سرحدی کشیدگی تشویش کن مسئلہ :جماعت اسلامی

سرینگر//جماعت اسلامی جموں وکشمیر نے کہاہے کہ ہندوپاک ممالک کے درمیان سرحد پر جاری کشیدگی دونوں ممالک میں رہ رہے کروڑوں عوام کے لیے دردسر بنا ہوا ہے جس کو ہمیشہ ختم کرنے کیلئے اصل مسئلہ کی طرف توجہ دینا لازمی ہے تاکہ دونوں ممالک سے وابستہ عوام اس کشیدگی سے ہمیشہ کے لیے چھٹکارا حاصل کرسکیں۔جماعت کے ترجمان ایڈوکیٹ زاہد علی نے کہاکہ مسئلہ کشمیر ایک دیرینہ تنازعہ ہے جس کے پائیدار حل کی خاطر بھارت نے یہاںکے عوام کے حقیقی نمائندوں کے ساتھ مل بیٹھ کر کبھی بھی اس حل طلب مسئلہ کو مخلصانہ بنیادوں پر حل کرنے کی کوشش نہیں کی ۔یہاں کے کروڑوں عوام سے اقوام عالم کے سامنے یہ وعدہ کیا گیا تھا کہ مستقبل قریب میں کشمیری عوام کو اپنا سیاسی مستقبل طے کرنے کا بھر پور موقعہ فراہم کیا جائے گا مگر اقوام متحدہ 
کا ادارہ اس حوالے سے آج تک بری طرح ناکام رہاجو عالمی سطح پر صرف اس غرض سے وجود میں لایا گیا تھا کہ وہ مظلوموں اور مقہوروں کی حقوق کا تحفظ یقینی بنائے۔ کشمیری عوام کا دیرینہ مطالبہ ہے کہ سلامتی کونسل کی قرار دادوں کے عین مطابق انہیں اپنے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کرنے کا آزادانہ موقعہ فراہم کیا جائے مگر اقوام متحدہ کا ادارہ حقیقت سے واقف ہوکر بھی خاموش تماشائی کا رول ادا کررہا ہے اور اس طرح مظلوم کشمیریوںپر بھارت کی جانب سے علیحدگی پسند اور انتہا پسندی کا لیبل چسپاں کرکے ان پر ظلم کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں اور ان کی پرامن اور جمہوری آواز کو سبوتاژ کیا جارہا ہے۔ اس ظلم اور بربریت کے باوجود اقوام عالم یہاں ہورہی انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کا کوئی نوٹس نہیں لے رہی ہے ۔ جماعت اسلامی جموںوکشمیر ہندپاک سرحد پر جاری کشیدگی پر اپنی گہری فکرمندی کا اظہار کرتی 
ہے اور دونوں ممالک کے سربراہاں سے اپیل کرتی ہے وہ کشمیری عوام کی خواہشات اور اُمنگوں کا احترام کرتے ہوئے اُن کے حقیقی نمائندوں کے ساتھ مل بیٹھ کر اس دیرینہ تنازعہ کا منصفانہ، دیرپا اور قابل قبول حل تلاش کریں تاکہ خطہ میں پائی جارہی غیر یقینی صورتحال کو بہ آسانی سے رفع کیا جائے۔