! سرحدی کشیدگی کا لاحاصل عمل۔۔۔۔ عام لوگ کب تک نشانہ بنتے رہینگے

نیا سال شروع ہونے پر یہ امید قائم ہوئی تھی کہ شائد 2018کے برعکس 2019میں سرحدوںپر امن بحال ہوگا اور دونوں پڑوسی ممالک کی افواج کشیدگی کم کرتے ہوئے آر پاربس رہے عوام کو پُرامن زندگی بسر کرنے کا موقعہ فراہم کریں گی لیکن نیا سال شروع ہونے کے ساتھ ہی اس کشیدگی میں ایک بار پھر اضافہ ہوگیاہے اور راجوری پونچھ اور دیگر سرحدی علاقوں میں ایک طرح سے غیر اعلانیہ جنگ کا سماں ہے جس سے مقامی لوگوں میں خوف و دہشت کی فضا پائی جارہی ہے اوران میں سے جہاں کچھ لوگ  گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوگئےہیں تو کچھ اپنے ہی گھروں میں قیدیوں کی طرح محصور ہیں ۔پچھلے لگ بھگ دس روز سے حد متارکہ پر حالات کشیدہ ہیں اور ہندوپاک افواج کے درمیان روزانہ کی بنیاد پر فائرنگ اور گولہ باری کا تبادلہ ہورہاہے جس کے نتیجہ میں جانی نقصان بھی ہواہے ۔حد متارکہ پر ہورہی فائرنگ اور شدید گولہ باری ،جہاں فوجی ہلاکتوں کا باعث بن رہی ہے وہیں اس سے مقامی عوام بھی پریشان ہیں اور ان کی زندگی موت کے سائے تلے گزر رہی ہے اوروہی سب سے زیادہ اس کشیدگی سے متاثر ہوتے ہیں ۔کشیدہ حالات میں لوگ اپنے گھروں سے باہر نہیں نکل پاتے اور ان کی کھیتی باڑی کی سرگرمیاں متاثر ہونے کے ساتھ ساتھ طلاب کی تعلیم پربُرے اثرات مرتب ہوتے ہیں جنہیں دن کو سکول جانے کا موقعہ نصیب نہیںہوتا اور رات کو گولہ باری کے خوف سے ذہنی پریشانی ختم نہیں ہوتی ۔سرحدی مکینوں کیلئے پچھلا سال بھی انہی پریشانیوں میں بیت گیا اور کشیدگی کے حوالے سے سال 2018میں پچھلے پندرہ برسوں کے سارےریکارڈ ٹوٹ گئے جس دوران سب سے زیادہ جانی و مالی نقصانات ہوئے اور سب سے زیادہ مرتبہ جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیاں کی گئیں ۔وزارت دفاع کے اعدادوشمار کے مطابق بیتے برس2ہزار936مرتبہ جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کی گئی جس کے نتیجہ میں 61افراد لقمۂ اجل بنے جبکہ 250سے زائد زخمی ہوئے ۔سرحدی کشیدگی کم کرنے کے مقصد سے اگرچہ دونوں ممالک کے درمیان کئی مرتبہ فلیگ میٹنگیں منعقد ہوئیں ،جن میں اس بات پر اتفاق ظاہر کیاگیاکہ حد متارکہ اور بین الاقوامی سرحد پر امن و امان قائم کیاجائے گا لیکن نہ جانے ایسی کیا وجہ ہے کہ کشیدگی ختم کرنے پر اتفاق رائے پیدا ہوجانے کی باوجود گن گرج کا سلسلہ جاری رہتاہے اور امن کی سب کوششیں رائیگاں ثابت ہوتی ہیں ۔بدقسمتی سے دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے ساتھ پچھلے کچھ عرصہ سے مذاکرات کے دروازے بند کررکھے ہیں اور اس آپسی مخاصمت کا اثرواضح طور پر حد متارکہ پر دکھائی دے رہاہے اور اس غیر اعلانیہ جنگ میں ایک دوسرے کے خلاف طاقت آزمائی کی جارہی ہے ۔تاہم ہندوپاک قیادت کو یہ سمجھناہوگاکہ سرحدی کشیدگی ماسوائے جانی و مالی نقصان اور سرحدی مکینوں کو اذیت پہنچانے کے سوا کچھ بھی نہیں او رنہ ہی اس سے کھینچی گئی خونی لکیر تبدیل ہوجائے گی اور نہ ایک دوسرے کے خلاف جنگی محاذ پر سبقت حاصل کی جاسکے گی لہٰذا حد متارکہ کو حد امن میں تبدیل کرنے کیلئے افہام و تفہیم کا راستہ اختیا رکیاجائے اور لوگوں کے مسائل اورپریشانیوں میں اضافے کے بجائے انہیں امن و سکون کی زندگی بسر کرنے کا موقعہ فراہم کیاجائے ۔