سرکاری اساتذہ!

 26ستمبر   کو ریاستی گورنر اور اساتذہ کی تنظیموں کے ساتھ میٹنگ اُس وقت کامیابی کارنگ لائی جب گورنر صاحب نے ایس ایس اے اساتذہ کے حق میں ساتویںپے کمیشن کا نفاذ ماہ ستمبر سے کئے جانے کا اعلان کیا۔اسی پس منظر میں گورنر کے مشیر خور شید احمد گنائی نے خود جاکر بھوک ہڑتال پر بیٹھے ایس ایس اے اساتذہ کو جوس پلایا ۔یہ خبر جب سوشل میڈیا پر گردش کرنے لگی تو اساتذہ خوشی سے پھولے نہ سمائے ،یہاں تک کہ جموں میں بڑے پیمانے پر ناچ گانے ہوا اور پرتاپ پارک سری نگر میں پٹاخوں کے شور وغل سے فضا میں ارتعاش ہوا۔ اساتذہ کے یہاں ہر جگہ عید جیسا منظر تھا۔ اس میں دوائے نہیں کہ رہبر تعلیم اساتذہ کو ابتداء سے ہی ذہنی کوفت اورسماجی حقارت کا نشانہ بنایا گیا۔ سب سے پہلے ان کی تعلیمی قابلیت پر شک وشبہ ظاہر کر ے انہیں از سر نو امتحان میں بیٹھنے جیسے فیصلہ سے ذہنی اذیت اور سماجی بے توقیری سے گذر نا پڑا اور اس کے بعد ساتویں پے کمیشن کی مراعات انہیں سے محروم کرنے کی مذموم پالیسی اپنائی گئی ۔ یہ سب
 یہاں کے بعض سیاست دانوں کی ایک گھٹیا سوچ تھی تاکہ اس ایشو کو عین موقع پر ووٹ بنک سیاست  مین مہرے کے طوراستعمال کیا جائے۔ سیاست دانوں کی اس بدبودار سوچ کے ردعمل میں اساتذہ کو اپنی تحقیر وتذلیل کاا زالہ کر نے کے لئے سکولوں کے بجائے سڑکوں پر آنے کے لئے مجبور ہونا پڑا ۔اس سے  واقعی بنیادی سطح پر درس و تدریس کا نظام متاثر ہوا۔ اساتذہ کی ناراضگی کے چلتے وقت نے کیا کیا رنگ بدل دئے ،وہ ایک کھلی کتاب ہے۔ بہرحال یہ کسی کے وہم وگمان میں بھی نہ تھا کہ ریاست میں آناًفاناًتخت وتاج کے مالک ایسا پلٹ کھانے والے ہیں کہ کرسیٔ اقتدار سے محروم ہوکر رہیں گے ۔ بعض اساتذہ کو لگا کہ ان کی بددعائیں رنگ لائی ہیں ۔ گورنرراج میں بھی جب ایس ایس اے اساتذہ کو لگا کہ ان کے دردکا درماں نہیں ہورہا تو TJAC نے پرتاپ پارک سری نگر میں اکیس دن خیمہ زن ہوکر ساتویں پے کمیشن کو ایس ایس اساتذہ کے حق میں لاگو کروانے کی کامیاب مہم چلائی ۔ شکر ہے کہ گورنر انتظامیہ نیند سے جاگ گئی اور اساتذہ کے مطالبات مان لئے جس پر متعلقہ اساتذہ کرام نے راحت کی سانس لی ۔اس کامیاب مہم کا سہرا اگرچہ ٹی جیک کے سر جاتاہے لیکن یہاں کی سول سوسائٹی ، دینی تنظیموں،وکلا برادری ، تاجرانجمنوں اور سماج کے دیگر شعبہ جات سے وابستہ لوگوں نے ایس ایس اے ٹیچروں کے ساتھ کھلے ذہن سے اظہار یکجہتی کیا ۔شکر ہے گورنر انتظامیہ نے اساتذہ کے جنیون مطالبے اور ان کے تئیں رائے عامہ کی حمایت کانوٹس لے کر ساتویں پے کمیشن کا اعلان کر ڈالا ۔ کاش کہ اس مسلئے پر  ایجی ٹیشن سے پہلے ہی خلوص نیت کے ساتھ نظر ثانی کی گئی ہوتی تو شاید نوبت یہ نہ آتی کہ ٹیچر کلاس چھوڑ کر سڑکوں پر آتے ۔۔ظلم کی انتہا یہ ہے کہ باقی ریاستوں میں جہاں اساتذہ کو ٹیچرز ڈے پر دن انعامات و اکرامات سے نوازا گیا ، وادی کشمیر میں ان کا استقبال ڈنڈوں اور رنگ دار پانی  کے چھڑکاؤسے کیا گیا ۔ اساتذہ کے مبنی برحق احتجاج ان کی مجبوری تھا لیکن یہ بات کہے بغیر چارہ نہیں کہ  اس سے یہاں کے غریب بچوں کے قیمتی وقت کا بالضرور ضیاع ہوا، اور مجھے یہ کہنے کی چنداں ضرورت  نہیں کہ سرکاری ا سکولوں میں صرف وہ غریب بچے اور بچیاں تعلیم پاتی ہیں جن کے والدین دن رات خون پسینہ ایک کرکے ان کی ضرویات بہ مشکل پورا کرتے ہیں ۔
وادی کشمیر ایسی واحد جگہ ہے جہاں ہر جائز ومعقول مانگ احتجاج اور مظاہرے کے بعد ہی سنی جاتی ہے۔ یہ روایت و وراثت اساتذہ کے حصے میں کچھ زیادہ آئی ہے ۔ اس سے تعلیمی وتدریسی محاذ پر مسائل پیدا ہونا فطری امر ہے ۔ اصولی طور جہاں مسائل ہوں ، وہاں کوئی نہ کوئی حل بھی لازماً ہوتا ہے مگر معمار ان ِقوم کے مسائل کا حل ترجیحی بنیادوں پر ڈھونڈنے کی بجائے انہیں ہمیشہ الجھایا جاتا ہے ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ  جو امانت ان کے سپرد ہوتی ہے ، یا جو امیدیں اور توقعات ان کے ساتھ وابستہ ہوتی ہے ، وہبری طرح متاثر ہوتی ہیں ۔ ٹیچروں کا دھیان اپنی تکالیف اور اذیتوں کی طرف ہو تو وہ کیا خاک اپنے پیشے سے انصاف کر سکتے ہیں ۔  یہی وجہ ہے کہ ہم آئے روز اخباروں میں جو سرکاری ا سکولوں کے بارے میں تندو تلخ خبریں اور تجزیے دیکھتے ہیں ۔ ا س سے نہ صرف سرکاری محکمہ تعلیم کا عوام میں نہ صرف منفی تعارف ہوتا رہتا ہے بلکہ بعض والدین کاا عتبار دن بہ دن سرکاری سکولوں سے اٹھتا جارہا ہے اور نجی تعلیمی ادارے ان کی پہلی ترجیح بنتے ہیں۔ مانا کہ سرکاری سکولوں میں بچوں کے پاس وردی ،قلم ،کاپیوں اور دیگر تعلیمی ضروریات نہ بھی ہوںلیکن سرکاری اساتذہ آج اچھی خاصی تنخواہ لیتے ہیں ۔کاش غریب طلبہ کو اپنا اَنگ سمجھ کر اساتذہ ان کے تعلیمی اخراجات پر اپنی آمدنی کا کچھ حصہ خرچ کرنے کو گو ارا کرتے ۔ اس کے برعکس یہاں کی پولیس تحسین وآفریں کی قابل ہے جنہوں نے اکثر وبیش تر تھانوں میں عبادت خانے تعمیر کئے ہیں بلکہ ہر ماہ اپنی تنخواہوں سے چندہ بھی دیتے ہیں۔ یہاں کے سرکاری اسکولوں کی ابتر صورت حال باشعور اساتذہ کرام سے یہی تقاضاکرتی ہے کہ وسعت قلبی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہر ایک استاد حتی المقدورنادار طلبہ وطالبات کے تعلیمی اخراجات پر کچھ نہ کچھ صرف کر نے کا کلچر اپنائیں ۔اس سے کسی حد تک اسکولوںکی صورت حال کو تبدیل کیا جاسکتاہے اور طلبہ اور اساتذہ میں بہترین رشتہ قائم ہوسکتا ہے۔  انہی انسانی کاوشوں کی وجہ سے ہم آج کے گئے گزرے دورمیں بھی اساتذہ معماران ِ قوم کہلاتے ہیں ۔ سکندر اعظم اپنے اتالیق ارسطو کی تعریف میں کہا کرتا:ارسطو رہے گا تو ہزاروں سکندر تیار ہوجائیں گے مگر ہزاروں سکندر مل کر بھی ایک ارسطو کو جنم نہیں دے سکتے ۔۔۔ میرا باپ وہ بزرگ ہے جو مجھے آسمان سے زمین پر لایامگرمیرا استاد وہ عظیم بزرگ ہے جو مجھے زمین سے آسمان پر لے گیا ۔اسی طرح سے حضرت علیؓ کا فرمان ہے کہ جس شخص سے میں نے ایک لفظ بھی پڑھا ،میں اس کا غلام ہوں، چاہیے وہ مجھے بیج ڈالے یا آزاد کردے ۔استاد سے تعلق و محبت کی نادر مثال حافظ ابن قیم کی ہے، جب اُن کے استاد ابن تیمیہ کو دمشق کے قلعہ میں قید کیا گیا توانہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ انھیں بھی اپنے استاد کے ساتھ قلعہ میں بند کیا جائے ۔بعد میں انہیں بھی  وہیںبند کردیا گیا۔اسی طرح سے جب علامہ اقبال کو حکومت برطانیہ نے سر کا خطاب دینا طے کیا تو انہوں نے حکومت کو لکھا کہ پہلے اُن کے استاد میر حسن کو اس خطاب سے نوازا جائے ۔ موجودہ دور میں تعلیم وتعلم کے میدان میں سب کچھ اس کے متضاد نظر آرہاہے۔ استاد اپنے حقیقی مقام سے ناواقف ہو کر نفسا نفسی کے عالم میں ہے۔اس سے دن بہ دن اس کے مقام اور وقار کی خود اپنے ہاتھوں سے تذلیل ہوتی جارہی ہے ۔ آج کل نظام تعلیم خریدوفروخت کی صورت اختیار کرچکا ہے ، کوچنگ سنٹراس کی جیتی جاگتی مثالیں ہیں اور انہیں چلانے و الے سرکاری اساتذہ بھی شامل ہیں ۔ ایسے میں سرکاری ا سکولوں میں بہاروں کی آمد کیسے متوقع ہوسکتی ہے؟ ٹیچر ز کمیونٹی کیسے پیغمبرانہ پیشے کا تقدس کیسے بحال کرسکتی ہے ؟ بہر حال تعلیم وتدریس کے شعبے میں زوال اورمایوسی کے باوجود آج بھی اساتذہ قابل تعریف ولائق توصیف ہیں لیکن وہ انگلیوں پر گنے جاسکتے ہیں ۔یہ عظیم لوگ کچھ اچھا کرنے کی صلاحیت اور جذبہ ایثار رکھتے ہیں ۔ اگر محکمہ تعلیم کے بقیہ اساتذہ ان کی تقلید میں اپنی صلاحیتوں اور اپنے مقدس پیشے کا سکہ رائج کر نے کے لئے کچھ اچھا کریں گے ،تبھی یہ قوم کے معمار کہلانے کے حقدار ہوں گے ۔ 
رابطہ۔۔۔9622820448