سرحدی کشیدگی…جنگی جنون مسائل کا حل نہیں

 بھارت اور پاکستان کے درمیان تعلقات میں انتہائی کشیدگی پائی جارہی ہے اور نہ صرف دلّی اور اسلام آباد میں انتہائی جارحانہ بیان بازی کا سہارا لیکر ایک دوسرے پر نفسیاتی طور سبقت لینے کی کوشش کی جارہی ہے بلکہ دلی اور اسلام آباد کے دارالحکومتی شہروں سے دور منقسم جموں وکشمیر کی سرحدوں پر دونوں ممالک کی افواج دو دوہاتھ کررہی ہے اور آگ و آہن کا ایک ایسا کھیل شروع کیاگیا ہے جس نے اب تک حالیہ ایام میں کشمیر کے آرپاردرجنوں انسانی جانوں کو نگل لیا ۔ شدید نوعیت کی فائرنگ اور آتشی گولہ باری کے باعث آر پار کئی رہائشی مکانوںکو بھی شدید نقصان پہنچا تھاجبکہ سرحدی علاقوں میں کافی کشیدگی کی وجہ سے لوگوں میں خوف و دہشت کی لہر دوڑ گئی اور بڑے پیمانے پر نقل مکانی کا سلسلہ شروع ہوگیا ۔ماضی قریب میں جب بھارت اور پاکستان نے کشیدگی کے بیچ ہی ایک دوسرے کے سفارتی عملہ کو طلب کرنے کا سلسلہ شروع کیا تو اُسی وقت لگ رہا تھا کہ مفاہمت کے غبارے سے ہوا نکل چکی ہے اور مذاکرات نہیں ہونے والے ہیں تاہم اس کے باوجود امن کے متلاشی کشمیری عوام نے امید کا دامن نہیں چھوڑا تھا اور وہ اس امید میں تھے کہ تلخیوں کے باوجود مذاکرات ہونگے اور قیام امن کی کوئی سبیل نکالی جائے گی تاہم یہ امیدیں بھر نہ آئیں اور نہ صرف مذاکرات جارحانہ مواقف کی نذر ہوچکے ہیں بلکہ سرحدوں کا سکوت کچھ اس طرح غارت ہوگیا کہ اب وہاں صرف گولوں کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں۔یہ کس قدر ستم ظریفی کا مقام ہے کہ دونوں ممالک کی قیادت خود تو سرحدوں سے دور دلّی اور اسلام آباد کے عشرت کدوں میں محو آرام ہے لیکن ہزاروں کلو میٹر دور اس دشمنی کا نزلہ جموں وکشمیرکے عوام پر گرایا جارہا ہے ۔حالیہ آتشی گولہ باری میں جہاںدرجنوںجانیں تلف ہوئیں وہیں 60کے قریب لوگ زخمی بھی ہوگئے اور ان میں سے کئی کی حالت نازک بنی ہوئی ہے جبکہ بیسیوں مکانات بھی زمین بوس ہوگئے اور سرحدی علاقوں کے ہزاروں لوگ تنگ آمدبہ جنگ آمد کے مصداق اپنے گھر بار چھوڑ کر اپنے جان کی امان پانے کیلئے دور کہیں وحشتوں میں پناہ لینے پر مجبور ہوگئے ہیں۔گوکہ آرپار کی سیاسی و عسکری قیادت گولہ باری کے ان واقعات کو اشتعال انگیزی کانام دیکر ان ہلاکتوں کیلئے ایک دوسرے کو مورد الزام ٹھہرانے میں لگی ہوئی ہے تاہم سیاست کئے بغیر اگر اس انسانی المیہ کے ہر زاویہ کا بغور اور غیر جانبدارانہ جائزہ لیاجائے توہر عقل و فہم رکھنے والا آدمی اسی نتیجہ پر پہنچتا ہے کہ سرحدوں پر کشیدگی اور اس کشیدگی کے نتیجہ میں آرپار فوجی و شہری ہلاکتیں دراصل اُس تنازعہ کانتیجہ ہے جوتقسیم برصغیر کے وقت سے ہی دونوں ممالک کے درمیان چلا آرہا ہے اور وہ مسئلہ بدقسمتی سے سرحد کے آرپار مقیم کشمیریوں سے ہی تعلق رکھتا ہے۔دراصل کشمیر تقسیم برصغیر کا وہ ادھو را ایجنڈا ہے جو نہ صرف ان دونوں ممالک کے درمیان اب تک کئی جنگجوں کا مؤجب بن چکا ہے بلکہ اس وقت بھی فی الواقع مخاصمت اور منافرت کابنیادی سبب تصور کیاجارہاہے۔اس بات میں کوئی دورائے نہیں کہ 2003میں پاکستان کے سابق فوجی سربراہ جنرل پرویز مشرف اور اْس وقت کے بھارتی وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کے درمیان سرحدوں پر جنگ بندی کا معاہدہ ہوا تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ جب سے اب تک تواتر کے ساتھ دونوں جانب سے سرحدی جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کی شکایات موصول ہوتی رہی ہیں۔دوستی اور اعتماد کی فضاء مستحکم کرنے کیلئے جب اتنی شدت کے ساتھ کوششیں جاری ہوں تو دوسری جانب دِلّی اور اسلام آباد سے سینکڑوں کلو میٹر دور سرحدوں پر تنائو میں اضافہ ہورہاہے تویقینی طور پر کوئی اور رکاوٹ بھی ہے جو دونوں ممالک کو ایک ساتھ چلنے نہیں دیتی ہے۔بھلے ہی دونوں جانب سے اس رکاوٹ کو کھلے عام تسلیم نہ کیا جائے لیکن برصغیر کے کروڑوں لوگ بخوبی واقف ہیں کہ جس رکاوٹ کا نام لینے میں دونوں ممالک ہچکچارہے ہیں ،وہ رکاوٹ 1947سے مسئلہ کشمیر کا حل نہ ہونا ہے۔ یہ بات بھی سچ ہے کہ دونوں ممالک میں سیول سوسائٹی سے وابستہ افراد انسانوں کے ہاتھوں بنی سرحدوں میں قید غیر منقسم ریاست کے لوگوں کوآزاد فضاء کا احساس دلانے کیلئے سرحدوں کو نرم کرنے اور آرپار آمدرفت و تجارت کو بڑھاوادینے کی باتیں کررہے ہیں تاہم نہ صرف عملی طور اس سمت میں کچھ حوصلہ افزاء ہورہا ہے اور نہ ہی بنیادی مسئلہ کے حل کی جانب کوئی قدم اٹھایا جارہا ہے ۔اگر یہ مسئلہ نہ ہوتا تو شاید سرحدوں پر رہنے والے لوگوں کی جانیں یوں ضائع نہ ہوتیں اور نہ ہی سرحدوں کے آرپار آباد لوگوں کو ایک دوسرے کے انتہائی قریب ہونے کے باوجود کبھی نہ ملنے کا دردو کرب سہنا پڑتا۔سرحدوں پر اگلی چوکیوں کی تعمیر اور پھر ان چوکیوں میں چوکس رہنے والے فوجیوں پر روزانہ لاکھوں اور کروڑوںروپے کے خرچہ کی بنیادی وجہ بھی مسئلہ کشمیر ہی ہے۔آئے روز سرحد کے آرپار ہورہی انسانی ہلاکتیں دونوں ممالک کیلئے چشم کُشاہونی چاہئیں اور دونوں ممالک کو مصلحتوں کی چادر پھینک کراپنے عوام کی فلاح و بہبود کی خاطر کشمیر مسئلہ کو ہمیشہ کیلئے حل کرنے کے لئے اقدامات کرنے چاہئیں کیونکہ جب تک یہ مسئلہ ہے ،نہ صرف سرحدوں پر دائمی سکوت ناممکن ہے بلکہ آرپار بھی خوشحالی اور امن کے قیام کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوگا۔آرپار کشمیری دونوں ممالک کی رقابت کی وجہ سے مزید مصائب و مشکلات جھیلنے کے شاید متحمل نہیں ہوسکتے۔ سرحد کے آرپار فائرنگ کے ان واقعات کے خلاف عوام کا اظہار برہمی اس ابھرتی سوچ کی عیاں علامت ہے اور اس سوچ سے ہم آہنگ ہونے کی ضرورت ہے جس کیلئے دونوں ممالک کے سیاستدانوں کو روایتی پوزیشن چھوڑ کرووٹ بنک کی خاطر محض سیاست کرنے کی بجائے ٹھوس اقدامات کرنا ہونگے جن کے ثمرات زمینی سطح پر منقسم ریاست کے لوگوں کو مل سکیںورنہ دلّی اور اسلام آباد میں دوستی کے کتنے ہی بگل کیوں نہ بجائے جائیں ،دوستی نہ ہوپائے گی اور دونوں ممالک مخاصمت کی بھٹی میں جھلستے رہیں گے۔اس تناظر میں دونوں ممالک کے لئے مذاکرات کی بحالی کے سوا کوئی چارہ کار نہیں ہے کیونکہ صرف مذاکرات ہی مخاصمت کو ختم کردیتے ہیں۔