سردار بدھ سنگھ

  تازہ خواہی داشتن گرداغ ہائے سینہ را
گاہے گاہے باز خوان ایں قصہ ء یار ینہ را
جموںوکشمیر کی سیاسی تحریک کی تاریخ میںآنجہانی سردار بد سنگھ کا نام ایک ہستی کا نام ہے جس کا ذکر کئے بغیر جموںوکشمیر میں سیاسی بیداری کی تحریک اور راجواڑہ شاہی کے خلاف مزاحمتی تحریک کی تاریخ ہر گز مکمل نہیں ہوسکتی، لیکن جیسا کہ عام دستور ہے کہ لوٹ کھسوٹ کرنے والے طبقے ہمیشہ کوشش کرتے ہیں کہ دبے کچلے عوام، دبی کچلی قوموں اور محنت کشوں کے جانبار رہنمائوں کے کارناموں کو اس طرح حرف غلط کی طرح مٹایا دیاجائے کہ ان کی شناخت ہی ناممکن ہوجائے۔ یہی سلوک جموںوکشمیر میںراجواڑہ شاہی کے خلاف سینہ سپر ہوکر مزاحمتی جنگ لڑی اور بیش قربانیاںدیں اور ان کی بجائے ایسے اشخاص کو ہیرو قراردیا گیا جارہاہے جنہوںنے دبے کچلے عوام ،محنت کشوں ،مزدوروں، کسانوں اور لوٹ کھسوٹ کا شکار لوگوں کی مزاحمتی تحریک کو کچلنے میںنمایاں حصہ لیا۔ جموںوکشمیر اس تاریخی بے انصافی کا زیادہ تر سہرا نیشنل کانفرنس کے سر ہے، جس کے موجودہ لیڈروں کومہاراجہ ہری سنگھ جیسے جابر حکمران جن کے عہد میں راجوڑہ شاہی کے خلاف زیادہ تر جنگ مزاحمت لڑی گئی ،کے مجسموں کی نقب کشائی، مہاراجہ کی تعریف وتوصیف کے لئے تو وقت اور فرصت بھی ہے اور اس کارکردگی میں لُطف ہی محسوس کرتے ہیں۔ مہاراجہ ہری سنگھ کے فرزند کرن سنگھ کے ساتھ یارانہ گانٹھنے میںفخر محسوس کرتے ہیں جوکہ آج مہاراجہ ہر ی سنگھ کے دور کو’’ سنہری دور‘‘ قراردیتے ہیں۔ انہیں مہاراجہ ہری سنگھ کے پوتے اجے شتروسنگھ کو اپنی صفوںمیں شامل کرکے منسٹر، ایم ایل اے اور ایم ایل سی بنانے میںکوئی قباحت معلوم نہیںہوئی لیکن سردار بدھ سنگھ جیسی شخصیت جس نے مہاراجہ ہری سنگھ کے مظالم، جبر وتشدد کے خلاف زوردار آواز بلند کی اور مصائب برداشت کئے اور اس جماعت کے صدربھی رہے، جس کے وہ آج کل لیڈر ہیں کانام زبان پر لانا گناہ سمجھتے ہیں اور اس جیسے دیگر لیڈروں کے نام بھی تاریخ کے اوراق سے حرف غلط کی طرح مٹانے کے لئے کوشاں ہیں، تاکہ ان کے نئے ہم جھولیوں کے ساتھ تعلقات میںکوئی رخنہ اندازی نہ ہوجائے۔ ہم ایسے محبان وطن کا ذکر کرکے نئی نسل کو ان کے کارناموں سے آگاہ کرنا اپنا فرض منصبی سمجھتے ہیں۔ اس غرض کے لئے ہم نے سرد ار بدھ سنگھ کے متعلق چند الفاظ قلم بند کرنے کی کوشش کی ہے۔
سرد ار بدھ سنگھ جموںوکشمیر کے جنوبی خطہ میرپور سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کاجنم میر پور کے ایک متمول خاندان میںہوا۔ اس لئے تعلیم حاصل کرنے کے بعد انہیں جلد ہی اعلیٰ سرکاری ملازمت مل گئی۔ وہ تحصیلدار بنے۔،افسر مال رہے، وزیر وزارت رہے ( آج کل اسے ڈپٹی کمشنر کہاجاتاہے) وہ پینٹ کوٹ پہنتے تھے،عیاشی کی زندگی بسر کرتے تھے ۔ مہاراجہ ہری سنگھ جو ابھی شہزادہ ہی تھے، کے ساتھ امر سنگھ کلب میں ٹینس کھیلاکرتے تھے لیکن دوران ملازمت جب انہوںنے محنت کش عوام کی حالت زار کا نزدیک سے مطالبہ کیا تو ان میںزبردست ذہنی تبدیلی آگئی۔ جب انہوںنے دیکھا کہ کھیتوںمیںکام کرنے والے کسان کوپیداوار کا ایک تہائی حصہ ملتاہے اور لینڈلارڈ 2/3حصہ ہڑپ کر جاتاہے۔ جب انہوںنے دیکھا کہ ایک ساہوکار کسان کو ضرورت کے لئے چندروپے دے کر اس کی ساری زمین ، جائیداد املاک قرق کروا کر اسے بندھوا مزدور بنالیتاہے۔ جب انہوں نے دیکھا کہ سرکاری اہل کار جوعموماً مہاراجہ کے تعلق دار ہوتے تھے۔ کار بگار کے سلسلہ میںسامان اُٹھو اکر بھوکے پیاسے لوگوں کوگلگت اور لداخ تک لے جاتے ہیں۔ ان کوصدمہ عظیم ہوا اور ان میں اس ظالم نظام کے خلاف بغاوت کے جراثیم پیدا ہوگئے۔ مہاراجہ پرتاپ سنگھ جو اس وقت حکمران تھے اور سردار بدھ سنگھ کی دیانت داری کی وجہ سے ان کے قدردان بھی تھے۔ ان کے پاس سردار صاحب نے انصاف کی عرضداشت کی لیکن ایک مطلق العنان مہاراجہ سے انصاف کی توقع بے سود تھی۔ اس لئے انہوںنے 1924میںاعلیٰ ملازمت وزیر وزارت کے عہدہ سے استعفیٰ دے کر راج دربار سے خلاصی حاصل کرلی اور جنگلوں، پہاڑوں کو ہساروں میں جاکر پرستش کرنے لگے کہ شائد اس راستہ سے مفلوک اُلحال عوام پر اوپر والے کورحم آجائے تو ان کی حالت سدھر جائے ،لیکن یہ راستہ بھی بے کار ثابت ہوا۔ اس تجربہ کے بعدا نہوںنے علامہ اقبال کے اس شعر پرعمل کیا     ؎

خدا کے بندے توہیں ہزاروں بنوں میںپھرتے ہیںمارے مارے

میں توبندہ بنوںگا اس کاجسے خدا کے بندوں سے پیار ہوگا

انہوں نے عوام کو بیدار کرنے اور عوام کی آواز حکمرانوںتک پہنچانے کے لئے کئی پمفلٹ لکھے، جن میں دودل ، کسان کی داستان حکمرانوں سے سے فریاد جیسے پمفلٹ قابل ذِکر ہیں۔ انہوںنے عوامی جتھ بندیاں بنانا شروع کیں۔ کسان سبھائیں اور مزدور انجمنیں ، وہ ڈوگرہ صدر سبھا کے صدر بھی رہے۔ جہاں ان کے خطبۂ ہائے صدارت کسان اور مزدور کے جذبات کے آئینہ دار ہیں۔ ان کی کاوشوں کی بناء پر جموںوکشمیر میں بیداری پیدا ہوئی اور لوگ ظلم وستم کے خلاف منظم ہونے لگے۔1929کا واقعہ ہے کہ جب مہاراجہ ہری سنگھ یوروپی ممالک میں سیرپر گئے ہوئے تھے۔ وہاں ان کے ہاں ولی عہد پیدا ہوا جن کانام کرن سنگھ رکھاگیا۔ شاہی محلات اور شاہ پرستوں کے گھروںمیں شادیانے بجائے گئے۔ روشنیاں کی گئیں۔ جشن منایاگیا۔ اس وقت سردار بدھ سنگھ نے پیرس میں ایک چٹھی اَرسال کی ، جس میںانہوںنے ریاستی عوام کی مفلوک الحال ، غربت، بے کسی، لاچاری، ظلم وتشدد ،جبرواستبداد، حکمرانوں کی کالی کرتوتوں کانقشہ کھینچاگیا تھا۔ آپ نے مہاراجہ سے اس چٹھی میں دریافت کیا کہ عوام ایسی حالت زارمیں کیا۔ان کاجشن منانا ٹھیک ہے ۔ اس وقت اس قسم کا استفسار بغاوت کے مترادف تھا۔ اس لئے مہاراجہ ہری سنگھ کے انگریز وزیراعظم ویگفیڈ نے سردار بدھ سنگھ کو گرفتار کرواکے قلعہ باہو کی ایک کوٹھری میں نظربند کردیا۔ سیاسی وجوہات اور عوامی بغاوت کے سلسلہ میں شائد یہ پہلی گرفتاری تھی۔ اس لئے سردار بدھ سنگھ کو جموں و کشمیر میںپہلا سیاسی قیدی قراردینے میںکوئی شک وشبہ نہیں۔ عرصہ کے بعد انہیںرہا کیاگیا لیکن راجواڑہ شاہی کے خلاف ان کی جدوجہد میںکوئی فرق نہیں آیا   ع  بڑھتاہے ذوق ِجرُم یہاں ہرسزا کے بعدوالامعاملہ ہوگیا۔ 1934میں جب گلنسی کمیشن کی سفارشات پر ریاست میں ایک بے اختیار اسمبلی کا قیام عمل میںآیا تو سردار بدھ سنگھ پونچھ میر پور کے سِکھ حلقہ انتخاب سے بلامقابلہ چنے گئے۔ اس نام نہاد اسمبلی کو پرجا سبھا کہاجاتاتھاجس کے ممبران کی اکثریت منتخبہ نہیں بلکہ نامزدہ ہوتی تھی۔ 75ممبران کی اس پرجا سبھا میں منتخبہ نمائندے صرف بتیس ہوتے تھے۔ ان میں سے اکیس مسلم ، نو ہند و اور دو سکھ ووٹر منتخب کرتے تھے۔ حق رائے دہندگی ہر بالغ باشندہ ریاست کو حاصل نہ تھا۔ بلکہ محدود جائیداد والے آٹھویں تک تعلیم یافتہ ہی ووٹرتھے۔باقی ممبرنامزد سرکار ہوتے تھے۔ اس غیر نمائندہ اور بے اختیار اسمبلی میں بھی سردار بدھ سنگھ نے مظلوموں ، دبے کچلے عوام، مزدوروں، کسانوں وغیرہ کے مسائل اُبھار کر زبردست کارنامہ سرانجام دیا۔ اسمبلی میں مسلم کانفرنس پارٹی جس کے سربراہ شیخ محمد عبداللہ اور چوہدری غلام عباس تھے کی تعداد اُنیس تھی۔ اس گروپ کے ساتھ سردار بدھ سنگھ کا باقاعدہ بل ورتن رہا اور مشترکہ کارگزاریاں ہوتی رہیں۔ حتیٰ کہ ایک بار مسلم کانفرنس کے ممبران نے پرجا سبھا کی رُکنیت سے بطورا حتجاج استعفیٰ دیا تو سردار بدھ سنگھ بھی اسمبلی رُکنیت سے مستعفی ہوگئے۔
 اس سے بڑھ کر مشترکہ کاروائی کی اور کیامثال ہوسکتی ہے۔ اسمبلی میں سردار بدھ سنگھ نے لینڈلاڈوں، ساہوکاروں وغیرہ استحصالی عناصر کے خلاف جوتقاریر کیں اور حق وراثت وغیرہ کے قوانین کی منسوخی کا جومطالبہ کیا۔ اس سے ان کے حلقہ انتخاب کے ووٹرخوش نہیںتھے لیکن ان کی پرواہ کئے بغیر اس سے بڑھ کر مشترکہ کاروائی کی اور کیامثال ہوسکتی ہے؟ اسمبلی میں سردار بدھ سنگھ نے حق وصداقت کی آواز بلند کرنے سے محض غرض براری کی خاطر دریغ نہیںکیا جو خال خال ہی دیکھنے میں آتاہے۔ پرجا سبھامیں مسلم کانفرنس سے وابستہ اراکین کے ساتھ کام کرنے اور مختلف معاملات پر ہم خیالی کے باعث اس وقت کی مسلم کانفرنس کے ساتھ سردار بدھ سنگھ کے قریبی روابطہ قائم ہوگئے اور شیخ عبداللہ کے ساتھ بھی مذاکرات شروع ہوگئے۔ اس وجہ سے مسلم کانفرنس کا دائرہ وسیع کرکے اسے تمام فرقوں پر مشتمل ایک قومی جماعت راجواڑہ شاہی کے خلاف مزاحمتی تحریک چلانے کا راستہ ہموار ہوگیا۔ یہ روابطہ اور مذاکرت دراصل مسلم کانفرنس کی نیشنل کانفرنس میںتبدیلی کا موجب اورباعث بنے۔ میر پور ضلع کی دوسری بڑی شخصیت راجہ محمد اکبر خان کو 1937کے مسلم کانفرنس کے اجلاس میں منعقدہ عید گاہ جموںمیں ایک تقریر کی بناء پر دفعہ 24ایف (بغاوت) رنبیر کوڈ پینل کے تحت پانچ سال کی سزا ہوئی تھی۔ اس کی اپیل ہائی کورٹ میںکرائی گئی تھی۔ ہائی کورٹ نے بھی تین سال کی سزا برقراررکھی۔ اس سزایابی کے خلاف مسلم کانفرنس نے حضرت بل سرینگر میں ایک احتجاجی جلسہ رکھاجس کی صدارت پنڈت کشپ بندھو نے کی۔ اس جلسہ میںعوام کے اصرار پر دوسرا جلسہ مائسمہ میں رکھاگیا۔ اس کی صدارت سردار بدھ سنگھ نے کی۔ اس جلسہ میں نیشنل ڈیمانڈ کے نام پر ایک مسودہ پیش کرکے منظور کیاگیا۔ اس کی پاداش میں مسلم کانفرنس کے لیڈروں کے علاوہ نیشنل ڈیمانڈ پر دستخط کرنے والے غیر مسلم اراکین کو بھی جیل بھیج دیاگیا۔ ان میں سردار بدھ سنگھ ، جیا لال کلم، کشپ بندھو، پریم ناتھ براز وغیرہ شامل تھے۔ اصل میں یہ گرفتاریاں ہی نیشنل کانفرنس کے قیام کا باعث بنیں۔جیل جانے والے لیڈروںمیں سردار بدھ سنگھ اور چوہدری غلام عباس کوریا سی جیل میںبھیجا گیا۔ اِسی دوران ماہ ِ رمضان آگیا۔ سردار بدھ سنگھ نے چوہدری صاحب مرحوم کے ساتھ سارے روزے باقاعدہ رکھے۔ بیشترازیں نیشنل کانفرنس کے قیام کے سلسلہ میں چوہدری صاحب کو کچھ ریزرویشن تھیں لیکن جیل میں سردار بدھ سنگھ کے ساتھ اکٹھے رہنے سے ان کے خیالات اور احساسات کو سمجھنے اور ان کے ساتھ مذاکرات کے باعث چوہدری صاحب نے بھی نیشنل کانفرنس کی قیام کی حمایت بخوشی کردی اور جب جیل سے رہا ئیوںکے بعد نیشنل کانفرنس کا قیام عمل میں لایاگیاتو چوہدر ی صاحب اس فیصلہ میں برابر کے شریک تھے اور اپنے جموی ساتھیوں کے ہمراہ نیشنل کانفرنس کے رُکن بنے۔ یہ الگ بات ہے، بعدازاں کیسے اور کیوںمسلم کانفرنس کا احیاء کیاگیاجس کے متعلق پھر کبھی لکھا جائے گا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ نیشنل کانفرنس کے قیام اور اس میںچوہدری غلام عباس اور مسلم کانفرنس کے دیگرجموی رہنمائوں کی شمولیت میں سردار بدھ سنگھ کا کافی حصہ ہے۔ نیشنل کانفرنس کے قیام اور نیشنل کانفرنس کی طرف سے راجواڑہ شاہی کو ختم کرکے ذمہ دار نظام حکومت کے قیام کا نصب العین  اپنانے سے سردار بدھ سنگھ انتہائی مسرت میںتھے اور عموماً یہ شعر گنگناتے  تھے    ؎

میںاکیلا ہی چلاتھا جانب منزل مگر

لوگ ساتھ آتے گئے کارواں بنتاگیا

حسن اتفاق ہے کہ اننت ناگ میںنیشنل کانفرنس کے خصوصی اجلاس کے بعد جب نیشنل کانفرنس کا باقاعدہ سالانہ اجلاس بارہمولہ میںمنعقد ہوا تو اس کی صدارت سردار بدھ سنگھ نے کی۔ سردار بدھ سنگھ دوبار متواتر نیشنل کانفرنس کے صدر منتخب ہوئے۔
(بقیہ بدھ کے شمارے میںملاحظہ فرمائیں)