سرسید احمد خان کی 201ویں سالگرہ

راجوری//گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج راجوری نے یوم سرسیدکے سلسلے میں ایک تقریب کااہتمام کیا۔اس دوران پروگرام کوعلی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے فارغ التحصیل طلباء اورکالج لٹریری کمیٹی کاتعاون حاصل تھا۔اس موقعہ پروگرام کی صدارت کالج ہذاکے پرنسپل ڈاکٹرجے اے قاضی نے کی ،جوکہ خودبھی اے ایم یوکے سابق طالب علم ہیں ۔اس دوران تقریب میں معززشہریوں،طلباء اورکالج کے عملہ نے شرکت کی۔اس دوران پروگرام کااستقبالیہ خطبہ پروفیسراسداللہ خان نے پیش کیااوربعدازاں ’’سیرسیداورجدیدتعلیم‘کے موضوع پرسمپوزیم منعقدکیاگیا۔ڈاکٹرجے اے قاضی نے سرسیداحمدخان کے مشن پرتفصیلی خیالات کااظہارکیا۔اس موقعہ پر پروفیسراقبال رینہ، ڈاکٹرمحمدسلیم وانی اورڈاکٹر عاشق ملک نے بھی مشن سرسیدکے مختلف پہلوئوں پرروشنی ڈالی۔ڈاکٹرانورشاہ،پروفیسراسداللہ خان اورڈاکٹراحسان رضوی سمپوزیم کے ججزتھے ۔اس موقعہ پر فرخندہ کوکب،اقصیٰ ڈار، وشرپریت سنگھ اورنوید احمدکوبالترتیب اول،دوم اورسوم پوزیشن کے انعام سے نوازہگیا۔ڈاکٹرسجرملک نے نظامت کے فرائض انجام دیئے جبکہ ڈاکٹرعبدالقیوم خان اورپروفیسرمنظوراحمدڈارنے بچوں میں انعامات تقسیم کئے۔اختتام پر شکریہ کی تحریک ڈاکٹرانورشاہ نے پیش کی۔

 ڈگری کالج مینڈھر

مینڈھر//شعبۂ اُردو اور این۔ا یس۔ایس یونٹ ،گو رنمنٹ ڈگری کالج مینڈھر کے اشتراک سے کالج میں سرسید کی دوسوایک سالہ یوم ولادت کے موقعہ پر ایک تقریب کا انعقاد کیا گیا جس کی صدارت کالج کے پرنسپل، پروفیسر سید شبیر حسین شاہ نے کی جبکہ ڈاکٹر عبدالروف ،رابطہ کار ،آئی۔کیو۔اے۔سی مہمانِ خصوصی تھے اور استقبالیہ خطبہ ڈاکٹر محمد لطیف میر نے پیش کیا جبکہ نظامت کے فرائض پروفیسر محمد اکرم نے انجام دیئے۔ تقریب میں کالج کے طلبہ نے بھی سرسید کی شخصیت کے مختلف پہلوئوں پر روشنی ڈالی۔ اس کے علا وہ فیکلٹی ممبران  نے سرسید کی مجموعی خدمات پر عالمانہ مقالات پیش کیے اور سرسید کی فکر کو عام کرنے پر زور دیا ۔مقالات پیش کرنے والوںمیں ڈاکٹر اعجاز احمد بانڈے ،صدر،شعبہ فارسی، ڈاکٹر جمیل احمد،صدر،شعبہ سماجیات خاص طور سے قابلِ ذکر ہیں۔  پروفیسر مرتضی احمد،صدر شعبہ سیاسیات نے سرسید کی سیاسی فکر پر روشنی ڈالی جبکہ پروفیسر تحسین عباس، شعبہ ریاضی نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ اپنے اندراعلی اخلاقی اقدار پیدا کریں اور سرسید کی تحریروں کا مطالعہ کریں۔ ڈاکٹر عبدالروف نے اپنے خطاب میں اس بات پر زور دیا کہ نئی نسل کے لیے لازمی ہے کہ وہ سرسیدکی  اجتہادی فکر کو اپنائیں۔ انھوں نے کہا کہ آج امتِ مسلمہ کے زوال کا باعث تقلید پسندی ہے جس کے خلاف سرسید نے انیسویں صدی میں جہاد کیا تھا۔ انھوں نے مزید کہا کے سرسید کی فکر ہمیں  مزیدغوروفکر اور تسخیر و اکتشاف کی جانب مائل کرتی ہیں۔  اپنے صدارتی خطبے میں پرنسپل، پروفیسر شبیر حسین شاہ نے سرسید احمد خان کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی یاد ہمارے حوصلوں کو مزید جلا بخشتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ طلبہ کو سرسید کا مطالعہ گہرائی سے کرنا چاہیے تاکہ ان کے اندرغوروفکر کا مادہ پیدا ہوسکے۔ انھوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ اپنے  اندرسرسید جیسی صفات پیدا کریں تاکہ ایک بہترین اور صالح معاشرے کی تخلیق ممکن ہو سکے۔ تقریب میں طلبہ کے علاوہ  فیکلٹی ممبران  جن میں پروفیسر شوکت حسین، شعبہ کیمسٹری، پروفیسر سرشاد حسین، شعبہ زولوجی، ڈاکٹر شکیل احمد، ڈاکٹر ذولفقار احمد،پروفیسر جاوید منظور، پروفیسر عمر ، پروفیسر امتیاز احمد، پروفیسر مدشراور پروفیسر فیاض لون نے بھی شرکت کی۔ آخر میں پروفیسر ایازاحمد چوہدری، پروگرام آفیسر این۔ایس۔ایس یونٹ نے شکریے کی تحریک پیش کی۔

پیرپنچال علیگ سوسائٹی 

مینڈھر//پیرپنچال علیگ سوسائٹی کے زیراہتمام یوم سرسیدکے حوالے سے پروگرام کا اہتمام کیاگیاجس کی نگرانی سابقہ طالب علم علی گڑھ مسلم یونیورسٹی شہباز خان نے کی۔ اس موقعہ پر پرویز احمد ،عبدل رزاق, پروفیسر اسد خان ،بشیر احمد ،جی اے میر ،محمد امین میر ،ماہ جبین مرزا ،شوکت جاوید نے مولانا سرسید احمد خان کے حالات زندگی اور تعلیمی میدان میں ان کی کارکردگی اور کارناموں پر روشنی ڈالی ۔مقررین نے کہاکہ مسلما نوں کو جہالت کے اندھیرے سے نکال کرسرسیداحمدخان نے زیورتعلیم  سے آراستہ کیا ۔انہوں نے کہاکہ  سرسید نے 1865ء میں مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی کے مد نظر مسلمانوں کے تعلیم کے میدان میں انگریزی اور سائنسی علوم کی تعلیم سے آراستہ کرنے کیلئے کافی مشقتکی۔ سرسید کے جانشین نواب محسن الملک نے مسلمانوں کی مناسب نمائندگی کے حوالے سے کچھ سوال اٹھائے ،اور قوم کے قریب ستر نمائندگان پر مشتمل ایک وفد لے کر گورنر جنرل کے پاس پہنچا۔ ہندوستان کی سیاست میں یہ پہلا موقع تھا جب مسلمانوں نے اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے اس قسم کا قدم اٹھایا۔ یہ کیا تھا؟ سرسید کی ان کوششوں کا نتیجہ کہ مسلمان کو مغربی تعلیم سے بے بہرہ نہیں رہنا چاہیئے۔ اس جدوجہد نے آگے چل کر جداگانہ تنظیم کی شکل اختیار کی اور 1906ء میں آل انڈیا مسلم لیگ کا وجود عمل میں آیا۔ جس کے جائنٹ سیکرٹری علی گڑھ تحریک کے روح رواں نواب محسن الملک اور وقار الملک تھے۔ لیگ کا صدر مقام بھی علی گڑھ ہی تھا۔ یہی وہ تنظیم تھی جو آگے بڑھتے بڑھتے تحریک پاکستان کی صورت اختیار کر گئی اور 1947میں یعنی سرسید کی وفات کے پچاس سال بعد مسلمانوں کی جداگانہ مملکت کے حسین پیکر میں نمودار ہوئی۔ اس تحریک آزادی میں وہی لوگ پیش پیش تھے جو یا تو علی گڑھ کے پروردہ تھے یا سرسید کی تعلیمی تحریک کے ماتحت قائم کردہ دیگر اداروں میں سے۔ انہوں نے علی گڑھ مدرسہ کا افتتاح کیا تھا یعنی 24مئی 1875ء میں، اس مدرسے نے صرف گریجوایٹس پیدانہیں کیے، مسلمان گریجوایٹس پیدا کیے تھے۔ سرسید وہ کام کر گئے جس نے دنیا کو ورطہ ٔحیرت میں ڈال دیا۔ جب مولانا حالی نے سرسید احمد خان کے سوانح حیات مرتب کرنے کا ارادہ کیا تو سرسید سے اس کی زندگی کے متعلق پوچھا۔ سرسید کا جواب تھا ’’میری لائف میں اس کے سوا کہ لڑکپن میں خوب کبڈیاں کھیلیں، کنکوے اڑائے، کبوتر پالے، ناچ مجرے دیکھے اور بڑے ہو کر نیچری، کافر اور بے دین کہلائے، اور رکھا ہی کیا ہے‘‘