سرکاری اساتذہ کے پرائیوٹ ٹیوشن پڑھانے پر ممانعت

 جموں// سپریم کورٹ کی جانب سے ایس ایل پی ( اسپیشل لیو پٹیشن) نمٹانے کے بعد ریاستی سرکار نے بدھ کو اس بات کے احکاامات صادر کئے کہ سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ میں کام کر  رہے کسی بھی تدریسی عملہ سے وابستہ ملازم کو دیگر کوئی بھی پرائیوٹ کام کرنے کی اجازت نہیں ہوگی  جس میں پرائیوٹ سکولوں یا کوچنگ سینٹروں کام کرنا بھی شامل ہے ۔سکول ایجوکیشن ڈیپارمنٹ کی جانب سے جاری کئے گئے  ایک مفصل حکم نامہ ، جو عدالت عظمیٰ کے احکامات کی روشنی میں اجراء کیا گیا ہے ،  میں کشمیر اور جموں کے ڈائریکٹروں اور چیف ایجوکیشن افسران سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے  حد اختیار میں آنے والے علاقوں میں ان احکامات پر سختی سے عمل در آمد کریں۔یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ ریاستی سرکار نے 11اگست2005 کو  ایک سرکیولر زیر نمبر  Edu/PS/C/S/11/05 جاری کیا تھا جس میں اساتذہ سے کہا گیا تھا کہ وہ سکول کھلنے سے2گھنٹے پہلے اور سکول بند ہونے کے بعد تک کسی بھی پرائیویٹ ادارے یا کوچنگ سنٹر میں  متعلقہ محکمہ کی اجازت کے بغیر کام نہیں کر سکتے ہیں ۔ اس سرکیولر کو ریاستی ہائی کورٹ میں چلنج کیا گیا تھا اور ہائی کورٹ نے اس ضمن میں18نومبر 2011کو ان احکامات کے ساتھ یہ عرضی نپٹائی تھی اور اپنے فیصلے میں سکول کھلنے اور بند ہونے کے 2گھنٹے قبل اور 2گھنٹے بعد والی ہدایات کو خارج کر دیا تھا  اور اس فیصلے کی روشنی میں محکمہ تعلیم نے اپنے مذکورہ سرکیولر کے اس حصے کو واپس لے لیا تھا جس میں اساتذہ کو پرائیویٹ کوچنگ سینٹروں میں کام کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔ البتہ ریاستی حکومت نے  ہائی  کورٹ کی ہدایات کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا ۔چنانچہ عدالت عظمیٰ نے ایس ایل پی نمبر16885/2012(cc9115/2012)کو خارج کرتے ہوئے احکامات صادر کئے ۔عدالت عظمیٰ نے کہاکہ ریاستی حکومت کی جانب سے پیش ہوئے وکلاء کو سننے کے بعد معلوم ہوا کہ حکومت کو اپنے سرکیولر بتاریخ11اگست2005کو عدالت عالیہ کی جانب سے بر طرف کرنے پر کوئی عذر نہیں تھا ۔یہ بھی بتایا گیا کہ جو سرکیولر محکمہ تعلیم کی جانب سے جاری کیا گیا تھا اس میں یہ بات خصوصیت کے ساتھ درج تھی کہ کیا ان سرکاری ملازمین جو محکمہ تعلیم میں تعینات کوں ،کو پرائیویٹ کام کرنے کی اجازت ہوتاہم شکایت اس بات کی ہے کہ عدالت عالیہ کی جانب سے صادر کئے گئے فیصلے یہ سرکیولر سرکاری ڈاکٹروں کی نجی پریکٹس پر مبنی ہے ۔یہ بات بھی کہی گئی کہ ڈاکٹروں سے متعلق قواعد و ضوابط کو عدالت عالیہ میں پیش نہیں کیا گیا تھا اور ان قواعد کو خاطر میں لائے بغیر ہی عدالت عالیہ نے 11اگست 2005 کو جاری ہوئے سرکیولر کی بنیاد پر فیصلہ صادر کیا ۔حکومت نے سپریم کورٹ اور عدالت عالیہ کی ہدایات کی رو سے تمام سرکاری اساتذہ پر کسی بھی نجی تعمیلی ادارے یا کوچنگ سنٹر میں کسی قسم کی سرگرمی نہ کرنے کی ہدایت جاری کی ہے ۔اس حوالے سے محکمہ تعلیم کی جانب سے باضابطہ حکمنامہ صادر کیا گیا ہے ۔