سرنکوٹ میں کئی سکولی ڈھانچے تباہی کے دہانے پر

سرنکوٹ//سرنکوٹ اور بفلیاز بلاک میں کئی سرکاری سکولوں کی عمارتیں انتہائی خستہ ہوتی جارہی ہیں جبکہ چھت بھی رسنا شروع ہو گئے ہیں جس کی وجہ سے طلباء کی پڑھائی بُری طرح سے متاثر ہو رہی ہے ۔مقامی لوگوں نے بتایا کہ کووڈ کی وجہ سے سرکاری سکول بند پڑے ہوئے ہیں لیکن انتظامیہ کی لاپرواہی کی وجہ سے ڈھانچے تباہ ہو گئے ہیں ۔انہوں نے خدشہ طاہر کرتے ہوئے کہاکہ تعلیمی عمل بحال ہونے پر سکولوں میں بچوں کے بیٹھنے کیلئے جگہ بھی دستیاب نہیں ہو گئی ۔انہوں نے الزام عائد کرتے ہوئے کہاکہ متعلقہ حکام و تعمیر اتی ایجنسیوں کی لاپرواہی کی وجہ سے عمارتیں کچھ ہی عرصہ میں نا قابل استعمال ہوجاتی ہیں جس کی وجہ سے بچو ں کو اکثر کھلے عام بیٹھ کر تعلیم حاصل کرنا پڑتی ہے ۔انہوں نے کہاکہ بلاک بفلیاز اور بلاک سرنکوٹ کی سکولی عمارتیں غیر تسلی بخش مواد سے تعمیرہونے کی وجہ سے لمحہ فکریہ بن گئی ہیں۔مقامی لوگوں نے محکمہ تعلیم کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ محکمہ لگاتار لاپرواہیکا مظاہرہ کر رہا ہے اور محکمہ کے آفیسران کو جانکاری فراہم کرنے کے باوجود بھی کو ئی عملی قدم نہیں اٹھایا جارہا ہے ۔غور طلب ہے کہ درہ سانگلہ اپر، سانگلہ لوہر، سانگلہ ،گونتھل، دندی دھڑا، فضل آباد، سنگلانی مڑاہ، تراڑانوالی، دہڑاہ موڑاہ سیلاں بھونی کھیت ماہڑاہ ڈوگراں پوشانہ سنئی، پوٹھہ دھندک شیندرہ مرہوٹ جیسے علاقوں میں عمارتیں خستہ حال ہیں۔اگر چہ کچھ علاقہ میں عمارتیں معیاری ہیں لیکن ان اداروں میں ٹائلٹ کمپلیکس اور رسوئی گھر ودیگر سہولیات معیاری میسرنہیں ہیں ۔لوگوں نے بتایا کہ سب ڈویژن میں 70فیصد عمارتیں غیر محفوظ مقامات پر تعمیر کی گئی ہیں جس کی وجہ سے والدین بچوں کو سکول بھیجنے سے بھی ڈرتے ہیں ۔انہوں نے مانگ کرتے ہوئے سرکاری سکولوں کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لے کر ان کی مرمت اور تعمیر نو کا عمل شروع کیا جائے ۔