سرزمین ظلم وجبر کی جولان گاہ :صحرائی

  سرینگر// تحریک حریت کے چیرمین محمد اشرف صحرائی نے وادی کے طول وعرض میں بالعموم اور جنوبی کشمیر میں بالخصوص نوجوانوں کو ظلم وستم اور پولیس کے عتاب کا نشانہ بنائے جانے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بستی بستی فورسز سڑکوں، گلی کوچوں اور چوراہوں پر ناکے لگاکر جوانوں سے موبائل فون چھین کر کیمپوں پر حاضری دینے کیلئے مجبور کرتے ہیں، جبکہ شہداء کے جنازوں میں شرکت کرنے پر پولیس جوانوں کو گرفتار کرکے ان کے خلاف 13-ULکے تحت ایف آئی آر درج کرکے اُن کی تعلیمی کیرئیر کے ساتھ کھلواڑ کرتی ہے، کیونکہ 13-ULکے تحت گرفتار شدہ طلباء کو 6ماہ تک عدالتوں سے ضمانتیں بھی فراہم نہیں ہوتی ہیں۔ صحرائی نے کہا کہ کولگام سے کئی وفود نے آکر شکایت کی کہ انتظامیہ اور پولیس جان بوجھ کر جوانوں کو تنگ کررہی ہیں اور پھر اُن کو گرفتار کرکے غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث قرار دے کر فرضی الزامات کے تحت جیلوں میں بند کرتے ہیں، جہاں 6ماہ تک اُن کو ضمانتیں فراہم نہیں کی جاتی ہیں اور پھر جب یہ نوجوان ضمانتیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں تو انتظامیہ اُن پر پی ایس اے لگاکر وادی سے باہر کی جیلوں میں منتقل کرکے اُن کے تعلیمی کیرئیر کو برباد کرتی ہے۔ صحرائی نے کہا کہ جموں کشمیر کی سرزمین ظلم وجبر کی جولان گاہ بنی ہوئی ہے، خصوصاً جنوبی کشمیر کے لوگ سخت عذاب وعتاب میں مبتلا ہیں۔ صحرائی نے انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ جموں کشمیر کے عوام کی چیخوں اور بے چینی کو محسوس کرکے ریاست کے عوام کو اس ظلم وجبر سے نجات دلانے میں اپنا کردار ادا کریں۔