سردی کے باوجود زوجیلاٹنل کی کھدائی کا کام جاری | 14.5کلومیٹر لمبی سرنگ کو4300کروڑروپے کی لاگت سے2024تک مکمل کیا جائیگا

کنگن//14.5کلومیٹر لمبی زوجیلاٹنل پراِن دنوں سخت سردی کے باوجود کام شدومد سے جاری ہے اور2024تک اس ٹنل کی تعمیر کاکام مکمل کرنے کیلئے 1200 انجینئر،ڈرائیور،آپریٹراوردیگر عملہ دن رات کام کررہا ہے۔ 4300 کروڑروپے کی لاگت سے تعمیر کی جارہی یہ ٹنل مکمل ہونے کے بعد ایشیاء کی سب سے لمبی ٹنل ہوگی۔میگاانفراسٹکچرکمپنی کی طرف سے تعمیر کی جارہی اس ٹنل کوایک برس میں5.5کلومیٹر کھدائی کا کام مکمل کیا گیا ہے۔کمپنی کے ایک انجینئربرہان اندرابی نے کشمیرعظمیٰ کو بتایاکہ برف باری کے بعد درجہ حرارت میں کمی کے باوجود ٹنل کی کھدائی کاکام دن رات جاری ہے اورٹنل میں کام کررہے عملہ جن کی کل تعداد1200ہے ،کے قیام وطعام کیلئے کمپنی نے سربل اور گمری میں بہتر انتظامات کئے ہیں،تاکہ عملہ کو برف باری کے دوران کسی قسم کی مشکلات کا سامنا نہ کرناپڑے۔معلوم ہوا ہے کہ تعمیراتی کمپنی کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ٹنل کو کسی بھی طور2024تک مکمل کریں۔ واضح رہے کہ موسم سرما کے دوران بھاری برفباری کی وجہ سے خطہ لداخ کا زمینی رابطہ وادی کشمیر سے چھ ماہ تک منقطع ہوجاتا ہے جس کی وجہ سے خطہ لداخ کے عوام کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتاہے اور یہاں کے عوام کو مجبوری کے وقت سرینگر یا جموں تک پہنچنے کے لئے جہاز کے ذریعے پہنچنا پڑتا تھا۔ لداخ اور کرگل کے لوگوں کا کہنا ہے کہ اب جب ٹنل تیار ہوگی تو ان کو موسم سرما کے دوران آمدورفت میں مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ موسم بہار میں بھی جب بارشیں ہوتی تھی تو زوجیلا پر پسیاں گرآنے کی وجہ سے کئی دنوں تک شاہراہ بند رہتی ہے جس کی وجہ سے مسافروں کو مشکلات کا سامنا ہوتاہے اور زوجیلا میں اکثر ٹریفک جام سے بھی لوگوں کو مشکلات پیش آتی ہیں انہوں نے بتایا کہ زوجیلا ٹنل مکمل ہونے کے بعد عوام کو راحت محسوس ہوگی ۔