سرحدی وسفارتی کشیدگی بڑی تباہی کا پیش خیمہ:پروفیسر غنی

 سری نگر//سینئرمزاحمتی رہنماء پروفیسرعبدالغنی بٹ نے’ سرحدی اورسفارتی کشیدگی کوبڑی تباہی کاپیش خیمہ‘ قراردیتے ہوئے واضح کیاہے کہ ہندوپاک کے درمیان جموں وکشمیرکومرکزی حیثیت حاصل ہے ۔انہوں نے ’فکرمیں فتوراورعمل میں فسادکوخطرناک‘‘قراردیتے ہوئے خبردارکیاہے کہ ایسے رُجحانات سے معاشروں کی ہیت بگڑجاتی ہے ۔کے این ایس کوموصولہ بیان کے مطابق مسلم کانفرنس کے سربراہ پروفیسرعبدالغنی بٹ نے جامع مسجدتارزئومیں نمازجمعہ کے موقعہ پرایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیاکہ اُنکی جماعت مسلم کانفرنس چاہئے گی کہ علاقائیت اورمتخالف سیاسی رُجحانات چھوڑکرسب کابھلاہوکیونکہ سب ملکرہی آگے بڑھ سکتے ہیں ۔انہوں نے جموں وکشمیرمیں لائن آف کنٹرول پرجاری صورتحال کے تناظرمیں کہاکہ ٹکرائوکی حالت میں رہتے ہوئے کسی کابھلانہیں ہوگا۔مسلم کانفرنس کے چیئرمین کاکہناتھاکہ چونکہ جموں وکشمیرکودونوں ملکوں کے مابین جاری ٹکرائوکی صورتحال میں مرکزی حیثیت حاصل ہے ،اسلئے یہاں سے ہی ایک منظم اورمربوط آوازاُٹھاکرجوہری ہتھیاروں سے لیس دونوں ممالک کواپنی تاریخی ذمہ داریوں کااحساس دلاتے ہوئے اُن پرواضح کرناہوگاکہ مذاکرات کے بغیراُن کے پاس کوئی چارہ نہیں ۔پروفیسرغنی نے کہاکہ ہندوپاک کے حکمرانوں ،سیاستدانوں اورپالیسی سازوں کواسبات کافوری احساس اورادراک کرناچاہئے کہ جنوب ایشیائی خطے کومحفوظ بنانے اوراس خطے میں رہنے والے کروڑوں انسانوں کے روشن مستقبل کے عظیم مفادمیں مسئلہ کشمیرکاآبرومندانہ اورمستقل حل نکالاجائے۔انہوں نے کہاکہ دونوں ملکوں کی قیادت کویہ بات سمجھ لینی چاہئے کہ دوکی لڑائی تیسرے کافائدہ کے مصداق کچھ طاقتورممالک اپنے مفادات کی خاطراس خطے میں تنائو اورٹکرائوکووسعت دینے کے درپے ہیں ۔