہم کرنے کے سینٹر نامزد کئے ہیں اور ان تینوں میں پچھلے 2ماہ سے ادویات دستیاب نہیں ہیں۔ جی ایم سی سرینگر کی  سال 2017میں کی گئی تحقیق کے مطابق  اننت ناگ میں 3.8، شوپیان میں 1.3 ،کولگام میں 1.2،پلوامہ میں 0.7،ماگام میں 0.4فیصد لوگ Hepatitis C سے متاثر ہیں جبکہ خواتین میں 2.1جبکہ مردوں میں 1.7فیصد بیماری کے شکار ہیں۔