سرکاری اراضی سے بے دخلی کے حکومتی عمل کے خلاف صوبہ جموں بپھر گیا راجوری اور پونچھ اضلاع میں جگہ جگہ لوگوں کے مظاہرے،حکم نامہ واپس لینے پرز ور

حسین محتشم +جاوید اقبال
پونچھ//جموں وکشمیر حکومت کی جانب سے سرکاری اراضی سے متعلق جاری حکم نامے کو لے کر جموں وکشمیر کے دیگر علاقوں کیساتھ ساتھ خطہ پیر پنچال کے مختلف علاقوں میں بڑے پیمانے پر احتجاج کا عمل شروع ہو گیا ہے ۔اپنی پارٹی لیڈران نے لوگوں سے سرکاری اراضی کی بازیابی کے لئے حکومت کی ہدایت پر شروع مہم کے خلاف پونچھ میں زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا۔ پارٹی ضلع صدر پونچھ اور سابقہ ایم ایل اے حویلی پونچھ شاہ محمد تانترے کی قیادت میں منعقدہ اِس احتجاج میں پارٹی کے سینکڑوں ورکروں نے حصہ لیا اور حکومت کیخلاف غم وغصے کا اظہار کیا۔ اس موقع پر شوریہ چکر کیپٹن بلراج دتہ بھی موجود تھے۔اپنے خطاب میں شاہ محمد تانترے نے کہاکہ وہ زمین مافیا جنہوں نے اقتدار کا غلط استعمال کر کے زمینوں پر قبضہ کیا کیخلاف ناجائز تجاوزات مخالف مہم کا وہ خیر مقدم کرتے ہیں لیکن وہ پونچھ میں سماج کے سینکڑوںکمزورطبقہ جات کے لوگوں کو لیکر فکر مند ہیں جنہیں محکمہ مال کی کارروائی واندراجات وغیرہ متعلق کوئی جانکاری نہ تھی اور اْن کی اراضی کی بھی ناجائز تجاوزات مخالف مہم کے لئے نشاندہی کی گئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ حکومت کومہم کوعملی جامہ پہناتے وقت زمین مافیا اور غرباکے درمیان فرق کرنا چاہئے نہیں تا سماج کے کمزور طبقہ جات اور غریب لوگوں پر حکومت کی اِس کارروائی کو بہت غلط اثر پڑے گا۔انہوں نے کہاکہ حکومت کے حالیہ اقدام سے سینکڑوں لوگ متاثر ہوں گے لیکن اپنی پارٹی ایسا ہونے نہیں دے گی۔ ہم کسی ایک بھی غریب کے گھرکو توڑنے کی ہرگز اجازت نہیں دیں گے اور حکومت کو چاہئے کہ وہ ایسی کسی بھی مہم سے باز رہے۔شاہ محمد تانترے نے کہاکہ انتظامیہ اقتدار کا غلط استعمال کر رہی ہے۔ لوگوں کے خلاف پے در پہ فیصلے لئے جارہے ہیں، حکومت کو چاہئے کہ جمہوری اداروں پر عوام کے اعتماد کی بحالی کے لئے ریاستی درجہ بحال کیاجائے اور اسمبلی انتخابات کا جلد سے جلد انعقاد ہوگا۔احتجاج کے بعد اپنی پارٹی لیڈران نے اپنے مطالبات پر مبنی ایک میمورنڈم ضلع ترقیاتی کمشنر پونچھ کو بھی پیش کیا۔ اِس احتجاج میں الحاج بشیر خاکی، سردار سورجن سنگھ، کیپٹن بلراج دتہ، سردار راجندر سنگھ، پروفیسر رگہوبیر سنگھ، غلام رسول جانباز، چوہدری جاوید، چوہدری غلام دین، بی کے بالی، عبدالجبار تانترے، اقبال تانترے، رشید صوفی، عمران خان وغیرہ بھی شامل تھے۔اسی طرح مینڈھر سب ڈویژن میں باجی فاروق خان کی قیادت میں لوگوں کی جانب سے زبردست احتجاج کیاگیا ۔اس موقع پر سابقہ ممبر اسمبلی مینڈھر جاوید رانا کیساتھ ساتھ دیگر کئی لیڈران نے بھی شرکت کی ۔جاوید رانا نے مظاہرین کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر انتظامیہ کا یہ حکم ایک آمرانہ قدم ہے جس کا مقصد چھوٹے کسانوں اور خاص طور پر دیہی علاقوں کے غریب لوگوں کی زندگی کو دکھی بنانا ہے۔ انہوں نے الزام لگاتے ہوئے کہ حکومت انسداد تجاوزات مہم کی آڑ میں عام لوگوں کو ہراساں کر رہی ہے۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جموں وکشمیر کی زیادہ تر اراضی معاشرے کے غریب اور معاشی طور پر کمزور طبقات کے قبضے میں ہے اور وہ اسے بنیادی طور پر زرعی مقاصد کے لئے استعمال کر رہے ۔سابقہ رکن اسمبلی نے کہا کہ یہ جموں و کشمیر اور اس کے عوام کی ستم ظریفی ہے کہ مرکز کی حکومت جو اس مرکز کے زیر انتظام علاقے کے معاملات کو پراکسی کے ذریعے چلا رہی ہے، عوام دشمن پالیسیوں پر عمل پیرا ہے اور من مانے طریقے سے عوام دشمن احکامات جاری کرتی رہتی ہے۔ دوسرے کے بعد اس طرح عام لوگوں کی پریشانیوں میں اضافہ ہوتا ہے۔راجوری کے قریب گرودھن بالا گاؤں کے لوگوں نے جموں و کشمیر حکومت کے نئے لینڈ آرڈر کے خلاف ایک احتجاجی مظاہرہ کیا اور اسے فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا۔گاؤں کے لوگ علاقے میں اکٹھے ہوئے اور ایک میٹنگ کی جس کے بعد ایک پریس کانفرنس ہوئی جس میں انہوں نے کہا کہ نیا لینڈ آرڈر حکومت کا اعلیٰ طریقہ ہے اور اس کا مقصد غربت کی لکیر سے نیچے کے لوگوں کو نشانہ بنانا ہے اور اس سے چھوٹے کسانوں کی زندگی بری طرح متاثر ہوگی۔ان کا کہنا تھا کہ حکومت کے پاس ریاست کے لوگوں کو ریلیف فراہم کرنے کا مینڈیٹ ہے لیکن یہاں جموں و کشمیر میں معاملات الٹ موڈ میں جا رہے ہیں ۔اس حکم کو فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے گرودھن بالا کے گاؤں والوں بشمول محمد اسلم، شفیع محمد اور دیگر نے کہا کہ اس حکم سے غریب خاندان اور چھوٹے پیمانے کے کسان پریشان ہیں اور لیفٹیننٹ گورنر کو خود اس صورتحال میں مداخلت کرنی چاہیے۔

جموں میں ڈی اے پی ،پی ڈی پی اور کانگریس کا احتجاج
جموں//جموں صوبائی دارالحکومت میں ڈیموکریٹک آزاد پارٹی،پی ڈی پی اور کانگریس نے پیر کے روز سرکار کی طرف سرکاری اراضی واپس لینے کے فیصلے کے خلاف احتجاج درج کیا۔ڈیموکریٹک آزاد پارٹی نے پانامہ چوک جموں میں احتجاجی مظاہرہ کیا۔مظاہرین نے ڈویژنل کمشنر آفس تک مارچ کیا اور میمورنڈم سونپا۔ جنرل سکریٹری ڈی اے پی آر ایس چِب نے کہا کہ پارٹی چیئرمین ڈی اے پی غلام نبی آزاد کی ہدایت پر حکومت کے زمین خالی کرنے کے حکم کے خلاف پرامن احتجاج کیاجارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر میں حقوق کے لیے کھڑے ہونے اور لڑنے کا وقت آ گیا ہے۔انکاکہناتھا “روشنی ایکٹ کے تحت زمین لوگوں کو سابقہ جموں و کشمیر ریاست کی مقننہ کے ذریعے الاٹ کی گئی تھی۔ اب یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ جو لوگ اس سکیم سے مستفید ہوئے تھے وہ زمین خالی کرنے پر مجبور ہیں، حالانکہ یہ معاملہ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے‘‘۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ جن لوگوں نے قانونی طور پر اراضی کی ملکیت حاصل کر رکھی ہے، حکومت ان کو زبردستی بے دخل نہیں کر سکتی۔ ان سخت سردیوں میں وہ کہاں جائیں گے‘‘۔انہوں نے کہا کہ سرکاری اراضی اورکاہچرائی کو واپس لینے اور اس ماہ کے آخر تک لوگوں کو زبردستی بے دخل کرنے کا حکم انسانی حقوق کی ڈھٹائی کیساتھ خلاف ورزی ہے،اس آرڈر نے ہزاروں لوگوں میں خوف و ہراس پھیلا دیا ہے۔ انہیں اس حکم سے راتوں رات بے گھر اور بے زمین ہونے کا خدشہ ہے۔ اسے فوری طور پر منسوخ کیا جائے ۔ صوبائی صدر جگل کشور نے کہا کہ “ڈی اے پی ان لوگوں کے ساتھ کھڑی ہے جو اس ایگزیکٹو آرڈر کا شکار ہو رہے ہیں۔ ہم اسے قبول نہیں کریں گے۔ صرف منتخب حکومتیں ہی لوگوں کی قسمت کا فیصلہ کر سکتی ہیں” ۔دریں اثنا پی ڈی پی نے بھی زمین واپس لینے کے مسئلے کو لے کر احتجاج درج کیا۔احتجاجی مظاہرین نے کہا کہ پی ڈی پی لوگوں کی جماعت ہے اور ہم کبھی بھی اس کے طرح کے قوانین کو لاگو نہیں ہونے دیں گے۔انہوں نے کہا کہ یہ قوانین غریب لوگوں کے خلاف ہیں اور ان کو لوگوں پر تھوپا جا رہا ہے۔ اس دوران جموںوکشمیر کانگریس کے جنرل سکریٹری اور ڈی ڈی سی ممبر شری شاہنواز چودھری کی قیادت میں کانگریس کارکنوں نے پریس کلب جموں کے باہر زبردست احتجاج کیا۔اس موقعہ پر شاہنواز نے میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے کہا”ایل جی انتظامیہ جموں و کشمیر کے پسماندہ لوگوں کے خلاف کام کر رہی ہے، جو کہ ناقابل برداشت ہے۔ ہم اس غیر منصفانہ اراضی نوٹیفکیشن کو واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ بی جے پی کے زیر کنٹرول انتظامیہ لینڈ مافیا کے کاروبار میں ملوث بڑے مگر مچھوں کو نہیں بلکہ غریب اور بے زمین لوگوں کوجڑ سے اکھاڑ پھینکنے کا منصوبہ بنا رہی ہے” ۔انہوں نے مزید کہا کہ ایل جی انتظامیہ کو اس غیر معقول اور غیر منطقی اراضی کے نوٹیفکیشن کے بعد چھوٹے اور پسماندہ کسانوں، غریب لوگوں کو اکھاڑ پچھاڑ سے بچانے کے لیے منصفانہ اور عقلی پالیسی مرتب کرنی چاہیے۔انکاکہناتھا کہ اگر اس غیر منصفانہ اور غیر معقول اراضی نوٹیفکیشن کو واپس نہیںلیاجاتا تو کانگریس پارٹی وسیع احتجاج شروع کرے گی۔

 

جموں وکشمیر میں قوانین کا مقصد لوگوں کی بے اختیاری:محبوبہ مفتی
جموں// پی ڈی پی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کا الزام ہے کہ قوانین تو عوام کی بہبودی کے لئے بنائے جاتے ہیں لیکن جموں و کشمیر میں قوانین لوگوں کو بے اختیار کرنے اور سزا دینے کے لئے بنائے جاتے ہیں۔بتادیں کہ پی ڈی پی نے پیر کے روز جموں میں سرکار کی طرف سے سرکاری زمین واپس لینے کے فیصلے کے خلاف احتجاج درج کیا۔اس احتجاج کے متعلق ٹویٹ کرتے ہوئے موصوف سابق وزیر اعلیٰ نے کہا: ’قوانین عوام کی بہبودی کے لئے بنائے جاتے ہیں لیکن جموں و کشمیر میں ان قوانین کو لوگوں کو بے اختیار کرنے، توہین کرنے اور سزا دینے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے‘۔انہوں نے ٹویٹ میں مزید کہا: ’تازہ ترین حکمنامہ اس لئے جاری کیا گیا کیونکہ مرکزی حکومت تمام ایجنسیوں کا غلط استعمال کرنے اور کالے قوانین بنانے کے باوصف مطلوبہ نتائج بر آمد کرنے میں ناکام ہوگئی‘‘۔

بے دخلی مہم کے نام پر ہراسانی بند کریں:نیشنل کانفرنس
جموں// جموں و کشمیر یوتھ نیشنل کانفرنس نے حکومت کی بے دخلی مہم پر تنقید کرتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا سے اپیل کی کہ وہ انسداد تجاوزات مہم کی آڑ میں عام لوگوںکی ہراسانی بند کروائیں۔ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی صدر یوتھ نیشنل کانفرنس جموں اعجاز جان نے حالیہ حکومتی حکم نامہ،جس میں ڈویژنل کمشنروں اور ڈپٹی کمشنروں کو رسرکاری اراضی پر سے تمام تجاوزات کو 31 جنوری 2023 تک ہٹانے کی ہدایت دی گئی ہے، کو محض ہراساں کرنے کا ایک سخت حکم قرار دیا۔جان نے زور دے کر کہا کہ زیادہ ترسرکاری اراضی سماج کے غریب اور معاشی طور پر کمزور طبقات کے قبضے میں ہے اور وہ اسے بنیادی طور پر زرعی مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا زیادہ تر معمولی پناہ گاہوں کے لیے۔ زمین پر زرعی سرگرمیوں سے حاصل ہونے والی معمولی آمدنی کے علاوہ ان لوگوں کے پاس آمدنی کا کوئی ذریعہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے لوگوں کا تحفظ اور بہبود حکومت کا اولین فرض ہے اور ایسے لوگوں کوسرکاری سرزمین سے بے دخل کرنا ان کے ساتھ سنگین ناانصافی کے مترادف ہوگا۔ سینئر این سی لیڈر نے حکومت کو متنبہ کیا کہ وہ عام اور غریب لوگوں کو ہراساں کرنے سے باز رہے اور مذکورہ متنازعہ حکم کو جلد از جلد واپس لے جس میں ناکامی پر پارٹی کے پاس عوام کو حکومت کی غلط پالیسیوں سے بچانے کے لیے سڑکوں پر آنے کا کوئی آپشن نہیں بچا ہے۔

ہراسانی بند نہ ہوئی تو سڑکوںپر آئیں گے: شان
نواز رونیال
رام بن // پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی جنرل سکریٹری امتیاز احمد شان نے سرکار پر الزام لگایا کہ وہ جموں کشمیر کے شہریوں کو سرکاری اراضی کے نام پر ہراساں کررہی ہے۔امتیاز احمد شان نے پارٹی دفتر میترہ رام بن میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے خطاب کرتے ہوئے دھمکی دی کہ اگر جموں و کشمیر سرکار نے سرکاری ارضی کے نام پر لوگوں کو پریشان کیا توانکی پارٹی سڑکوں پر احتجاج کرنے پر مجبور ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ حال ہی میں لیفٹیننٹ گورنر انتظامیہ کی جانب سے حکم نامہ جاری کیاگیاہے جس کی تعمیل میں سرکاری اراضی،روشنی ایکٹ اور کاہچرائی اراضی سے لوگوں کی بے دخلی کے لئے ضلع انتظامیہ کے حکم پر متعلقہ تحصیلداروں نے لسٹ تیار کرکے شائع بھی کر دی ہے جس سے پورے جموں کشمیر خاص کر خط چناب کے تینوں اضلاع رام بن ، ڈوڈہ اور کشتواڑ میں غریب لوگوں میں خوف اور دہشت کاماحول پیدا ہو گیا ہے ۔انہوں نے گورنر انتظامیہ سے حکم نامہ کو فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیااور انتبادہ دیا کہ ایسا نہ ہونے کی صورت میںپارٹی سڑکوں پر سرکار کے خلاف احتجاج کرنے پر مجبور ہوجائے گی۔