سرپنچ اور فوجی اہلکار کی ہلاکتوں کا معاملہ

کولگام +بڈگام//انسپکٹر جنرل پولیس (آئی جی پی) کشمیر زون وجے کمار نے پیر کو کہا کہ پولیس نے کولگام میں سرپنچ اور بڈگام میں ایک فوجی اہلکار کی ہلاکتوں میں ملوث ملی ٹینٹوں کے 4معاونین کو حراست میں لینے میں کامیابی حاصل کی۔گرفتار شدگان کی تحویل سے وہ ہتھیار بھی بر آمد کئے گئے ہیں جن سے جرم کیا گیا اور ایک گاڑی بھی ضبط کی گئی۔ان کا کہنا تھا کہ تحقیقات کے دوران معلوم ہوا ہے کہ آڈورہ کولگام میں سرپنچ کو حزب چیف فاروق نالی کی ہدایات پر مشتاق ا یتو نامی جنگجو نے مارا ۔انہوں نے کہاکہ کولگام پولیس نے حزب کے ایک گروہ کا پردہ فاش کرکے سر پنچ کی ہلاکت میں ملوث تین اعانت کاروں کو گرفتار کیا ۔ ’۔ایس ایس پی کولگام ڈاکٹر سندیپ چکرو تی نے پیر کے روز ایک پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ جمعہ کو آڈورہ کولگام میں سرپنچ شبیر احمد میرکے قتل میں ملوث سرگرم ملی ٹینٹوں کی شناخت ہو چکی ہے جبکہ قتل کی اس واردات کو انجام دینے کی خاطر ملی ٹینٹوں کی مدد و اعانت کرنے والے تین اعانت کاروں کو گرفتار کیا گیا ہے ۔انہوں نے بتایا کہ 11مارچ کے روز ملی ٹینٹ آڈورہ کولگام میں سرپنچ شبیر احمد میر کے گھر میں داخل ہوئے اور اندھا دھند فائرنگ شروع کی جس کے نتیجے میں سرپنچ شدید طورپر زخمی ہوا اور بعد میں اُس کی ہسپتال میں موت واقع ہوئی۔ انہوں نے کہاکہ سرپنچ شبیر احمد میر کی ہلاکت کے بعد پولیس نے اس ضمن میں ایف آئی آر زیر نمبر 32/2022 زیر دفعہ 7/27 آرمز ایکٹ کے تحت ایک کیس درج کرکے خصوصی تحقیقاتی ٹیم کا قیام عمل میں لایا۔  تحقیقات کے دوران معلوم ہوا کہ سرگرم جنگجو فاروق نالی عرف عمر کو پاکستانی ہینڈلرز کی جانب سے سرپنچ کو قتل کرنے کی ہدایت ملی اور بعد میں  مشتاق یتو عرف فیضان اور زبیر صوفی عرف فرہان کو سرپنچ کو مارنے کا کام سونپ دیا گیا۔انہوں نے بتایا کہ اس  گھناونے جرم میں تین معاونین دانش احمد ڈار ساکن موہن پورہ کولگام، فیصل حمید وگے ساکن آڈورہ کولگام اور نثار رشید بٹ ساکن ٹینگہ پورہ شوپیاں نے ملی ٹینٹوں کی مدد و اعانت کے ساتھ ساتھ گاڑی بھی فراہم کی ۔ایس ایس پی نے بتایا کہ خصوصی تحقیقاتی ٹیم نے تین اعانت کاروں کو حراست میں لے لیا اور اُن کے قبضے سے استعمال میں لائی گئی گاڑیوں کو بھی تحویل میں لے لیا گیا ہے ۔اُن کے مطابق گرفتار شدگان کے قبضے سے دو پستول ، تین پستول میگزین، گیارہ پستول گولیوں کے راونڈ، دو گرینیڈ ، ایک میگزین اور 15اے کے گولیوں کے راونڈ کے ساتھ ساتھ دوسرا قابل اعتراض مواد برآمد کرکے ضبط کیا گیا۔ادھر آئی جی کشمیر وجے کمار نے مزید بتایا کہ بیروہ کھاگ بڈگام میں چھٹی پر آئے ایک فوجی کو اغوا اور بعد میں قتل کرنیکا معاملہ ملی ٹینسی کا واقعہ ہے اور اس سلسلے میں ملی ٹینٹوں کا ایک اعانت کار گرفتار کر کے دیگر 3ملوثین کی شناخت کرلی گئی ہے۔ آئی جی پی کشمیر نے ٹویٹ میںکہا کہ اس سے قبل، پولیس نے کہا تھا کہ تمام زائویوں سے تفتیش کی جا رہی ہے اور آج پولیس کی تفتیش اس نتیجے پر پہنچی کہ یہ ایک ملی ٹینٹ کارروائی ہے۔ پولیس نے معاملے کے حوالے سے پہلے ہی ایک کیس درج کر کے مزید تحقیقات شروع کی ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ معاملہ میں ملوث تین ملی ٹینٹوں کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔یاد رہے کہ مہلوک فوجی اہلکار سمیر احمد ملہ کو 7 مارچ کو اپنے ہی گاؤں لوکری پورہ کھاگ سے لاپتہ ہوگیا تھا۔