سرحدی کشیدگی تعلیمی نظام پر اثرانداز

 مینڈھر//سرحدی تحصیل بالاکوٹ میں تعلیمی نظام سرحدی کشیدگی کے باعث بری طرح سے متاثر ہورہاہے ۔ہندوپاک افواج کے درمیان پائی جارہی کشیدگی اور روز روز کی فائرنگ وگولہ باری بالاکوٹ کے طلباء کیلئے پریشانی کا باعث ہے جنہیں سکولوںسے غیر اعلانیہ چھٹیاں کرنی پڑتی ہیں ۔مقامی لوگوں کاکہناہے کہ گولہ باری کے دوران  کئی درجن سکول بند ہو جاتے ہیں جس کی وجہ سے بچے تعلیم حاصل نہیں کر پاتے اور جب حالات ٹھیک ہوتے ہیں تو اساتذہ باری باری ڈیوٹی پر جاتے ہیں لیکن محکمہ تعلیم کے اعلیٰ آفیسران کوٹس سے مس نہیں اور وہ اس جانب کوئی توجہ نہیں دے رہے ۔محمد رقیب،عاشق حسین اور ریاض احمد کا کہناہے کہ اساتذہ نے ہفتے ہیں آنے جانے کے لئے دن مقرر کئے ہوتے ہیں جس کی وجہ سے سکولوں میں حاضری بھی بہت کم دیکھنے کو ملتی ہے اورچونکہ کئی سکول تار بندی کے اندر ہیں اس لئے ان تک جانے کی کوئی کوشش نہیں کرتا۔انہوںنے کہاکہ اس صورتحال کی وجہ سے بچے سب سے زیادہ متاثر ہورہے ہیں اور ان کا مستقبل تاریک بناہواہے ۔ان کاکہناہے کہ جو اساتذہ دور دور سے تار بندی کے اندر سکولوں میں تعینات کئے ہوئے ہیں وہ ہفتے ہیں ایک یا دو دن ڈیوٹی پر جاتے ہیں کیونکہ محکمہ تعلیم کا کوئی بھی اعلیٰ افسرسال میں ایک چکر بھی نہیں لگاتا جس کی وجہ سے اساتذہ لاپرواہی برتتے ہیں اور بچوں کی تعلیم متاثر ہو رہی ہے ۔لوگوں کہنا ہے کہ بالاکوٹ میں سکول جاناخطرے سے بھی خالی نہیں کیونکہ مسلسل کشیدگی پائی جارہی ہے ۔انہوںنے کہاکہ وہ بار ہا انتظامیہ سے اپیل کرچکے ہیں کہ سرحدی علاقہ میں بسنے والے لوگوں کے بچوں کی تعلیم کا خاص خیال رکھا جائے اوران کیلئے کوئی متبادل انتظام کیاجائے لیکن اس سلسلے میں کوئی بھی توجہ نہیں دی جارہی ۔