سرمائی تعطیلات کے بعد پیر پنچال کے سرمائی زون میں تعلیمی سرگرمیاں بحال بھاری برفباری کے بیچ طلاب کی سکول آمد | 50فیصد بچوں کی حاضری،برف میں چل کر آنا مشکل لیکن بچوںکے حوصلے بلند

عشرت حسین بٹ

پونچھ// وادی کشمیر کی طرح ضلع پونچھ کے سرمائی تعلیمی زونوں میں بھی پیر کوبھاری برفباری کے درمیان باضابطہ طور پر تدریسی عمل شروع ہو گیا۔ صوبہ جموں کے سرمائی زون کے تحت پڑنے والے تعلیمی ادارے یکم مارچ سے سرکار کی جانب سے تعلیمی سرگرمیوں کے بیچ کھول دیے گئے تھے تاہم دو اور تین مارچ کی شدید بارش اور برف باری کی وجہ سے ضلع ترقیاتی کمشنر پونچھ کے احکامات پر سرکاری و غیر سرکاری تعلیمی اداروں کو بند کر دیا گیا تھا ۔برف باری کے بعد ضلع کے سرمائی زون کے تحت پڑنے والے سرکاری و غیر سرکاری تعلیمی اداروں کو تدریسی عمل کیلئے کھول دیا گیا ۔ ضلع پونچھ کے لورن ،ساوجیاں ،منڈی،سرنکوٹ کے دور دراز علاقوں میں ابھی بھی برف جمع ہے جس کی وجہ سے شدید سردی بھی ہے لیکن اس کے باوجود بھی تدریسی عمل شروع ہو چکا ۔ تدریسی عمل کے پہلے دن جہاں اساتذہ کو ضلع کے دوردراز علاقوں میں برف کے بیچ پہنچنا پڑا وہیں طلباء و طالبات بھی برف پر چل کر سکولوں کو دو ماہ بعد لوٹے۔ اس موقع پر گورنمنٹ پرائمری سکول کھوڑی والا لورن کے محمد انیس نامی ایک طالب علم نے بتایاکہ وہ سردیوں کی تعطیلات کے دو ماہ بعد سکول لوٹے ہیں ۔ان کا کہنا تھا کہ انہیں بہت اچھا لگا مگر برف کے بیچ سکول آنا ان کے لیے کافی مشکلات کا سبب بنا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کا سکول لورن کے دوردراز علاقہ کھوڑی والا میں واقع ہے جہاں پر گزشتہ دنوں کافی برف باری ہوئی ہے جو آج بھی علاقے اور ان کے سکول کے احاطے میں پڑی ہوئی ہے جس کی وجہ سے صبح بہت پھسلن تھا اور سردی میں بھی بہت شدت تھی۔ انہوں نے کہا کہ آنے والے کچھ دنوں میں ہی ان کے امتحانات بھی شروع ہونے جارہے ہیں جس کے لیے سکول میں آکر پڑھائی کرنا ضروری ہے۔اس حوالے سے سی ای او پونچھ بشمبر داس نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ ضلع کے سرما ئی زون میں آج سے تدریسی عمل شروع ہوگیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ضلع کے بالائی علاقے جہاں پر تازہ برف جمع ہوئی ہے، ان سکولوں میں بچوں کی تعدد کم دیکھنے کو ملی۔ ان کا کہنا تھا کہ مجموعی طور پر 50فیصد بچے پہلے دن سکولوں میں حاضر ہوئے۔