سرما کی دستک: خشک سبزیوں اور دالوں کی خریداری جوبن پر

سرینگر//وادی میں موسم سرما کی دستک کے ساتھ ہی وادی میں خشک سبزیوں اور دالوں کو ذخیرہ کرنے کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے ۔موسمی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے خشک سبزیوں اور دالوں کی مانگ میں بھی اضافہ ہوا ہے اور لوگوں کی ایک اچھی خا صی تعداد خشک سبزیوں کی خریداری میں مشغول نظر آتی ہے۔شہر کے مصروف بازاروں ککر بازار،کورٹ روڈ،ہری سنگھ ہائی سٹریٹ،مہاراجہ بازار،سرائے بالا،لالچوک اور دیگر بازاروں میں واقع دکانوں اور ریڈیوں پر خشک سبزی کے ڈھیر نظر آتے ہیں اور لوگ اپنی من پسند خشک سبزیوں اور دالوں کی خریداری کر رہے ہیں۔موسم سرما کے دوران خشک سبزیوں کا استعمال کرنے روایت وادی میں بہت پرانی ہے ۔اس کاروبار سے تعلق رکھنے والے تاجروں کو اِس سے بہتر خریداری کی امید ہے۔ان دنوں خریدار مختلف اقسام کی دالوں کے علاوہ سوکھی سبزیوںکی بھی خریداری کر رہے ہیں۔ 1990میں سرینگر سے نقل مکانی کرنی والی ایک پنڈت خاتون شیلا نے بتایا کہ انکا کنبہ سوکھی سبزیاں کھانے کی شوقین ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ دہلی جاتے وقت لازماً سوکھی سبزیاں اپنے ساتھ لیکر جائیں گی۔شیلا کا کہنا تھا” میں اپنی تہذیب اور ثقافت پر فخر محسوس کرتی ہوں،میں کچھ سوکھی سبزیاں یہاں سے ضرور لیکر ساتھ جاﺅں گی“۔مہاراجہ بازار میں عبدالاحد بکتو نامی سبزی فروش نے کہا ” سردیوں کے دوران سوکھی سبزیوں کی مانگ ہمیشہ بڑ جاتی ہے اور ہم اچھا کاروبار کر رہے ہیں“۔ڈاکٹر نثار الحسن کا کہنا ہے” ہمیں یہ معلوم ہی نہیں ہوتا ہے کہ ان سوکھی سبزیوں کو کس طرح تیار کیا جاتا ہے اور پھر کس طرح محفوظ کیا جاتا ہے،اس لئے یہ صحت کیلئے مضر ہوتی ہیں“۔انہوں نے کہا کہ کشمیر میں کینسر میں اضافے کی وجہ یہ بھی ہے کہ بڑے پیمانے پر سوکھی سبزیوں کا استعمال کیا جاتا ہے۔ نئی نسل اگر چہ سوکھی سبزیاں استعمال کرنے میں سرد مہری کا اظہار کرتی ہے،تاہم بزرگوں کیلئے موسم سرما میں ابھی بھی یہ سردیوں کی پسندیدہ غذا ہے۔