سرکاری اراضی سے بے دخلی کے حکمنامہ پر چناب و پیر پنچال میں شدیدبرہمی

ملک پورہ میں سیول سوسائٹی کا احتجاج، سرکار مخالف نعرہ بازی
اشتیاق ملک
ڈوڈہ //سرکاری اراضی سے بے دخلی کے حکمنامہ کے خلاف سیول سوسائٹی نے اتوار کے روز ڈوڈہ ضلع کی تحصیل چلی پنگل(بھلیسہ) میں ٹھاٹھری کلہوتران شاہراہ پر ملک پورہ کے مقام پر احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے مرکزی حکومت و ایل جی انتظامیہ کے مخالف نعرہ بازی کی۔ڈی اے پی لیڈر مشتاق احمد ملک، بھلیسہ یونائٹڈ فرنٹ صدر محمد حنیف ملک، پی ڈی پی نائب صدر ضلع سجاد حسین ملک کی قیادت میں مظاہرین نے یوٹی انتظامیہ کی جانب سے سرکاری اراضی سے ناجائز تجاوزات ہٹانے و قبضہ چھڑانے کے فیصلے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ دہائیوں سے غریب عوام ان زمینوں پر کھیتی باڑی کرکے اپنی زندگی گذر بسر کرتے آئے ہیں اور سرکار لوگوں کو راحت پہنچانے کے بجائے کئی طرح کی مشکلات پیدا کررہی ہے۔اس موقع پر بولتے ہوئے محمد اسحاق ملک، نثار حسین ملک، ذاکر حسین، یاسر حسین، ارشاد احمد نے کہا کہ مہنگائی و بے کاری نے پہلے ہی غریب و مزدور پیشہ افراد کا جینا مشکل بنا دیا ہے لیکن موجودہ سرکار آئے روز عوام مخالف قوانین نافذ کرتی ہے جو کہ انہیں قبول نہیں ہیں۔انہوں نے لیفٹیننٹ گورنر سے اس فیصلے پر نظرثانی کرکے اسے واپس لینے کا مطالبہ کیاَمظاہرین نے انتباہ کیا کہ اگر اس پر نظر ثانی نہیں کی گئی تھی تو وہ بلا لحاظ مذہب و ملت وسیع پیمانے پر احتجاج شروع کریں گے جس کے لئے ذاتی طور پر ذمہ داری انتظامیہ پر عائد ہو گی۔

 

راجوری ضلع صدر مقام کے پاس متعدد دیہاتیوںکا احتجاج
راجوری//راجوری ضلع ہیڈ کوارٹر کے قریب متعدد دیہات کے مکینوں نے جموں وکشمیر حکومت کی جانب سے جاری نئے لینڈ آرڈر اور منریگا مزدوروں کی حاضری کو لے کر شدید احتجاج کیا ۔منکوٹ، سدھیال، ٹھنڈی کسی ننگا نار گاؤں کے مکینوں نے جموں و کشمیر حکومت کے خلاف ایک احتجاجی مظاہرہ کیا اور منریگا میں روزانہ حاضری کے نئے نظام کو فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا۔احتجاج منکوٹ میں منعقد ہوا اور اس کی قیادت آزاد سیاسی رہنما یوگیش شرما نے کی ۔اس موقع پر مظاہرین نے جموں و کشمیر حکومت کے خلاف نعرے لگائے اور لیفٹیننٹ گورنر سے بغیر کسی تاخیر کے معاملے میں مداخلت کرنیکی اپیل کی ۔انہوں نے کہا کہ نئے لینڈ آرڈر جموں و کشمیر میں لاکھوں خاندانوں کو بے گھر کر دیں گے اور یہ غریب خاندان نوٹس جاری ہونے کی وجہ سے نیند کی نیند نہیں گذار رہے ہیں۔مظاہرین نے مانگ کرتے ہوئے کہاکہ اس حکم نامے کو جلدازجلد واپس لیا جائے تاکہ غریبوں کو ریلیف مل سکے ۔انہوں نے منریگا مزدوروں کے یومیہ حاضری کے نظام کو لے کر بھی انتظامیہ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ۔انہوں نے مانگ کرتے ہوئے کہاکہ دونوں حکم ناموں کے سلسلہ میں غریبوں کو ریلیف فراہم کی جائے ۔

 

پنچایتی نمائندگان بے دخلی مہم کا حصہ نہیں بنیں گے
ضرورت پڑنے پر عوام کیساتھ سڑکوں پر احتجاج بھی کریں گے:شرما
جموں//آل جموں و کشمیر پنچایت کانفرنس نے جموں و کشمیر حکومت کے حالیہ حکم نامے کی شدید مخالفت کی ہے جس میں محکمہ مال انسداد تجاوزات مہم کے نام پر تمام بے گناہ لوگوں کو ان کے گھروں اور دکانوں سے بے گھر کرنے کی تیاری کررہاہے ۔پنچایت کانفرنس صدر انیل شرما نے کشمیر ڈویژن سے منتخب پنچایت اراکین کے ایک وفد کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے یقین دلایا’’تنظیم جموں و کشمیر کے معصوم لوگوں کے خلاف ایسی کسی بھی انسانیت سوز کارروائی کی مخالفت کرتی ہے اور اس اقدام کی مخالفت کرے گی‘‘۔شرما نے میڈیاکو بتایا کہ انہیں پنچوں اور سرپنچوں نے مطلع کیا ہے کہ تحصیلدار، ایس ڈی ایم، اے سی آر اور اے ڈی سی سمیت ریونیو افسران اور کچھ معاملات میں ڈپٹی کمشنر بھی منتخب لوگوں پر دباؤ ڈال رہے ہیں۔ اس نام نہاد انسداد تجاوزات مہم میں پنچایت کے ممبران پولیس اور ریونیو افسران کی ٹیم میں شامل ہوں اور انہیں دھمکی بھی دی ہے کہ اگر پی آر آئی ممبران اس مہم میں انتظامیہ کا حصہ نہیں بنتے تو نتائج بھگتنے پڑیں گے۔انہوںنے کہا کہ پی آر آئی کا ایک رکن بھی جموں و کشمیر حکومت کے اس عوام دشمن اور آمرانہ فیصلے کی حمایت نہیں کرتا ہے جس سے بے گناہ لوگوں کو ان کی زمینوں، مکانوں اور دکانوں سے بے دخل کیا جائے جو کئی دہائیوں سے ان لوگوں کے قبضے میں ہیں ۔عوام کے ساتھ اے جے کے پی سی کی مکمل حمایت ظاہر کرتے ہوئے شرما نے واضح کیا کہ پنچایت کانفرنس عوام کے ساتھ کھڑی رہے گی اور پی آر آئی کا ایک رکن بھی حکومت کی ایسی کسی بھی مہم کا حصہ نہیں بنے گا۔پنچایت کانفرنس عہدیداروںنے کہا کہ40ہزار پنچایتی نمائندگان اس مسئلہ پر ایک ہیں اور حکومت کے اس فیصلے کی مخالفت کریں گے جس کے ذریعے ان کے گھروں اور ذرائع معاش کو نقصان پہنچا کر لوگوں کی زندگیاں تباہ کر دی جائیں گی جہاں وہ کئی بار بیٹھے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ پنچایت کانفرنس سڑکوں پر لوگوں کے حقوق کے لیے لڑے گی اور اگر ضرورت پڑی تو عوام کے لیے انصاف کے حصول کے لیے عدالت میں جائیں گے ۔ایک ممبر نے بتایا کہ حکومت کے اس فیصلے کے خلاف پنچایت کانفرنس بہت جلد بلاک اور تحصیل سطح پر دھرنا بھی دے گی۔

 

حکومت غریب کسانوں کو پریشان کرنا بند کرے : ہرش دیو
ادھم پور//سماج کے غریب اور پسماندہ طبقوں کو تجاوزات کے بہانے پریشان کرنے اور ان سے ریاستی اور جنگلات کی اراضی واپس لینے کے لیے حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے عام آدمی پارٹی کے سینئر لیڈرہرش دیو سنگھ نے کہا کہ سابق وزراء ، ایم ایل اے اور بیوروکریٹس پہلے اس معاملے میں یہ ثابت کریں کہ وہ خود اس گناہ سے پاک ہیں اور غریبوں، بے سہارا، غیر بااثر دیہاتیوں، خانہ بدوشوں اور دیگر بے گھر لوگوں کے خلاف بے دخلی کی کارروائی شروع کرنے سے پہلے اس معاملے پر اپنی صفائی جاری کریں۔انہوں نے کہا کہ غیر قانونی تجاوزات کے نام پر مراعات یافتہ طبقے کو چھوڑ کر غریب، نادار اور بے گھر افراد کے خلاف چناؤ کارروائی نہ صرف قابل مذمت ہے بلکہ گناہِ کبیرہ کے مترادف ہے۔ ادھم پور میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سنگھ نے سول سوسائٹی پر زور دیا کہ وہ موجودہ حکومت کی پالیسیوں کی مخالفت کرنے کے لیے آگے آئیں۔ سنگھ نے حکومت سے کہا کہ وہ سابق وزرا ، ایم ایل اے، ایم ایل سی، نوکر شاہوں اور دیگر طاقتور لوگوں سے جموں شہر کے آس پاس کے علاقوں کہ جیسے بھٹنڈی، سنجوان، چوادی، نگروٹا، بجالتا وغیرہ میں جنگلات کی زمین واپس لینے کی ہمت دکھائے۔ سنگھ نے ان تمام سابق وزراء ، قانون سازوں اور بیوروکریٹس کے خلاف مناسب کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا جنہوں نے قانون اور مساوات کے اصولوں کے خلاف سرکاری زمینوں پر قبضہ کیا تھا اور ساتھ ہی ان افسران کے خلاف بھی انکوائری کی درخواست کی جنہوں نے ٹیمپرنگ اور ریکارڈ کو نقصان پہنچا کر تعمیرات کی اجازت دی تھی۔ انہوں نے حکومت کو مزید متنبہ کیا کہ ریاستی زمینیں وزرا یا سرکاری افسران کی ‘جاگیریں’ نہیں ہیں اور کسی قسم کی پرواہ کیے بغیر تمام تجاوزات کے ساتھ ایک ہی جیسا سلوک کرنا چاہیے ۔صرف غریب اور بے سہارا لوگوں کے خلاف حکومت کی کارروائی کو ‘بزدلی قرار دیتے ہوے سنگھ نے حکومت سے کہا کہ وہ زمین مافیا اور بااثر لوگوں کو غیر قانونی قبضے کی زمینوں سے بے دخل کرنے کی ہمت دکھائے۔

 

غریب کسانوں سے نوالہ ، چھت نہ چھینیں: شیوسینا
جموں//شیوسینا کی جموں و کشمیر یونٹ نے جموں و کشمیر انتظامیہ کی طرف سے 31 جنوری تک سرکاری اراضی بشمول روشنی اور کاہچرائی سے 100 فیصد تجاوزات ہٹانے کی ہدایت کے جاری کردہ حکم پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے جموں و کشمیر کے عام لوگوں کو ہراساں کرنے کا ایک سخت حکم قرار دیا۔ جموں میں پارٹی کے ریاستی دفتر میں میڈیا کے نمائندوں سے خطاب کرتے ہوئے شیوسینا کے صدر منیش ساہنی نے روشنی ایکٹ کے تحت الاٹ کی گئی اراضی سے نام نہاد تجاوزات کو ہٹانے کے حکم پر حکومت سے سوال کیا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ مذکورہ اراضی پر قابض لوگوں نے زبردستی اس پر قبضہ نہیں کیا بلکہ جموں و کشمیر کی مقننہ کی طرف سے منظور شدہ روشنی ایکٹ نامی قانون کے تحت ان کو وہی جگہ الاٹ کی گئی ہے۔ مزید برآں، ان لوگوں کو روشننی ایکٹ کے تحت زمین کے حقوق اپنے نام پر رجسٹر کروانے کے لیے اپنی زندگی بھر کی کمائی ادا کر کے حاصل کیے اور اس کے بعد رہنے کے لیے مکانات کی تعمیر پر مزید خرچ کیا ۔ساہنی نے کہا کہ سرکاری زمین پر قبضہ کرنے والے بڑے مگر مچھوں کے خلاف کارروائی کی جانی چاہئے اورجموں و کشمیر انتظامیہ کو کسانوں اور غریبوں کو تباہ کرنے سے باز رہنا چاہئے۔ساہنی نے حکومت سے کہا کہ وہ غریب لوگوں کو ہراساں نہ کرے کیونکہ یہ لوگ برسوں سے ایک ساتھ چھوٹی کھیتی باڑی کر کے اپنی زندگی گزار رہے ہیں اور ان کا قصور صرف یہ ہے کہ انہوں نے اپنی زندگی زمین پر گزاری۔

 

انتظامیہ سرحدی دیہات میں بے دخلی مہم سے باز رہے:منجیت سنگھ
رام گڑھ//اپنی پارٹی کے صوبائی صد ر ایس منجیت سنگھ نے ضلع سانبہ کی سرحدی پٹی میں غریب کسانوں کو تنگ کرن ے پرانتظامیہ کو خبردار کیا ہے۔رام گڑھ حلقہ کے رنگور گاؤں میں ورکرس میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیر نے کہا کہ لوگوں کو بے دخلی کے نوٹس بے حس انتظامیہ کی بدقسمتی ہے۔انہوںںے کہا’’انہوں نے پہلے ان کسانوں کو بارڈر سیکورٹی فورس کی مدد سے سرحد کے ساتھ اپنی زمینوں پر کاشت کرنے میں مدد کی اور پھر ان کسانوں کو حکم جاری کیا گیا کہ ان کی زمینوں کو بے دخل کر دیا جائے گا۔ پسماندہ کسانوں کو بے گھر کرکے وہ زمین کا کیا کریں گے؟ کیا یہ فلاحی ریاست ہے؟” ۔انہوں نے کہا کہ “حکام معاشی طور پر کمزور طبقات کی بے دخلی کے حوالے سے انسانی المیے کے حوالے سے بے حس ہیں کیونکہ ان کے پاس کمانے کا کوئی ذریعہ نہیں ہوگا اور بہت سے لوگ اپنے گھروں سے محروم ہوجائیں گے”۔انہوں نے مزید کہا “حکومت کو ان قابل کاشت زمینوں اور غریب لوگوں کو ریگولرائز کرنا چاہیے جنہوں نے جموں و کشمیر میں اپنے مکانات تعمیر کیے ہیں تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ بے دخلی کی مہم غیر معمولی صورت حال میں تبدیل نہ ہو”۔

 

حکومتی فرمان واپس لینے کی مانگ
محمد بشارت
ریاسی //ضلع ریاسی کے چسانہ اے سے ضلع ترقیاتی کونسل کے ممبر غلام علی ملک نے جموں وکشمیر حکومت کی جانب سے سرکاری اراضی سے متعلق جاری شدہ حکم نامے کی شدید مخالفت کرتے ہوئے کہاکہ زمینوں سے بید خلی کے سلسلہ میں حکومت کی جانب سے جاری شدہ فرمان نا قابل قبول اور نا قابل برداشت ہے ۔انہوں نے کہاکہ اس حکم نامے کے بعد مقامی لوگوں نے غم و غصہ پایا جارہا ہے جبکہ انتظامیہ نے ایک منصوبہ بند طریقہ سے لوگوں کو پریشان کرنے کا پلان مرتب کرلیا ہے ۔انہوں نے کہاکہ اس سے قبل بھی حکومت کی جانب سے عوام کش پالیسیاں مرتب کی گئی ہیں تاہم اگر حکومت کی جانب سے مذکورہ حکم نامہ واپس نہیں لیاگیا تو اس سلسلہ میں شدید احتجاج شروع کر دیا جائے گا ۔ضلع ترقیاتی کونسل ممبر نے لیفٹیننٹ گورنر انتظامیہ سے مانگ کرتے ہوئے کہاکہ سرکاری اراضی سے متعلقہ جاری حکم نامے کو جلدازجلد واپس لیا جائے ۔